مریم نواز کی پنجاب حکومت کتنی مضبوط اور مستحکم ہو گی؟

پاکستان میں مرکزی حکومت قائم کرنے کا راستہ زیادہ تر صوبہ پنجاب سے ہو کر گزرتا ہے اور عمومی طور پر جس سیاسی جماعت کو انتخابات میں پنجاب سے برتری حاصل ہو جائے اس کے لیے مرکز کا دروازہ باآسانی کُھل جاتا ہے۔ حالیہ انتخابات کے نتائج کے بعد نون لیگ بغیر کسی اتحاد کھ پنجاب میں حکومت سازی کی پوزیشن میں آ چکی ہے تاہم سیاسی مبصرین سمجھتے ہیں اگرچہ اس مرتبہ ن لیگ بظاہر باآسانی حکومت قائم کرتی نظر آ رہی ہے تاہم ساتھ ہی ماضی کی طرح پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار دوسرا بڑا گروپ بن کر سامنے آئے ہیں اور ان کی نشستیں سو سے زیادہ ہیں۔ماضی میں پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت کو کڑے وقت کا سامنا اس لیے کرنا بڑا کہ بنیادی طور پر اُن کی اپنی ’نمبر گیم‘ مضبوط نہیں تھی یعنی ان کے پاس حکومت بنانے کے لیے درکار نمبرز نہیں تھے۔اس کے لیے انھیں آزاد امیدواروں اور ق لیگ کی ضرورت پڑی۔ اس میں قباحت یہ تھی کہ ان اراکین کا تعلق ان کی جماعت سے نہیں تھا اس لیے وہ کسی بھی وقت وفاداری تبدیل کر سکتے تھے اور یہی ہوا بھی۔

تاہم صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ اس مرتبہ ن لیگ کے پاس مطلوبہ نمبرز باآسانی پورے ہو رہے ہیں اور ’وہ حکومت بناتے نظر آ رہے ہیں۔ اور یہ حکومت ماضی کے برعکس مستحکم حکومت نظر آ رہی ہے۔‘

پنجاب اسمبلی میں اس وقت پارٹی پوزیشن پر نظر ڈالی جائے تو کسی بھی جماعت کے پاس واضح اکثریت موجود نہیں۔ تاہم ن لیگ سب سے بڑی جماعت ہے جس کی 137 نشستیں تھیں اور دوسرے نمبر پر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی تعداد 116 تھی۔ن لیگ کا دعوٰی ہے کہ وہ اب تک 16 آزاد امیدواروں کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ اسمبلی میں آزاد امیدواروں کی کل تعداد 22 تھی جو کسی بھی جماعت کی ٹکٹ کے بغیر انتخابات میں جیتے ہیں۔یوں اگر ن لیگ کو ملنے والی خواتین کی مخصوص نشستوں اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو ملایا جائے تو وہ باآسانی 186 کا ہدف عبور کرتی نظر آ رہی ہے۔

صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ ن لیگ کو اس وقت پنجاب میں حکومت قائم کرنے کے لیے کسی دوسری جماعت سے اتحاد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ان کے خیال میں ’آنے والے چند دنوں میں چند مزید آزاد امیدوار بھی ان کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں جس سے ان کی نمبر گیم مزید مستحکم ہو جائے گی۔‘باقی جماعتوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کی 10 جبکہ ق لیگ کی 8 نشستیں ہیں۔ تاہم سہیل وڑائچ کے خیال میں ن لیگ کو اب ان میں سے ’کسی کے ساتھ اتحاد کی ضرورت نہیں۔ باقیوں کو ضرورت ہو سکتی ہے۔‘ کیونکہ اگر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کسی جماعت کے ساتھ شامل نہیں ہو پاتے اور ان کا درجہ آزاد امیدوار کا ہی رہتا ہے تو اس صورت میں ن لیگ کو ملنے والی مخصوص نشستوں کی تعداد مزید بڑھ جائے گی۔

دوسری جانب صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی کے خیال میں مریم نواز شریف کے وزیراعلیٰ بننے کے ساتھ باقی بچنے والے آزاد امیدوار بھی ن لیگ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ ضرورت نہ ہونے کے باوجود بھی ن لیگ پی پی پی کے ساتھ پنجاب میں اتحاد کر سکتی ہے۔

تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق اگرچہ ن لیگ اگر کسی دوسری جماعت کے ساتھ اتحاد کیے بغیر بھی حکومت بنا سکتی ہے تو پھر بھی وہ پی پی پی اور ق لیگ سے اتحاد کیوں کرنا چاہے گی۔ اس کی وجہ مرکز میں حکومت سازی ہے۔ ’میری اطلاعات کے مطابق مرکز میں ن لیگ اور پی پی پی مل کر حکومت بنانے جا رہے ہیں اور اس کے بعد وہ پنجاب میں بھی اتحاد کرنا چاہیں گے۔‘سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ ’اگر ن لیگ اور پی پی پی مرکز میں حکومت بنانے پر رضامند ہو جاتے ہیں تو پی پی پی پنجاب میں بھی حکومت میں شراکت دار ہو گی۔‘ وہ بھی اس بات سے متفق ہیں کہ پنجاب کی حد تک ایسا اتحاد حکومت سازی کے لیے ن لیگ کی ضرورت نہیں ہے۔

تاہم یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ن لیگ مرکز کو چھوڑ کر صرف پنجاب رکھ سکتی ہے؟صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ اس وقت اگر ن لیگ مرکز کو چھوڑ کر صرف پنجاب میں حکومت قائم کرتی ہے تو ’اس کو سیاسی طور پر فائدہ ہو گا۔ مرکز میں ویسے بھی اٹھارہوہیں ترمیم کے بعد زیادہ تر کام ٹیکس لگانے اور چیزوں کی قیمتیں بڑھانے یا کم کرنے کا ہی کام رہ گیا ہے۔‘وہ کہتے ہیں کہ ن لیگ ماضی میں بھی یہ کرتی آئی ہے کہ ’اس نے پنجاب کو اپنا مضبوط قلعہ بنایا ہے۔‘ سہیل وڑائچ کے مطابق اس طرح ن لیگ کو سیاسی طور پر فائدہ یہ ہو گا کہ ٹیکس بھی نہیں لگانے پڑیں گے اور بلوں کی قیمتوں کا بوجھ بھی نہیں اٹھانا پڑے گا۔وہ کہتے ہیں کہ اُن کو مرکز سے اپنے حصے کے 1100 ارب روپے تو مل ہی جائیں گے جو وہ ترقیاتی کاموں پر استعمال کر کے آئندہ کے لیے پنجاب میں اپنی سیاسی ساکھ مضبوط کر سکتے ہیں۔

تجزیہ نگار سلمان غنی بھی سمجھتے ہیں کہ صوبہ پنجاب میں حکومت بنانے کا ن لیگ کو فائدہ ہو گا کیونکہ ان کے خیال میں ’مرکز میں قائم ہونے والی کمزور حکومت زیادہ عرصہ چلتی نظر نہیں آ رہی۔ اس لیے پنجاب میں ایک مضبوط حکومت ان کے فائدے میں ہو گی۔‘تاہم سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ مرکز میں بھی ’پی پی پی کو ساتھ ملا کر ن لیگ کی حکومت بنانے کا فیصلہ تقریبا ہو چکا ہے۔‘

تاہم یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا مستقبل میں نمبرز گیم بدل سکتی ہے؟ماہرین کے مطابق پنجاب کی حد تک اس مرتبہ ن لیگ کی نمبر گیم کافی حد تک مستحکم نظر آ رہی ہے۔ دوسری طرف اگر ان کی حکومت زیادہ تر ان آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کر بنتی ہے جن کا تعلق ان کی جماعت سے نہیں رہا تو کیا وہ کسی بھی وقت وفاداریاں تبدیل نہیں کر سکتے؟

سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کی آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں میں سے بھی کچھ ن لیگ میں شامل ہو سکتے ہیں کیونکہ ’آزاد امیدوار زیادہ تر حکومت بنانے والی جماعت کی طرف ہی جاتے ہیں۔‘ان کے خیال میں وفاداری تبدیل کرنے پر سپریم کورٹ کے ماضی کے فیصلے کے بعد اب اس بات کا امکان کم ہے کہ ایک مرتبہ آزاد امیدواروں کو جماعت میں شامل کرنے کے بعد ن لیگ کی نمبر گیم کو زیادہ خطرہ ہو گا۔تو سوال یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار وفاداری کیسے بدل پائیں گے؟ سہیل وڑائچ کہتے ہیں تکنیکی طور پر اس وقت تک جب وہ کسی جماعت میں شامل ہو رہے ہوں گے تو وہ آزاد ہوں گے اور آزاد امیدوار کسی بھی جماعت میں جا سکتا ہے۔تاہم اگر پی ٹی آئی اس معاملے پر عدالت میں جا کر یہ مؤقف اپناتی ہے کہ ان امیدواروں نے ووٹ عمران خان کے نام پر حاصل کیا اس لیے یہ کسی دوسری جماعت میں نہیں جا سکتے تو تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کے خیال میں ’اس پر عدالت کو تشریح کرنا ہو گی۔‘وہ جو تشریح کرے گی اس کے مطابق فیصلہ ہو گا تاہم اس صورت میں بھی پنجاب میں ن لیگ کی حکومت کو بظاہر کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔

Back to top button