عمران خان کی گرفتاری سے زیادہ فائدہ کس کو ہوگا؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ الیکشن نہ کرانے سے پی ڈی ایم کو زیادہ سیاسی نقصان ہوگا. حکمراں اتحاد کیلئے اب بھی بہتر راستہ فوری الیکشن ہے۔ رہ گئی بات عمران اور تحریک انصاف کی تو خان صاحب نے جتنے جتن گرفتاری نہ دینے کیلئے کئے اس سے زیادہ سیاسی فائدہ انہیں گرفتاری دے کر ہوتا۔ اب تو اس تحریک میں ایک ’خون‘ بھی شامل ہوگیا۔ اپنے کالم میں وہ کہتے ہیں کہ اس وقت موجودہ حکمراں اتحاد کی حالت کچھ ایسی ہی لگ رہی ہے کہ کوئی عذر نکالا جائے انتخابات نہ کرانے کا۔ حکومت ہی کیا اب تو حال ہی میں الیکشن کمیشن میں انتخابات ملتوی کرانے کی انٹلیجنس ایجنسیوں کی رپورٹ دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ اور حلقے بھی شاید یہی چاہتے ہیں۔ یہ کہنا کہ دہشت گردی کا خطرہ ہے اور عمران خان سمیت کئی لیڈر بشمول بلاول بھٹو، مریم نواز ٹارگٹ ہوسکتے ہیں۔ ایسا خطرہ تو پاکستان جیسے ممالک میں ہمیشہ رہتا ہے مگر آج حالات 2007 اور 2013 سے بہتر ہیں۔ کاش ایسی رپورٹ 2013 کے الیکشن کے وقت آتی جب تین بڑی جماعتیں پی پی پی، اے این پی اور ایم کیو ایم کو طالبان نے ٹارگٹ کیا اور ان کے کئی رہنما شہید بھی ہوئے، نہ الیکشن ملتوی ہوا نہ فوج طلب کی گئی اور انتخابات ہوگئے۔
مظہر عباس کا کہنا ہے کہ بات یہیں تک رہتی تو سمجھ میں آتی مگر مریم نواز کا یہ مطالبہ کہ’ ’پہلے انصاف پھر انتخاب‘‘ نے جنرل ضیاء کے دور میں ’’پہلے احتساب پھر انتخاب‘‘ کی یاد تازہ کردی۔ احسن اقبال صاحب ’’پہلے مردم شماری‘ پھر حلقہ بندیاں ‘ پھر الیکشن‘‘ کی بات کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ کہہ رہی ہے کہ الیکشن کیلئے پیسے دستیاب نہیں ہیں۔ اس سارے عذر اور مطالبات سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ہماری بڑی اور تجربہ کار جماعتیں جن کی ماضی کی جدوجہد تاریخ کا حصہ ہے اس وقت الیکشن سے خوف زدہ ہیں اور جس کی وجہ عمران خان اور تحریک انصاف کی مقبولیت ہے۔
عمران خان اور تحریک انصاف کی مقبولیت میں خود ان کا کم ،پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی جماعتوں اور مسلم لیگ (ن)، پی پی پی، اے این پی اور جے یو آئی کا زیادہ عمل دخل ہے۔ اس 11ماہ کی حکمرانی نے پی ٹی آئی کے گرتے ہوئے گراف کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔ جو سیٹیں 2018 کے الیکشن میں ان کے’ ’ٹوکرے‘‘ میں کراچی اور دیگر شہروں سے ان کے حق میں ڈالی گئی تھیں وہاں سے اب وہ باآسانی جیتنے کی پوزیشن میں آگئے ہیں۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ اب سابق صدر آصف علی زرداری کپتان کو سیاست دان مانیں یا نہ مانیں اس وقت تو سیاست اسی کے گرد گھومتی نظر آ رہی ہے یہی بات 80 کی دہائی میں میاں نواز شریف کے بارے میں بھی کی جاتی تھی۔ پچھلے دنوں اسلام آباد میں پی پی پی کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک عہدیدار سے ملاقات ہوئی۔ اس کا کہنا تھا کہ پنجاب میں 2013 کے بعد سے پی پی پی کا بڑا لیڈر پی ٹی آئی میں چلا گیا ہے کیونکہ وہ تو جوان ہی مسلم لیگ (ن) اور شریفوں کیخلاف بات کرتے ہوئے اور ’’سنتے ہوئے ہوا ہے یہی حال مسلم لیگیوں کا بھی ہے۔ انہیں عمران کی گھن گرج خاص طور پر اسٹیبلشمنٹ اور امریکہ کے خلاف پسند آئی اور ہمارا ان سے قریب ہونا اچھا نہیں لگا۔
عمران کے ساتھ اس وقت تین طرح کا ووٹر ہے۔ ایک وہ جسے عمران کا ’’فین کلب یا برگر کلاس‘‘کہا جاتا ہے، دوسرا وہ جس نے 11ماہ میں سڑکوں پر رہ کر، دھرنے، لانگ مارچ میں حصہ لے کر اور جیلوں میں جا کر ثابت قدمی کا ثبوت دیا اور تیسرا وہ جو عمران کو اب بھی شریفوں اور زرداری سے بہتر متبادل سمجھتا ہے۔ چند سال میں جو نیا ووٹر آیا ہے اس کی اکثریت پی ٹی آئی کیساتھ نظر آتی ہے۔ 2013اور 2018میں خاص طور پر الیکشن میں مسلم لیگ کا گراف خاصی حد تک برقرار رہا تھا باوجود تمام تر ایجنسیوں کے ’کھیل‘ کے مگر اب جبکہ خود اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی سے خوش نہیں تو اس کاگراف اوپر گیا جس میں ان 11ماہ کی بدترین حکومتی کارکردگی کا خاصا عمل دخل ہے۔ اس کو ایک چیلنج کے طور پر لینے کے بجائے الیکشن کو ملتوی کرانے کی حکمت عملی اور غیر ضروری طور پر عمران اور پی ٹی آئی کیخلاف مقدمات کی بھرمار نے عمران کو کم اور حکمراں جماعتوں کو زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
مظہر عباس کا کہنا ہے کہ ہم تاریخ سے سبق سیکھنے کو تیار نہیں ورنہ کچھ اور نہیں تو مسلم لیگ اور پی پی پی معاشی نہیں تو انسانی حقوق اور سیاسی و شہری آزادی کی بہتر مثال قائم کر سکتے تھے۔ جو ان کے ساتھ پی ٹی آئی حکومت نے کیا وہ ان 11ماہ میں نہ ہوتا مگر یہاں تو پیکا، پیمرا اور بغاوت کے مقدمات کا جو بے دریغ استعمال ہوا اس نے یہ بات ثابت کردی کہ ہر حکمراں کو سیاست کا وہی انگریزوں والا انداز پسند ہے یعنی اپنے مخالفین پر زور زبردستی اور کالے قوانین کا استعمال۔
آخر میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ ’توشہ خانہ‘ نے تمام حکمرانوں کو ایک ہی صف میں لاکر کھڑا کیا ہے۔ کاش کوئی تو ہوتا جس کا نام اس میں نہ آتا یہاں تو لگتا ہے ’’میرا توشہ میری مرضی‘‘ اور کچھ نہیں تو اپنے پڑوسی ملک کے وزیراعظم نریندر مودی سے ہی کچھ سبق سیکھ لیتے، جس نے کوئی تحفہ اپنے پاس نہ رکھا۔
