مظہر عباس کا عمران کو جیل سے نکال کر گیسٹ ہاؤس شفٹ کرنے کا مطالبہ

اڈیالہ جیل میں کرپشن کیس میں سزا بھگتنے والے عمران خان کی محبت میں سرشار سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ پاکستان ایک سنگین بحران سے دوچار ہے جس سے نکلنے کے لیے فوری طور پر نئے الیکشن کا انعقاد کروایا جائے اور عمران کو اڈیالہ جیل سے نکال کر ایک گیسٹ ہاؤس میں منتقل کیا جائے تاکہ اتفاق رائے سے عبوری حکومت تشکیل دی جائے جو منصفانہ الیکشن کا انعقاد کروا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو نے بھی 1977 کے الیکشن کے بعد تحریک نظام مصطفی کی مرکزی قیادت کو جیلوں سے نکال کر ان کے ساتھ مذاکرات کیے تھے۔ تاہم یاد رہے کہ ان مذاکرات کے بعد جنرل ضیانے مارشل لا نافذ کر دیا تھا۔

مظہر عباس روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ ہمیشہ مذاکرات سے پہلے ایک ماحول بنایا جاتا ہے خصوصا اگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی اپنی انتہا کو چھورہی ہو۔ موجودہ صورت حال بھی کچھ ایسی ہی نظر آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ ماحول کیسے بنایا جائے۔ انکا کہنا ہے کہ 1977 کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ نو ستاروں پر مبنی نو جماعتی اتحاد وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے لئے جس طرح کی گندی زبان استعمال کرتا تھا وہ نا قابل بیان اور ناقابل اشاعت ہے۔ چنانچہ بھٹو صاحب بھی اپنے سیاسی مخالفین کا رگڑا نکالتے ہوئے کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے۔ جب بھٹو اور انکے مخالفین کے مابین مذاکرات شروع ہوئے تو دونوں اطراف نے طے کیا کہ جب تک بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتی، مذاکرات جاری رہیں گے۔ یہ بھی طے ہوا کہ پی این اے اس دوران کوئی ہڑتال یا احتجاج کی کال نہیں دے گی۔

دونوں طرف سیاسی شعور اور وقت کی نزاکت کو سمجھنے والے اکابرین موجود تھے لیکن کچھ سازشی عناصر بھی تھے۔ پھر بھی بات چیت ہوئی، دونوں جانب سے لچک دکھائی گئی اور بھٹو کی جانب سے اپوزیشن کے مطابق تسلیم کرنے کے نتیجے میں یہ مذاکرات کامیاب ہو گئے۔ یہ بات مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور اور خود نواب زادہ نصر اللہ خان نے ذاتی طور پر کئی بار مجھے بتائی۔ لیکن مذاکرات کی کامیابی کے اعلان سے پہلے ہی جنرل ضیا نے شب خون مارتے ہوئے مارشل لا نافذ کر دیا اور بھٹو کو گرفتار کر لیا۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ جب سیاستدان آپس میں بات چیت کرتے ہیں تو مسئلے کا حل نکل ہی آتا ہے، لیکن سازشی عناصر کا اپنا ایجنڈا ہوتا ہے لہذا وہ سیاست دانوں کو آپس میں بیٹھنے نہیں دیتے۔ وہ کہتے ہیں کہ اپریل 2022 کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی اور تین سالوں میں جو کچھ ہوا اسکے بعد بھی سیاستدان بات چیت پر راضی نہیں ہو رہے۔ ویسے بھی چونکہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک صفحے پر ہیں اور عمران خان سیاسی طور پر کافی کمزور ہو چکے ہیں اس لیے انہیں اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت نہیں۔ ایسی صورت حال میں حکومت کو گھر بھیجنے یا نئے الیکشن تک لیجانے کے دو ہی راستے ہیں۔ پہلا راستہ مذاکرات کا یے اور دوسرا یہ ہے کہ لاکھوں لوگ اسلام آباد پہنچ جائیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت انہیں ایسا کیوں کرنے دے گی۔ دوسری بات یہ کہ عمران نے 26 نومبر 2024 کو احتجاج کی فائنل کال کا انجام بھی دیکھ لیا جب بشری بی بی سمیت تحریک انصاف کی مرکزی قیادت جوتیاں اٹھا کر دھرنے سے فرار ہو گئی تھی۔

عمران کے بیٹوں کیساتھ جمائمہ خان کے بھی پاکستان آنے کا امکان

 پی ٹی آئی کہتی ہے کہ 8؍ فروری 2024ء کو اس کا مینڈیٹ چوری ہوا لہذا فوری طور پر نئے الیکشن کروائے جائیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کا دعویٰ ہے کہ 2018ء کو ان کا مینڈیٹ چوری ہوا تھا اور عمران کو دھاندلی کے ذریعے وزیراعظم بنوایا گیا تھا۔ یوں اگر میچ ڈرا ہے تو فائنل میچ کروا لیں، یعنی ایک الیکشن اور کروا لیں، لیکن اس سے پہلے رول آف گیمز بھی طے کرلیں۔ رہ گئی بات تاریخ کی تو الیکشن اس سال کے آخر میں بھی ہو سکتے ہیں اور 2026 میں بھی ہو سکتے ہیں اگر ایک متفقہ عبوری حکومت کی نگرانی میں دونوں فریقین مذاکرات پر تیار ہوتے ہیں تو عمران خان کو کسی گیسٹ ہاؤس میں منتقل کیا جا سکتا ہے جیساکہ 1977 میں بھی بھٹو صاحب نے کیا تھا۔ رہی بات عمران کے خلاف کیسز کی تو یہ معاملہ عدالت پر چھوڑا جا سکتا ہے، لیکن دونوں طرف سے سیاسی لچک لازمی ہے اور غیر سیاسی عدم مداخلت بھی نہایت ضروری ہے۔

یہ تجویز دیتے ہوئے مظہر عباس4 مزید کہتے ہیں کہ ماحول کو بہتر بنانے کے لئے میڈیا پر غیر علانیہ سنسر شپ کا خاتمہ کیا جائے اور پیکا جیسے قوانین کو معطل کر دیا جائے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مذاکرات کی بنیاد پی ٹی آئی کے پانچ رہنماؤں کے خط کو بنایا جائے یا پھر مذاکرات وہیں سے شروع ہوں جہاں ختم ہوئے تھے۔ ہماری آج کی سیاست میں کوئی نواب زادہ نصراللہ ، پروفیسر غفور یا میرغوث بخش بزنجو تو موجود نہیں مگر پھر بھی خواجہ سعد رفیق ، رانا ثناءاللہ ، شاہ محمود قریشی، قمر زمان کائرہ یا نوید قمر ، شبلی فراز، عمر ایوب جیسے لوگ موجود ہیں جو  ایک ابتدا تو کر ہی سکتے ہیں۔ ان مذاکرات کی کامیابی ہمیں ایک اصل جمہوریت کی جانب لے جا سکتی ہے۔ یہ کہنا کہ مذاکرات صرف فوج سے ہونگے دراصل ہائبرڈ نظام کو مضبوطی کی طرف لے جانے والی بات ہے۔ اگر حکومت کے بس میں کچھ نہیں   تب بھی عمران خان بات حکومت سے ہی کریں۔

Back to top button