امریکہ اور ایران میں ثالثی، پاکستان کے لیے کوئلوں کی دلالی

جہاں پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کے لیے ثالثی کے کردار کو سراہا جا رہا ہے، وہیں اسے ایک خطرناک اور رسک سے بھرپور قدم بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی سیاسی منظرنامے میں یقین کے ساتھ یہ کہنا مشکل ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے ذہن میں کیا چل رہا ہے اور ان کی اگلی حکمت عملی کیا ہو گی، وہ کسی بھی لمحے کوئی بھی وعدہ توڑنے اور کمٹمنٹ سے پھرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لہذا امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی کا فیصلہ پاکستان کے لیے حساس اور خطرات سے بھر پور قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ جنگ بندی کے لیے ثالثی کی پیشکش کو عالمی سطح پر ایک مثبت اور ذمہ دارانہ اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ شدید تناؤ کا شکار ہے اور کسی بھی معمولی چنگاری کے بڑے تصادم میں بدلنے کے خدشات بڑھ چکے ہیں۔ تاہم، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بطور ثالث پاکستان کی کامیابی کا دارومدار صدر ٹرمپ کی جانب سے اپنی کمٹمنٹ اور وعدوں پر کھڑا رہنے سے منسلک ہو گا۔
پاکستان کے لیے یہ ثالثی ایک طرف سفارتی کامیابی کا موقع ہے، جس سے وہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور مؤثر کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ تاہم، دوسری جانب اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں یا صدر ٹرمپ کی جانب سے وعدہ خلافی کی جاتی ہے، تو اس کے اثرات پاکستان کی سفارتی ساکھ پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ایسے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو نہایت محتاط، متوازن اور دور اندیش حکمت عملی کے ساتھ اس سفارتی امتحان سے گزرنا ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ بامعنی مذاکرات کے لیے جو بنیادی شرائط سامنے آئی ہیں، ان میں سب سے اہم ایران کے جوہری پروگرام پر مکمل اور قابلِ تصدیق پابندیاں شامل ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف رہا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی کو نہ صرف محدود کرے بلکہ بین الاقوامی نگرانی کو بھی مکمل رسائی دے۔ اس کے علاوہ امریکہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی محدود کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے، جسے وہ خطے کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیتا ہے۔
تیسری اہم شرط ایران کے خطے میں اثر و رسوخ کو کم کرنا ہے، خاص طور پر عراق، شام، لبنان اور یمن میں اس کی مداخلت کنٹرول کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ امریکہ کی ایک اور شرط یہ ہے کہ ایران مسلح گروہوں کی حمایت بند کرے، جسے واشنگٹن دہشت گردی کی معاونت قرار دیتا ہے۔
دوسری جانب جنگ بندی کے لیے ایرانی شرائط بھی واضح اور سخت ہیں۔ تہران کا مطالبہ ہے کہ جنگ بندی مستقل بنیادوں پر ہو اور خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی اڈے ختم کیے جائیں۔ اس کے علاوہ ایران کا مطالبہ ہے کہ امریکہ اس پر عائد کردہ تمام اقتصادی پابندیاں ختم کرے اور اس کے منجمد شدہ بینک اکاؤنٹس بحال کرے۔ ایران کے لیے یہ شرط بنیادی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ اس کی معیشت ان پابندیوں سے شدید متاثر ہوئی ہے۔ اسکے علاوہ ایران یہ ضمانت بھی چاہتا ہے کہ مستقبل میں امریکہ کسی بھی معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبردار نہیں ہوگا، جیسا کہ ماضی میں ہوا۔ لیکن بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایران اپنے دفاعی پروگرام، خصوصاً میزائل پروگرام کو ناقابلِ مذاکرات قرار دیتا ہے اور اسے اپنی قومی سلامتی کا لازمی حصہ سمجھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران خطے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو بھی اپنی سٹریٹجک پالیسی کا حصہ قرار دیتا ہے اور اس پر کسی قسم کی قدغن کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ اعتماد کا فقدان ہے، لہٰذا کچھ مخصوص مطالبات ایسے ہیں جو امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کو فیصلہ کن مرحلے تک پہنچنے سے روک سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، امریکہ کا ایران کے میزائل پروگرام کو محدود کرنے کا مطالبہ ایک ایسا نکتہ ہے جس پر ایران کسی صورت میں پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ اسی طرح ایران کا یہ مطالبہ کہ اس پر عائد تمام پابندیاں فوری اور مکمل طور پر ختم کی جائیں، امریکہ کے لیے سیاسی طور پر قابلِ عمل نہیں ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کا ایران کا علاقائی اثر رسوخ کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی عملی طور پر ناقابل عمل ہے کیونکہ یہ ایران کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔
دوسری طرف ایران کی جانب سے امریکہ سے مکمل ضمانت مانگنا کہ مستقبل میں کوئی صدر معاہدہ ختم نہیں کرے گا، امریکی آئینی اور سیاسی نظام میں ممکن نہیں، کیونکہ ہر نئی انتظامیہ اپنی پالیسیاں خود ترتیب دیتی ہے۔
ایران جنگ میں بطور ثالث پاکستان کیا فائدہ اٹھا سکتا ہے؟
تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت اور اچانک فیصلہ سازی کا انداز ہے۔ ٹرمپ ماضی میں کئی ایسے فیصلے کر چکے ہیں جو روایتی سفارتی انداز سے ہٹ کر اچانک نوعیت کے تھے۔ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران بھی دو مواقع ایسے آئے جب سفارتی عمل جاری تھا، مگر اچانک فوجی کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا جس نے عالمی سطح پر تشویش کو جنم دیا۔ یہی غیر یقینی طرزِ حکمرانی پاکستان جیسے ثالث کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن سکتی ہے، کیونکہ کسی بھی وقت صورتحال یکسر تبدیل ہو سکتی ہے۔
