9 مئی کی سزائیں: PTI والوں کے خلاف گواہ 3 پولیس اہلکار بنے

حال ہی میں لاہور، فیصل آباد اور سرگودھا کی انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے تحریک انصاف کے جن درجنوں رہنماؤں اور کارکنان کو 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزامات پر لمبی قید کی سزائیں سُنائی ہیں ان سب کے خلاف مرکزی گواہ تین پولیس والے تھے جن کی گواہیوں کو معتبر مان کر تسلیم کر لیا گیا۔

بی بی سی اردو کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق الگ الگ عدالتوں سے آنے والے فیصلوں میں ناصرف پی ٹی آئی رہنماؤں کو دی جانے والی سزاؤں کی مدت، یعنی دس سال، ایک جیسی ہے بلکہ تینوں فیصلوں میں لاہور پولیس کے 2 اہلکاروں حسام افضل اور محمد خالد اور راولپنڈی پولیس کی سپیشل برانچ کے انسپیکٹر عصمت کمال کی گواہیوں کو معتبر مان کر تسلیم کیا گیا ہے اور انکی بنیاد پر فیصلے دیے گئے ہیں۔ ان پولیس اہلکاروں نے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کو بتایا کہ وہ کیسے ’پی ٹی آئی کے کارکنوں‘ کے بھیس میں اہم پارٹی میٹنگز میں شریک ہوئے جہاں سے انھیں اس سازش کی تفصیلات معلوم ہوئیں جس پر 9 مئی کو عمل درآمد کیا گیا۔

فیصل آباد اور سرگودھا کی انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی جانب سے سنائے گئے فیصلوں کے مطابق پراسیکیوشن کے گواہ اور راولپنڈی پولیس کی سپیشل برانچ کے سابق انسپیکٹر عصمت کمال کا دعویٰ تھا کہ ’مخبر کی اطلاع ملنے کے بعد‘ انھوں نے 4 مئی 2023 کو پی ٹی آئی کارکن کا روپ دھار کر لاہور، اسلام آباد موٹروے کے چکری ریسٹ ایریا میں واقع ’روز ہوٹل‘ میں ایک ’خفیہ میٹنگ‘ میں شرکت کی تھی۔

انسپیکٹر عصمت کمال کا دعویٰ تھا کہ اِس میٹنگ میں عمران خان سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنما اور قیادت موجود تھی جبکہ بعض پارٹی کارکنان اور رہنماؤں نے بذریعہ زوم ایپ میٹنگ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ انھوں نے عدالت کے روبرو الزام عائد کیا کہ اِس میٹنگ کے دوران عمران خان  نے پارٹی کو ہدایت دی تھی کہ وہ 6 مئی کو راولپنڈی میں مریڑ چوک سے کچہری چوک تک ریلی نکالیں اور جی ایچ کیو کے قریب ’کچہری چوک کو بلاک کر دیں کیونکہ یہ فوجی افسران کے زیرِ استعمال مرکزی راستہ ہے۔۔۔ وہ (عمران خان) فوجی افسران کو پیغام دینا چاہتے تھے کہ اگر انھیں گرفتار کیا گیا تو وہ پورا ملک بند کر دیں گے۔‘

عدالتی فیصلوں میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ عصمت کمال نے عمران کی یہ ہدایات سننے کا بھی دعویٰ کیا کہ ’اگر انھیں فوج یا رینجرز نے گرفتار کیا تو جی ایچ کیو اور دیگر فوجی افسران کو ہدف بنایا جائے گا۔‘ پولیس افسر نے عدالت میں یہ دعوے بھی کیے کہ عمران نے پارٹی کو ہدایت دی کہ ’فوج کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگائے جائیں اور کوئی رہنما عمران کی رہائی تک گھر نہ جائے۔ کپتان کی جانب سے یہ ہدایت بھی کی گئی کہ اگر پولیس روکے تو حملہ کریں، ’خواتین کارکنان کو بطور ڈھال استعمال کریں۔۔۔‘ اور یہ کہ ’جو بھی میرے لیے فوج کے خلاف کھڑا ہو گا اسے میری کابینہ کا رکن اور ہیرو بنایا جائے گا۔۔۔‘

پراسیکیوشن کی طرف سے 9 مئی کی ’سازش‘ کا دعویٰ یہاں تک محدود نہیں۔ استغاثہ کی جانب سے سات مئی اور نو مئی کو زمان پارک لاہور میں عمران کی رہائش گاہ پر ہونے والی دو میٹنگز کا تذکرہ بھی کیا گیا اور اس ضمن میں پراسیکیوشن کے دو گواہوں، یعنی پولیس اہلکار حسام افضل اور محمد خالد، نے اپنے بیانات عدالتوں میں ریکارڈ کروائے۔ ان گواہان نے اے ٹی سی عدالتوں میں دعویٰ کیا کہ 7 مئی کی میٹنگ میں عمران خان نے بتایا تھا کہ وہ 9 مئی کو اسلام آباد کی ایک عدالت میں پیش ہوں گے اور انھیں اپنی گرفتاری کا خدشہ ہے۔

گواہان نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے کارکنوں کو ہدایت دی تھی کہ ’اگر انھیں گرفتار کیا گیا تو وہ یاسمین راشد کی قیادت میں دفاعی محکموں، سرکاری عمارتوں، پولیس سٹیشنز کا جلاؤ گھیراؤ کریں تاکہ حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ پر رہائی کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔‘

گواہان نے عدالت کے روبرو دعویٰ کیا کہ میٹنگ میں شامل رہنماؤں نے عمران خان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ یعنی عمران خان اُن کی ’ریڈ لائن‘ ہیں۔ پولیس اہلکاروں کا دعویٰ تھا کہ وہ 9 مئی تک زمان پارک میں عمران خان کی رہائش گاہ پر تعینات تھے اور انھوں نے سادہ کپڑوں میں پی ٹی آئی ورکرز کا روپ دھار کر ’پی ٹی آئی کی قیادت کا اعتماد جیت لیا تھا۔‘ اس کے علاوہ اے ٹی سی کے فیصلوں میں 9 مئی کی صبح بھی اسی نوعیت کی ایک میٹنگ کا احوال بیان کیا جس میں پولیس اہلکاروں نے دعویٰ کیا کہ عمران نے اپنی گرفتاری کی صورت میں پارٹی قیادت کو حساس عمارتوں اور تنصیبات کے مقامات پر پُرتشدد مظاہروں کی ہدایت دی تھی۔ ان کا مزید دعویٰ تھا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے ‘فوج کے خلاف نعرے بازی کی تاکہ فوج میں بغاوت کو اکسایا جائے۔۔۔ اور ملک میں امن و امان کا مسئلہ پیدا کیا جائے۔’

عمران خان، ان کے وکلا، پی ٹی آئی کے رہنماوں اور کارکنوں نے عدالتوں میں پولیس اہلکاروں کے ان دعوؤں کی تردید کی۔ تاہم انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے ان پولیس اہلکاروں کی گواہیوں کو تسلیم کرتے ہوئے 9 مئی کے ملزمان کو سزائیں سنا دیں۔

Back to top button