9 مئی مقدمات، سزائیں: عدلیہ کے متنازعہ فیصلوں سے نئے باب کا اضافہ ہوا: بیرسٹر گوہر

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے 9 مئی سے متعلق مقدمات میں پارٹی رہنماؤں کو دی گئی سزاؤں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ کے متنازع فیصلوں سے ایک اور باب کا اضافہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سزائیں قانونی تقاضے پورے کیے بغیر سنائی گئیں، جس سے عوام کا عدالتوں سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔
اسلام آباد میں دیگر سینئر پارٹی رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں متنازع فیصلوں کی کمی نہیں ہے، عدلیہ کے متنازع فیصلوں میں ایک اور کا اضافہ ہوا ہے، ان فیصلوں سے ظاہر ہوا کہ عدالتیں ناکام ہوگئی ہیں۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق کسی ایک مقدمے کا ٹرائل مختلف عدالتوں میں نہیں ہو سکتا، لیکن اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر سمیت تین دیگر پارٹی اراکین کو سزائیں دی گئیں۔ عمران خان اور دیگر رہنما پہلے ہی مطالبہ کرچکے ہیں کہ انہیں منصفانہ ٹرائل کا حق دیا جائے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ 9 مئی کے واقعات کی مذمت کی ہے۔ پی ٹی آئی نے 2023 میں اس حوالے سے آئینی درخواست دائر کی تھی، کیونکہ آئین کے مطابق ایک ہی کیس کا ٹرائل ایک مقام پر ہونا چاہیے، اس کے باوجود ہم نے عدالتوں کا سامنا کیا۔
اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ صرف پی ٹی آئی کا معاملہ نہیں رہا بلکہ ہر شہری کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ان کاکہنا تھاکہ جس ملک کی عدلیہ تباہ ہوجائے، وہاں جمہوریت بھی خطرے میں پڑجاتی ہے، اور یہ فیصلے جمہوریت کے خلاف سزا کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ آیا موجودہ نظام کو جاری رکھنا ہے یا اس میں تبدیلی لانی ہے۔
یاد رہے کہ لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے شیر پاؤ پل جلاؤ گھیراؤ مقدمے میں پی ٹی آئی رہنماؤں میاں محمود الرشید، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور سرفراز چیمہ کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی ہے، جب کہ شاہ محمود قریشی، حمزہ عظیم اور دیگر 6 افراد کو بری کردیا گیا۔
سانحہ 9مئی کیس،اپوزیشن لیڈرملک احمدبچھرسمیت70ملزمان کو10،10سال قیدکی سزا
اس سے قبل انسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا نے 9 مئی 2023 کو میانوالی میں احتجاج سے متعلق کیس میں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد بھچر اور دیگر 32 ملزمان کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی۔ یہ فیصلہ تھانہ موسیٰ خیل میں درج مقدمہ نمبر 72 کے تحت سنایا گیا۔
