ٹرائل کے بغیر موت بانٹنے پر مریم حکومت شدید تنقید کی زد میں

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کی زیرِ قیادت پنجاب حکومت کے دور میں جعلی پولیس مقابلوں میں سینکڑوں ہلاکتوں کی نشاندہی کے بعد صوبائی حکومت شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنان یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا ماورائے عدالت ہلاکتوں کی پاکستانی قانون میں کوئی گنجائش موجود ہے یا نہیں، اور اگر نہیں تو ان واقعات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

ایچ آر سی پی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں قائم کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے جعلی پولیس مقابلوں میں خطرناک ملزمان کو مارنے کی ایک منظم پالیسی اختیار کر رکھی ہے، جس کے نتیجے میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کی بڑی تعداد سامنے آ رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ طرزِ عمل انصاف کے تقاضوں اور قانون کی حکمرانی کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے کیونکہ بغیر ٹرائل کسی کو مجرم ٹھہرا کر قتل نہیں کیا جا سکتا۔ انسانی حقوق کمیشن نے جنوری تا اگست 2025 کے دوران کم از کم 670 پولیس مقابلوں کو دستاویزی شکل دی، جن میں 924 ملزمان ہلاک ہوئے جبکہ اسی عرصے میں صرف دو پولیس اہلکار جان سے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ہلاکتوں کا یہ عدم توازن ثابت کرتا ہے کہ یہ واقعات ایک ادارہ جاتی پالیسی کا نتیجہ ہیں۔

پنجاب میں جعلی پولیس مقابلے: عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ میں نشان دہی کی گئی ہے کہ ’تشدد اور حراستی اموات کے ایکٹ 2022‘ کے تحت ہر حراستی موت کی تحقیقات ایف آئی اے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی نگرانی میں کرنے کا پابند ہے، تاہم زیرِ جائزہ کیسز میں اس طریقہ کار پر عمل درآمد کے شواہد نہیں ملے۔
اسی طرح ضابطہ فوجداری کی دفعات 174 تا 176 کے تحت مجسٹریٹ کے ذریعے لازمی انکوائری بھی اکثر کیسز میں نہیں کرائی گئی۔ ایچ آر سی پی نے فوری اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات اور صوبے بھر میں پولیس مقابلوں پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹ میں متاثرہ خاندانوں پر دباؤ اور دھمکیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ بعض خاندانوں نے الزام لگایا کہ انہیں جلد از جلد تدفین پر مجبور کیا گیا اور قانونی چارہ جوئی کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ ادھر سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ادارہ آئین اور قانون کے دائرے میں کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق سی سی ڈی کو پولیس آرڈر 2002 میں ترمیم کے بعد قانونی بنیاد فراہم کی گئی اور یہ محکمہ اغوا برائے تاوان، گینگ ریپ، ڈکیتی کے دوران قتل، بچوں اور خواتین سے زیادتی، کار لفٹنگ اور تیزاب گردی جیسے سنگین جرائم کی تفتیش کرتا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سی سی ڈی کے قیام کے بعد پنجاب میں سنگین جرائم میں 70 فیصد اور قتل کے مقدمات میں 35 فیصد کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی اہلکار اختیارات سے تجاوز کرے تو اس کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے اور ’زیرو ٹالرنس‘ کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔

یاد رہے کہ پنجاب میں پولیس مقابلوں کا رجحان نیا نہیں۔ اپریل 1998 میں لاہور کے علاقے سبززار میں ہونے والے ایک جعلی مقابلے میں پانچ نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ اور موجودہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے خلاف بھی مقدمہ درج ہوا تھا، تاہم بعد ازاں عدالت نے انہیں بری کر دیا تھا۔ یہ واقعہ پولیس مقابلوں سے متعلق بحث کا ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ فوجداری مقدمات کے وکیل اسد جمال کے مطابق ماورائے عدالت قتل کسی بھی صورت قانونی جواز نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ریاستی تحویل میں کسی شخص کی موت ہو تو آئین اور فوجداری قوانین کے تحت کارروائی لازم ہے، مگر عملی طور پر اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

11 ارب کے جہاز کی خریداری: مریم حکومت کا جھوٹ بے نقاب

سابق انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس شوکت جاوید نے بھی واضح کیا کہ ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ کی نہ قانون اجازت دیتا ہے اور نہ عدالت۔ ان کے مطابق اگرچہ ایسے اقدامات سے وقتی طور پر جرائم میں کمی آ سکتی ہے، لیکن یہ پائیدار حل نہیں اور اس کے نتائج الٹ بھی ہو سکتے ہیں، جیسا کہ ماضی میں مختلف آپریشنز کے بعد دیکھنے میں آیا۔ انسانی حقوق کے حلقے اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ اگر مجرمانہ نظامِ انصاف کمزور ہے تو اس کی اصلاح کی جائے، نہ کہ ملزمان کو عدالت سے باہر سزا دی جائے۔ ماہرین کے مطابق اصل ضرورت پورے کریمنل جسٹس سسٹم کی اصلاح، شہادت کے قانون میں بہتری، اور تفتیشی نظام کو مضبوط بنانے کی ہے۔ لیکن ایچ آر سی پی کی رپورٹ نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال زندہ کر دیا ہے کہ کیا ریاست کو قانون کی حکمرانی کے نام پر قانون سے بالاتر ہو کر کارروائی کا اختیار دیا جا سکتا ہے، یا پھر ماورائے عدالت ہلاکتیں آئین اور انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہیں؟

Back to top button