9 مئی مقدمات، سزائیں : آج جمہوریت کےلیے ایک افسوسناک دن ہے، بیرسٹر گوہر

9 مئی سے متعلق مقدمات میں پارٹی رہنماؤں کو عدالتوں سے سزائیں دیے جانے پر رد عمل دیتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ آج جمہوریت کےلیے ایک افسوسناک دن ہے۔ ہمارا مینڈیٹ چوری کیاگیا، قیادت کو جیل میں رکھا گیا اور انصاف کے تمام دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔

سینئر پارٹی رہنماؤں اسد قیصر، جنید اکبر خان اور علامہ راجا ناصر عباس کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ایوان کا بائیکاٹ کیا جائے یا کوئی تحریک شروع کی جائے،اس حوالے سے پارٹی جلد فیصلہ کرےگی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ کوشش کی کہ جمہوری عمل جاری رہے، ایوان چلے، لیکن ظلم،ناانصافی اور جانبدارانہ رویے کا سلسلہ ختم نہیں ہو رہا۔ہمارے 6 ارکانِ قومی اسمبلی، 3 ارکانِ صوبائی اسمبلی، ایک سینیٹر، اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی اور سینیٹ کو سزائیں سنائی گئیں،حتیٰ کہ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا اور زرتاج گل کو بھی نشانہ بنایاگیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہاکہ ہماری قیادت نے ہمیشہ نظام کو بچانے کی بات کی،نہ دھرنا دیا نہ ایوان سے باہر نکلے،لیکن اس کے باوجود پی ٹی آئی کو مسلسل دیوار سے لگایا جارہا ہے۔ ہم نے چیف جسٹس سے صرف انصاف مانگا، کچھ اور نہیں، لیکن آج بھی 2023 سے دائر درخواستیں فیصلے کی منتظر ہیں، جب کہ رات 2 بجے تک عدالتوں میں ٹرائلز جاری ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے الیکشن کمیشن کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ یہ وہی الیکشن کمیشن ہے جس کی مدت ختم ہوچکی ہے، لیکن ہمارے منتخب نمائندوں کو یکے بعد دیگرے نااہل کیا جارہا ہے۔ اگر پی ٹی آئی کو نظام سے باہر نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے تو یہ سوال اہم ہے کہ آخر اس کے پیچھے کون ہے؟

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی جمہوریت اور آئینی نظام پر یقین رکھتی ہے،تصادم یا انتشار کی سیاست پر نہیں۔ لیکن حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ہمیں عمران خان کے سامنے یہ معاملہ رکھنا ہو گا کہ آیا ایوان کا بائیکاٹ کیا جائے یا کوئی ملک گیر تحریک چلائی جائے۔ پارٹی قیادت اس بارے میں جلد حتمی فیصلہ کرے گی۔

9 مئی مقدمات : عمر ایوب، زرتاج گل سمیت دیگر کو  10 سال قید کی سزا

ان کا کہنا تھا کہ جب دو فریق آمنے سامنے ہوں تو سب کی نظریں عدلیہ پر ہوتی ہیں،اور ہم آج بھی عدلیہ سے صرف انصاف چاہتے ہیں۔

Back to top button