مریم حکومت پنجاب کو پولیس سٹیٹ بنانے کی جانب گامزن

 

 

 

جعلی پولیس مقابلوں میں روزانہ کی بنیاد پر ملزموں کو پار لگانے کے الزامات کا سامنا کرنے والی مریم نواز کی پنجاب حکومت نے اب صوبے کو ایک پولیس سٹیٹ بنانے کی غرض سے پنجاب پولیس کو وسیع تر اختیارات دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کو قانون سازی کے ذریعے ایسے وسیع اختیارات دینے کا فیصلہ ہوا ہے جن کی مثال ماضی میں نہیں ملتی، چنانچہ ناقدین اسے شہری آزادیوں پر کاری ضرب کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے قوانین کا مقصد سیاسی مخالفین کو دبانا ہے۔

 

پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے حال ہی میں ایک ایسے قانون کی منظوری دی ہے جو پولیس اور انتظامیہ کو نئے اور غیر معمولی اختیارات فراہم کرتا ہے۔ پولیس آرڈر (دوسری ترمیم) ایکٹ 2025 کے تحت نہ صرف پولیس کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں بلکہ احتجاج، جلسوں اور عوامی اجتماعات میں ملوث شہریوں کے خلاف سخت ترین اقدامات کی راہ بھی ہموار کی جا رہی ہے۔ مجوزہ قانون کے مطابق صوبے بھر میں ہائی سکیورٹی زونز قائم کیے جا سکیں گے، جہاں احتجاج، جلسے جلوس اور کسی بھی قسم کے عوامی اجتماع پر پابندی عائد ہو گی۔ اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو تین برس تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔ پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں، تاہم انسانی حقوق کے کارکنان اسے آئینی آزادیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں۔

 

نئے مجوزہ قانون کے تحت ایک انسداد ہنگامہ آرائی فورس بھی بنائی جا رہی ہے، جو احتجاج کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے خصوصی طور پر تشکیل دی جائے گی۔ اس یونٹ کا سربراہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ہوگا اور اسے جدید تربیت اور جدید ہتھیار فراہم کیے جائیں گے۔ یہ فورس صوبے میں فسادات اور غیرقانونی احتجاج کے خلاف کارروائی کرنے کی مجاز ہو گی۔

نئے قانون کے مطابق کسی بھی علاقے کو حساس قرار دے کر وہاں جلسوں، جلوسوں اور احتجاج پر پابندی عائد کی جا سکے گی۔ ضلعی ڈپٹی کمشنر کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ کسی بھی مقام کو ہائی سکیورٹی زون قرار دے، جہاں عوامی اجتماع کے لیے پیشگی اجازت لینا لازمی ہو گا۔ بغیر اجازت اجتماع کرنے کی صورت میں تین برس تک قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ جبکہ عام علاقوں میں بلا اجازت اجتماع پر ایک برس تک قید اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی تجویز کی گئی ہے۔

 

اس کے علاوہ پنجاب پولیس کو اجتماعات میں استعمال ہونے والا سامان ضبط کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کی ہوم کمیٹی نے پولیس آرڈر 2002 میں ان ترامیم کی منظوری دی ہے، جن کے تحت انسداد ہنگامہ آرائی یونٹ کے نام سے پولیس کا ایک خصوصی ڈھانچہ قائم کیا جا رہا ہے۔ اس یونٹ کے ذریعے انتظامیہ اور پولیس مل کر کسی بھی علاقے کو حساس قرار دے سکیں گے۔ اس کے علاوہ انہیں شہریوں سے کوئی بھی علاقہ خالی کروانے اور سڑکیں بند کرنے کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔

 

ادھر پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ تمام اقدامات صوبے کا نظم و نسق برقرار رکھنے، پرتشدد احتجاج روکنے اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔ تاہم قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس قانون کے نتیجے میں آئین کے تحت پرامن اجتماع کی آزادی بری طرح متاثر ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ سخت سزائیں، غیر ضمانتی جرائم اور پولیس گردی کو قانونی تحفظ دینا عوامی حقوق کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کی وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ربیعہ باجوہ نے نئے قانون پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایک پولیس سٹیٹ کے باسی بننے جا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ صرف اور صرف سیاسی آوازوں کا گلا گھونٹنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ پہلے کسی جگہ کو حساس قرار دینے کے لیے مضبوط وجوہات درکار ہوتی تھیں، اب یہ مینارِ پاکستان گراؤنڈ کو بھی حساس قرار دے دیں گے۔ عدالتیں پہلے ہی ہاتھ کھڑے کر چکی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہم تیزی سے ایک سخت گیر نظامِ حکمرانی کی طرف بڑھ چکے ہیں۔

 فیض حمید کورٹ مارشل ہونے والے چکوال کے تیسرے فوجی افسر

واضح رہے کہ پنجاب میں پولیس اور انتظامیہ کی طاقت اور اختیارات میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سال 2025 میں سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت بڑے شہروں میں نگرانی کے لیے ہزاروں کیمرے نصب کیے گئے، جن کی فوٹیج کو اب عدالتوں میں بطور ثبوت استعمال کرنے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔ اسی طرح کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ اور دیگر خصوصی پولیس یونٹس کے قیام نے پولیس کے دائرہ اختیار اور صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اس سے قبل مریم نواز حکومت پولیس اہلکاروں سے ہاتھا پائی کرنے والوں کے لیے سات برس قید کی سزا کا قانون بھی منظور کروا چکی ہے۔

 

قانونی ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ پولیس اہلکاروں کے تحفظ کے لیے پہلے ہی قوانین موجود ہیں۔ تعزیراتِ پاکستان کے سیکشن 353 کے تحت پولیس اہلکار کو دھمکانے یا اس کے فرائض میں رکاوٹ ڈالنے پر دو سال قید یا جرمانہ مقرر ہے، جبکہ سیکشن 332 کے تحت سرکاری ملازم پر حملے کی سزا تین سال قید ہے۔ اسکے علاوہ وفاقی ’پروٹیکشن آف پاکستان ایکٹ 2014‘ میں سرکاری افسران پر حملوں کو دہشت گردی کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت دس سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اس کے باوجود پنجاب حکومت نے پولیس اہلکاروں سے مخصوص طور پر ہاتھا پائی پر اینٹی رائٹ ایکٹ کے تحت سات سال قید کا قانون منظور کیا ہے۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں سے ہاتھا پائی پر سات سال قید کی سزا حد سے زیادہ سخت ہے۔

 

Back to top button