پاکستان کے لیے ثالث کا کردار، مودی سرکار کے لیے گرم آلو

 

 

 

امریکہ اور ایران کی جنگ رکوانے کے لیے پاکستان کو ثالث کا کردار مل جانے کے بعد بھارتی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مودی سرکار پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے، اپوزیشن کا موقف ہے کہ یہ پیش رفت خطے میں طاقت کا توازن بگاڑنے کے علاوہ بھارت کا سفارتی اثر و رسوخ بھی کم کرنے جا رہی ہے۔

 

پاکستان کی جانب سے مشرق وسطی کی جنگ میں ثالث کا کردار حاصل کرنے کے بعد سے بھارتی اپوزیشن رہنما وزیرِ اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کے نشتر برسا رہے ہیں۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ جہاں پاکستان ایک حساس عالمی تنازعے میں ثالث بن کر اپنی سفارتی حیثیت مضبوط بنا رہا ہے، وہیں مودی سرکار کی خارجہ پالیسی واضح سمت سے محروم دکھائی دیتی ہے۔

 

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر اہم بات چیت کی۔ اس رابطے کے دوران پاکستان نے خود کو ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ممکنہ ثالث کے طور پر پیش کیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی عسکری قیادت نے نہ صرف ثالثی کی پیشکش کی بلکہ اسلام آباد میں ان تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان ’’امن بات چیت‘‘ کی میزبانی کی بھی پیشکش کی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی برادری کسی قابلِ قبول سفارتی حل کی تلاش میں ہے۔ پاکستان کی اس پیش قدمی کو بعض حلقے ایک فعال اور جارحانہ سفارتی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد خود کو ایک ذمہ دار اور مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منوانا ہے۔

 

اسی دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی متحارب فریقین کی سفارتی کوششوں کو آگے بڑھاتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے کی صورتحال، کشیدگی میں کمی اور ممکنہ مذاکراتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق مجوزہ امن مذاکرات میں ٹرمپ انتظامیہ کے نمائندوں اور ایران کی سینئر حکومتی شخصیات کی شرکت متوقع ہے، جبکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ اہم مذاکرات اسی ہفتے شروع ہو سکتے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک اہم ثالث اور امن کے داعی کے طور پر بھی تسلیم کیا جا سکتا ہے۔

 

دوسری جانب عالمی سطح پر پاکستان کا بطور ثالث کردار سامنے آنے کے بعد بھارت میں سیاسی درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے مذاق قرار دیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق انہوں نے کہا، ہماری خارجہ پالیسی دراصل وزیرِ اعظم مودی کی ذاتی خارجہ پالیسی ہے۔ آپ اس کا نتیجہ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ عالمی میدان میں ایک مذاق بن چکی ہے اور دنیا اسے سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔

 

اس موقع پر کانگریس کے سینئر رہنما پون کھیرا نے کہا کہ جب وزیرِ اعظم نریندرا مودی اندرونِ ملک اپنی نام نہاد کارکردگی کی جھوٹی تشہیر میں مصروف تھے، تب پاکستان ایک نہایت اہم عالمی مسئلے کے حوالے سے سفارت کاری کی میز پر اپنی جگہ بنا رہا تھا۔ ان کے مطابق یہ صورت حال بھارت کی سفارتی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔ بھارتی رکنِ پارلیمنٹ اور کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے بھی مودی کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور میں ہماری فوجی ناکامیوں کے بعد اب نئی افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں بھی مودی حکومت کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کی خارجہ پالیسی پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

 

ادھر وزیرِ اعظم مودی نے اپوزیشن کی تنقید کے جواب میں پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے جلد از جلد اور پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئی دہلی ایران، اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور کشیدگی میں کمی کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ مودی نے اس بارے کوئی تفصیل دیے بغیر کہا کہ بھارت نے ان ممالک کے ساتھ آبنائے ہرمز کی بحالی اور خطے میں استحکام کے حوالے سے بھی بات چیت کی ہے، کیونکہ یہ علاقہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے۔

انہوں نے بھارتی شہریوں کو خبردار کیا کہ خطے میں جاری جنگ کے طویل المدتی معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جن میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور مہنگائی شامل ہیں۔ اس لیے عوام کو ممکنہ چیلنجز کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

کیا مذاکرات کی آڑ میں امریکہ زمینی افواج تیار کر رہا ہے؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں جہاں پاکستان ایک متحرک سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، وہیں بھارت کے لیے یہ لمحہ اپنی خارجہ پالیسی کو ازسرِ نو ترتیب دینے کا بھی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ خطے میں ثالثی اور سفارت کاری کے اس مقابلے میں کون سا ملک زیادہ مؤثر کردار ادا کر پاتا ہے۔

Back to top button