پاکستانی کمپنیوں نے ادویات 150فیصدمہنگی کیوں کردیں؟

پاکستانی ادویہ ساز کمپنیوں نے حکومتی اداروں سے سازباز کر کے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو جواز بنا کر مختلف ادویات کی قیمتوں میں 150 فیصد سے زائد اضافہ کر دیا ہے۔ پاکستان میں ادویات کی قیمتوں 100فیصد سے بھی زائد حالیہ غیرمعمولی اضافے نے عوام کے چھکے چھڑا دئیے ہیں، چند روز قبل تک 2200روپے میں ملنے والی انسولین کی قیمت 47 سو روپے سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ اسہال کے مریضوں کے علاج کیلئے استعمال ہونے والی لوموٹل ٹیبلیٹ کی قیمت 11سو روپے سے بڑھ کر 2ہزار روپے ہو گئی ہے۔ تاہم اس صورتحال کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ایک طرف مارکیٹ میں ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے پر عوام سراپا احتجاج ہیں وہیں دوسری جانب حکومتی ادارے ان اضافوں کی تردید کرتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ مارکیٹ کی موجودہ صورتحال حکام کو منہ چڑھاتی نظر آتی ہے۔
لاہور کے رہائشی محمد ارسلان کے مطابق ان کے بھائی کی ایک مستقل استعمال ہونے والی دوا، جو پہلے 500 روپے میں دستیاب تھی، اب 800 روپے میں مل رہی ہے۔ اسی طرح نورین علی بتاتی ہیں کہ ان کی والدہ کے لیے استعمال ہونے والا انسولین انجیکشن 2200 روپے سے بڑھ کر 4720 روپے ہو چکا ہے۔ ایسے حالات میں متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے علاج جاری رکھنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ادویات کی قیمتوں میں اس تیزترین اضافے کا براہِ راست اثر مریضوں کی صحت پر پڑ سکتا ہے، کیونکہ ادویات مہنگی ہونے سے بہت سے افراد علاج ادھورا چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
ناقدین ادویات کی قیمتوں میں ان اضافوں کو ’ظالمانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستانی فارماسوٹیکل انڈسٹری میں ایک مخصوص لابی راج کر رہی ہے۔ جس نے پاکستان میں ایک منظم طریقے سے ادویات کی قیمتیں بڑھائی ہیں۔ تاہم ’تکلیف دہ بات یہ ہے کہ کوئی بھی حکومتی ادارہ اس صورت حال کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہے اور وہ مان بھی نہیں رہے کہ ایسے ہو رہا ہے۔ تاہم آپ کسی بھی فارمیسی میں چلے جائیں اور پوچھیں کہ پچھلے دو برسوں میں دوائیوں کی قیمتیں کیسے مرحلہ وار بڑھائی گئی ہیں حقائق سامنے آنے پر آپ کے چھکے چھوٹ جائیں گے۔
دوسری جانب ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی حکام ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی خبروں کی تردیدی کرتے نظر آتے ہیں۔ حکام کے مطابق حکومت نے ادویات کی قیمتوں میں کسی قسم کا منظم اضافہ نہیں کیا۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل خبریں بے بنیاد ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس صورت حال کی جڑیں فروری 2024 میں جاری ہونے والے ایک حکومتی نوٹیفکیشن سے ملتی ہیں، جس کے تحت ادویات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی تھی۔ اس پالیسی کے مطابق اگر کسی کمپنی کی جانب سے قیمت بڑھانے کی درخواست پر ایک مخصوص مدت میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی فیصلہ نہیں کرتی، تو کمپنی خود ہی نئی قیمت نافذ کرنے کی مجاز بن جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اسی حکومتی پالیسی کے باعث گزشتہ دو برسوں کے دوران ادویات کی قیمتیں مرحلہ وار بڑھتی رہی ہیں، جس کا مجموعی اثر اب واضح طور پر سامنے آ رہا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات اور سولر پر مزید 18 فیصد ٹیکس لگانے کی تیاریاں
ماہرین کے مطابق ڈرگ پرائسنگ پالیسی 2018 اور فروری 2024 کے نوٹیفکیشن کی وجہ سے تقریباً 90 ہزار برانڈز کو ڈی کنٹرول کر دیا ہے جبکہ پانچ ہزار سے زائد برانڈز نے اپنی پراڈکٹس کی قیمتوں میں 80 فیصد سے 247 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور گلف کرائسس نے خام مال کی درآمد، فریٹ چارجز اور پیٹرول/ڈیزل کی قیمتوں میں 20 فیصد سے زائد اضافے کی وجہ سے آنے والے دنوں میں ادویات کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ فارما انڈسٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی سطح پر خام مال کی قیمتوں میں اضافہ، اور ایندھن کے بڑھتے ہوئے نرخ بھی ادویات کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ درآمدی اخراجات اور فریٹ چارجز میں اضافے نے بھی کمپنیوں کے لیے لاگت بڑھا دی ہے۔ جس کی وجہ سے ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ناقدین کے بقول ادویات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے نہ صرف عوامی غم و غصے کو جنم دیا ہے بلکہ صحت کے شعبے میں ایک نئے بحران کی بھی بنیاد رکھ دی ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں مریضوں کے لیے علاج مزید مشکل ہو سکتا ہے، اور صحت عامہ پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے شفاف پالیسی، سخت نگرانی اور عوامی مفاد کو ترجیح دینا ناگزیر ہے، بصورت دیگر “میڈیسن بم” کا یہ اثر آنے والے وقت میں مزید تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
