مریم پنجاب میں پیپلز پارٹی کے کون سے مطالبات ماننے پر مجبور ہوئیں

 پنجاب میں دو حکومتی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی میں تلخی محبت میں بدلتی دکھائی دیتی ہے۔ ماضی قریب میں پیپلز پارٹی رہنمائوں کی جانب سے توپوں کا رخ نون لیگی قیادت کی جانب کرنے کے بعد پی ٹی آئی حلقوں کی جانب سے دعوی کیا جا رہا تھا کہ پنجاب میں سانجھے کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھو ٹنے والی ہے۔ تاہم مریم نواز کی پنجاب حکومت نے پیپلزپارٹی کے تمام مطالبات مانتے ہوئے عمرانڈوز کی خواہشات پر پانی پھیر دیا ہے۔ تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق ہُوبہُو ویسی تو نہیں لیکن پنجاب میں پیپلز پارٹی کی موجودہ صورت حال حالیہ سیاسی تاریخ میں متحدہ قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم کی حکمتِ عملی سے مِلتی جُلتی ہے۔’موجودہ صورت حال ایم کیو ایم کی حکومتِ وقت سے اپنی باتیں منوانے کے لیے ’منہ بسورنے‘ سے لے کر حمایت ختم کرنے تک کی دھمکیوں جیسی مشابہت ضرور رکھتی ہے، لیکن ’سیانی‘ ن لیگ بات منہ بسورنے سے آگے جانے کا موقع ہی نہیں۔

تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ پیپلزپارٹی کے مطالبات کیا تھے جن کو نہ ماننے پر دونوں جماعتوں میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر علی حیدر گیلانی کے مطابق’ہمارے مسائل بڑے سنجیدہ تھے۔‘’جب پیپلز پارٹی نے وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومتوں کی حمایت کا اعلان کیا تھا تو اس وقت دونوں جماعتوں کے درمیان پنجاب کی حد تک ایک تحریری معاہدہ بھی ہوا تھا۔‘’ ہم نے لیگی قیادت کو اپنے مسائل سے  آگاہ کر دیا ہے۔ اس پر ہمیں یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ ہمارے تمام مسائل حل کیے جائیں گے۔‘جب علی حیدر گیلانی سے یہ سوال پوچھا گیا کہ آپ کا سب سے بڑا مطالبہ کیا تھا؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ’سب سے بڑا مسئلہ ہمارے پنجاب کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور ضلعی سطح پر عمائدین کو فنڈز کی فراہمی ہے تاکہ وہ اپنے حلقوں میں کام کروا سکیں۔‘پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ ’ہمیں کہا گیا ہے کہ ستمبر کے آخر تک فنڈز جاری کر دیے جائیں گے۔ ہم عمائدین کی فہرست پنجاب حکومت کو فراہم کر دیں گے۔‘’ہمارا دوسرا مطالبہ وفاق اور پنجاب میں معاہدے کے مطابق لا افسران کی تعیناتی تھی، طے یہ پایا تھا کہ اسمبلیوں میں ہماری سیٹوں کے تناسب سے ہمارے وکلا کو ملازمتیں دی جائیں گی۔‘علی حیدر گیلانی نے بتایا کہ ’اس پر بھی اب ہم مطمئن ہیں، جبکہ تیسرا بڑا مطالبہ ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اداروں میں ہماری مرضی کے مطابق تقرریاں کرنا ہے،’اس پر حکومت ہمیں فہرست دے گی کہ وہ کہاں کہاں ہمیں ایڈجسٹ کر سکتے ہیں، اس لحاظ سے ہم انہیں اپنے ناموں کی لِسٹ مہیا کریں گے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن سے صوبے میں قانون سازی پر بھی اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا جو بظاہر مان لیا گیا ہے۔‘

اس صورت حال پر بات کرتے ہوئے تجزیہ کار وجاہت مسعود کا کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی جس بندوبست کے ذریعے اکٹھے کام کر رہے ہیں اس میں سے کسی ایک کا نکلنا بھی محال ہے۔‘’اس طرح کے نظام میں ہر سیاسی پارٹی اپنے مفادات کو بھی مقدم رکھتی ہے چاہے وہ ایم کیو ایم ہو یا پھر پیپلز پارٹی یا کوئی اور جماعت۔ یہ ایک سادہ سی جمع تفریق ہے کہ سیاسی مفادات کو حاصل کرنے کے لیے تمام توانائی صرف کی جائے۔‘ان کے مطابق ’پیپلز پارٹی کا مفاد پنجاب میں اپنی جگہ دوبارہ بنانا ہے اور اس کے لیے یقینی طور پر اُن کے نامزد کیے گئے نمائندوں کے ذریعے فنڈز کے استعمال سے انہیں فائدہ ہونے کی توقع ہے۔‘انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’پارلیمنٹ کے اندر کمزور حکومتوں کو بلیک میلنگ کا ہمیشہ سامنا رہتا ہے۔ چاہے کوئی بھی ملک ہو۔ اقتدار کے ساتھ ساتھ ایسی آمیزشیں بھی ہوتی ہیں۔‘

Back to top button