9 مئی کے حملے: سزاؤں میں تیزی کی وجہ 5 اگست ہے یا 8 اگست؟

سپریم کورٹ کی جانب سے 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ملزمان کے خلاف مقدمات کے فیصلے 8 اگست 2025 تک کرنے کی ڈیڈ لائن جوں جوں قریب آ رہی ہے، توں توں تحریک انصاف کو لگنے والے دھچکوں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، وجہ یہ ہے کہ پچھلے دو ہفتوں کے دوران انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی جانب سے تحریک انصاف کے 14 اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کو سزائیں سنائی گئیں جس کے بعد الیکشن کمیشن نے یا تو نااہل قرار دے دیا یا انکے خلاف یہ پراسیس شروع کر دیا۔

دوسری جانب تحریک انصاف کی قیادت یہ الزام عائد کر رہی ہے کہ ان سزاؤں کا بنیادی مقصد عمران خان کی رہائی کے لیے 5 اگست سے شروع ہونے والی تحریک کو ناکام بنانا ہے۔ تاہم حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ سزاؤں میں تیزی کی وجہ سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی 8 اگست کی ڈیڈ لائن ہے، جو کہ پی ٹی آئی کی ایک پٹیشن پر ہی کی گئی تھی۔  پچھلے ہفتے فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے 9 مئی کے ایک کیس کا فیصلہ سُناتے ہوئے تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں سمیت 108 کارکنوں کو قید کی سزائیں سنائیں۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی پارلیمانی لیڈر زرتاج گل اور سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر شبلی فراز کو دس، دس سال قید کی سزا سنائی گئیں جبکہ سُنی اتحاد کونسل کے چیئرمین حامد رضا کو بھی 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ فیصلہ 9 مئی 2023 کو فیصل آباد میں واقع آئی ایس آئی کے دفتر پر حملے کے کیس میں سنایا گیا۔ اس سے قبل 22 جولائی کو سرگودھا اور لاہور کی عدالتوں نے پی ٹی آئی کے پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد احمد خان بچھر، رُکن قومی اسمبلی احمد چٹھہ اور سابق وزرا یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، سینیٹر اعجاز چوہدری اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ سمیت دیگر مرکزی رہنماؤں کو دس دس برس قید کی سزائیں سُنائی تھیں۔

ان کے علاوہ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں خالد قیوم، ریاض حسین، علی حسن اور افضال عظیم پاہٹ بھی دس، دس برس قید کی سزا پانے والوں میں شامل ہیں۔ تحریک انصاف پی ٹی آئی کے میڈیا سیل کے مطابق دو ہفتوں میں عدالتوں سے 14 اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو سزائیں سنائی گئی ہیں جس کے بعد انھیں الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہل قرار دیا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں سزائیں پانے والے دیگر منتخب اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی میں اشرف سوہنا، رائے حسن نواز، رائے مرتضیٰ، چوہدری اقبال اعجاز،محمد احمد چٹھہ، چوہدری آصف علی، شکیل احمد خان نیازی، کنول شوذب، فرخ آغا، فرخندہ کوکب، انشااظہر، سردار عظیم اللہ خان، مہرمحمد جاوید، محمد انصراقبال، رانا آفتاب، شعبان کبیر اور جنید افضل ساہی بھی شامل ہیں۔

عدالتوں کی جانب سے جن پی ٹی آئی رہنماؤں کو مبینہ ڈیلز کے نتیجے میں بری کیا گیا ہے اُن میں سابق منہ پھٹ وفاقی وزیر فواد چوہدری، شاہ محمود قریشی کے بیٹے ایم این اے زین قریشی، خیال کاسترو اور عبداللہ دمڑ شامل ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی رہنماوں کے خلاف سارے فیصلے سیاسی بنیادوں پر کیے گئے ہیں جن کو چیلنج کیا جائے گا کیونکہ یہ فیصلے ’عدلیہ پر سوالیہ نشان‘ کھڑا کر رہے ہیں۔

سزاؤں کے بعدتحریک ا نصاف  کادوبارہ اجتماعی  استعفے دینےپرغور

اس صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے سینیئر صحافی مظہر عباس نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کی نا اہلی بظاہر پارٹی کے لیے بہت بڑا سیٹ بیک ہے۔ پی ٹی آئی کے لیے آپشن محدود ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ اسمبلیوں کے اندر پی ٹی آئی کمزور ہوتی جارہی ہے، دوسری جانب باہر سڑکوں پر یہ پارٹی نہ تو کوئی تحریک چلا پا رہی ہے اور نہ ہی سیاسی طاقت دکھا پا رہی ہے۔ مظہر عباس کے مطابق ایسا ہونے کی وجہ ریاست کا جبر بھی ہے اور اس کا مقصد حکومت کو پارلیمان میں اپوزیشن سے بچا کر مزید مضبوط بنانا ہے۔

مظہر عباس کے مطابق اس وقت پی ٹی آئی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اور آئندہ چند ہفتوں میں پتا چل جائے گا کہ یہ کس حد تک تحریک چلانے میں کامیاب ہوئی ہے اور حکومت کو کس حد تک دباؤ میں لاپائی ہے، اس کا انحصار اب پی ٹی آئی کی تحریک پر ہے جس کا آغاز پانچ اگست سے ہونا تھا لیکن ابھی تک اس کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ماضی کی طرح یہ احتجاجی تحریک بھی ناکام ہو گئی تو عمران خان کا چیپٹر ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔

Back to top button