ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے مولانا ڈیزل اور کپتان

بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے۔۔۔۔ کہتے ہیں محبت، جنگ اورسیاست میں ہر بات جائز ہے۔ سیاسی میدان میں بعض دفعہ اقتدار اور ذاتی مفادات کی ہوس میں سیاستدانوں کو اپنا تھوکا بھی چاٹنا پڑتا ہے۔ اسی طرح کی صورتحال مولانا فضل الرحمن اور عمران خان کے شیر و شکر ہونے کے دوران سامنے آ رہی ہے۔ ماضی قریب میں عمران خان کو یہودی ایجنٹ، شرپسند فتنہ اور اسلام دشمن قرار دینے والے مولانا فضل الرحمن اب انھیں جمہوریت پسند اور مسیحا قرار دے رہے ہیں جبکہ ماضی میں مولانا فضل الرحمن کو فضلو، مولانا ڈیزل اور بکاو مال قرار دینے والے عمران خان کی جماعت تحریک انصاف، جے یو آئی کیلئے عمران خان کی دوستی کا پیغام لے کر ان کے در پر پہنچ چکی ہے۔یہ کہنا شاید غلط نہ ہوگا کہ بے وفاؤں کی وجہ سے دونوں متحارب جماعتیں ایک پیج پر آ چکی ہیں۔

وہی فضل الرحمان جنہیں عمران خان مختلف القابات دیتے تھکتا نہیں تھا اسی کی جماعت تحریک انصاف کا وفد اپنے ماضی کے سب سے بڑی سیاسی حریف مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کیلئے ’’صلح کا سفید پرچم‘‘ تھامے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر پہنچ گیا۔ جہاں مولانا فضل الرحمان نے عمران خان کے نمائندے اسد قیصر سے پرجوش معانقہ کرتے ہوئے ان کا خیرمقدم کیا۔ تو یہ منظر میڈیا پر دیکھنے والوں کیلئے بعض حلقوں، طبقوں اور سیاسی شخصیات کیلئے اس شعر کی عملی تفسیر بن گیا ’’دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو‘‘۔ حالانکہ عمران خان نے حضرت صاحب کی شان میں گستاخی کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیا تھا.مولانا صاحب کے بارے میں مختلف مواقعوں پر انہوں نے ایسے سخت ریمارکس بھی دیئے جو ایک عالم دین کے ہرگز شایان شان نہیں تھے جو یہاں نقل بھی نہیں کئے جاسکتے دوسری طرف مولانا نے بھی عمران خان کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی انہیں یہودی ایجنٹ قرار دینے سے لیکر فتنہ قرار دینے تک اپنی شخصیت کے وقار کو پیش نظر رکھتے ہوئے وہ کچھ کہا جو اس سے پہلے نہ تو پہلے کبھی عمران خان نے سنا ہوگا اور نہ ہی شاید آئندہ انہیں ایسا حریف ملے جو خم ٹھوک کر ان کے سامنے کھڑا ہو۔لیکن ان تمام حالات وواقعات کے بعد بھی جب پرجوش معانقوں اور شیروشکر ہونے کے مناظر سامنے آئے تو سوشل میڈیا پر گویا ایک ہنگامہ برپا ہوگیا۔

خیال رہے کہ عمران خان اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان نوک جھونک ہمیشہ سے ایک الگ ہی نوعیت کی رہی ہے۔ جس کی وجہ سے دونوں جماعتوں نے ماضی میں ایک دوسرے کو بہت کچھ کہا تھا۔ مولانا فضل الرحمان نے اپنے ایک بیان میں عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی خواتین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم فضا کو اتنا گرم کر دیں گے کہ تمہاری یہ جو چھوٹی چھوٹی تتلیاں ہیں ان کے پر برداشت نہیں کر سکیں گے‘ جس کے بعد پی ٹی آئی کی خواتین کی جانب سے خیبرپختونخوا اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان کے خلاف خواتین کے بارے میں مبینہ نازیبا زبان کے استعمال پر اسمبلی سیکریٹریٹ میں قرارداد بھی جمع کرائی گئی۔

ایک اور موقع پر نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے عمران خان کے بارے میں کہا تھا کہ ’یہ یہودیوں کا ایجنٹ ہے‘ اس کے علاوہ وہ ایک جلسے میں تقریر کے دوران بھی یہ کہتے نظر آئے کہ 2018 کے انتخابات میں عمران خان کو فنڈنگ ہندوستان اور اسرائیل سے ہوئی، اس کے علاوہ قادیانی لابی نے بھی فنڈنگ میں حصہ ڈالا۔

ایک پریس کانفرنس کے درمیان مولانا فضل الرحمان نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان نے اداکاری میں شاہ رخ اور سلمان خان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ٹکڑے گولی کے نہیں بم کے ہوتے ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ 5 سے 6 دنوں میں مشکل سے لاہور سے گوجرانوالہ پہنچے اور گولی لگتے ہے اتنی تیزی سے دوڑتا ہے کہ ایک گھنٹے میں لاہور پہنچ گیا۔

دوسری جانب عمران خان بھی اپنے جلسوں اور تقاریر میں مولانا فضل الرحمان کو مختلف ناموں سے پکارنے کے علاوہ ان کے کیریکٹر کے بارے میں بیان دیتے رہے ہیں۔

ایک تقریر کے دوران عمران خان نے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ عزت ذلت دینے والا اللہ ہے۔ دینی آدمی کو اللہ عزت دیتا ہے، یہ اللہ کی باتیں کرتا ہے، اس کو عزت ملنی چاہیے لیکن عوام اس کو مختلف ناموں سے بلاتے ہیں۔ شرم کی بات ہے۔ اس لئے او’ فضلو سن لو، کیونکہ اس کو مولانا کہنا گناہ ہے‘

ایک جلسے میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ ’ملک میں ڈاکہ ڈالنے والوں میں زرداری، نواز شریف، چیری بلاسم اور فضلو شامل ہے جو ڈیزل کے پرمٹ پر خود کو بیچتا ہے‘۔

یاد رہے کہ اس کے علاوہ بھی عمران خان مختلف تقاریر میں مولانا فضل الرحمان کو نازیبا ناموں سے پکارتے رہے ہیں۔

ایک تقریر کے دروان عمران خان نے مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مولانافضل الرحمان ایک مقناطیس ہے، جہاں پاور ہو وہاں جڑ جاتا ہے۔‘ اسی تقریر میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک ہوتا ہے ’پاور سیکنگ میزائل لیکن مولانا پاور سیکنگ میزائل ہے، جدھر اقتدار ہے وہاں مولانا فضل الرحمان پہنچ کر کشمیر کمیٹی کا چیئرمین ضرور بنتا ہے‘۔

تاہم اب مولانا فضل الرحمن نے ذاتی مفادات کی خاطر اپنی عزت اور ساکھ کا جنازہ نکالتے ہوئے خود کو مختلف القابات دینے والے یہودی ایجنٹ عمران خان کو سینے سے لگا کر اس کو حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا ہے۔

Back to top button