9 مئی مقدمات : عدالتی فیصلے سے قانون کی بالا دستی قائم ہوئی ، بیرسٹر عقیل ملک

وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے 9 مئی سے متعلق مقدمات میں عدالتی فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت نے انصاف کے تقاضے ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے فیصلہ سنایا، جس سے آئین و قانون کی بالادستی مزید مضبوط ہوئی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ 9 مئی 2023 کو منظم منصوبہ بندی کے تحت 200 سے زائد مقامات پر حملے کیے گئے۔ اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد بھچر سمیت 32 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزا دی گئی، جس میں قانونی تقاضے مکمل طور پر پورے کیے گئے۔

بیرسٹر عقیل ملک کے مطابق سرگودھا کی انسداد دہشت گردی عدالت میں مقدمے کی شفاف سماعت ہوئی، گواہان کے بیانات قلم بند کیے گئے، ان پر جرح ہوئی اور پھر عدالت نے آئین و قانون کے مطابق اپنا فیصلہ سنایا۔

رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث بیشتر افراد کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں، جن میں سیاسی جماعت کے عہدیداروں اور کارکنان کی ویڈیوز، آڈیوز، تصاویر اور سی سی ٹی وی فوٹیج شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ اگر کوئی قانون کو ہاتھ میں لےگا تو چاہے وہ ایم این اے ہو، ایم پی اے، اپوزیشن لیڈر یا کسی بھی اہم عہدے پر فائز شخصیت، قانون اس کے خلاف حرکت میں آئے گا، کیوں کہ قانون سب کےلیے برابر ہے۔

وزیر مملکت بیرسٹر عقیل نے الزام عائد کیا کہ ایک مخصوص سیاسی جماعت نے منصوبہ بندی کے تحت حساس تنصیبات کو نشانہ بنایا اور اس کے عہدیداروں نے کارکنان کو سرکاری املاک پر حملوں کےلیے ذہنی طور پر تیار کیا۔

بیرسٹر عقیل نے مزید کہا کہ جب ریاست کی رِٹ کو چیلنج کیا جائےگا، حساس، عسکری مقامات اور شہداء کی یادگاروں پر حملے ہوں گے، تو ریاست کارروائی کرے گی اور اپنی رِٹ قائم رکھے گی۔

لیگی رہنما بیرسٹر عقیل نے کہا کہ وہ جماعت جو پہلے فیصلے نہ ہونے کی شکایت کررہی تھی، اب اسے عدالتی فیصلہ مل گیا ہے، اور اس فیصلے سے قانون کی بالادستی ثابت ہوئی ہے۔

 جلاؤ گھیراؤ کیس،قریشی بری، ڈاکٹر یاسمین، میاں محمود، سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قید

واضح رہے کہ سرگودھا کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9 مئی 2023 کے میانوالی احتجاج کیس میں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد بھچر سمیت تحریک انصاف کے 32 رہنماؤں اور کارکنان کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ فیصلہ تھانہ موسیٰ خیل میں درج مقدمہ نمبر 72 میں سنایا گیا۔

Back to top button