بابا رحمتے نے مریم نواز کو بدتمیز کیوں قرار دیا؟

گذشتہ دنوں مختلف صحافیوں سے آف کیمرہ عمران خان سے ملاقاتوں کا انکار کرنے والے جسٹس ثاقب نثار عرف بابا رحمتے نے عمران خان سے دو ملاقاتوں کا اعتراف کر لیا۔ جسٹس ثاقب نثار کے اعتراف سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ عمران خان کے دور اقتدار میں اپوزیشن کے خلاف احتساب کے نام پر جاری انتقامی مہم کا مشیر خاص یہی بابا رحمتے ہی تھاجن کی مشاورت سے اس وقت کی اپوزیشن کیخلاف کارروائیاں عمل میں لائی جاتی رہی ہیں۔

  اپنے حالیہ انٹرویو میں سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اعتراف کیا ہے کہ  ان کی عمران خان سے دوملاقاتیں ہوئیں پہلی ان کی وزارت عظمیٰ کے دور میں اور دوسری بعد میں ہوئی، پہلی ملاقات میں عمران خان نے کہا کہ نیب کیسز خراب ہورہے ہیں آپ گائیڈ کریں۔عمران خان نے کہا شہزاد اکبرکی جگہ اوربندہ بتائیں جوکیسزکو انجام تک لے جائے، تاہم بابا رحمتے نے انٹرویو میں ڈنڈی مارتے ہوئے کہا کہ میں نے عمران خان کو مشورہ دینے سے انکارکردیا اور کہا کہ خود فیصلے کریں۔ جب کہ دوسری ملاقات میں عمران خان کوکہا عدلیہ سے متعلق رات 12 بجے والی بات نہ کریں۔

سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کا ن لیگی رہنما مریم نواز کو بدتمیز قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ مریم نواز مجھے بابا ڈیم پکار کر تضحیک کررہی ہیں، میں نے انصاف کی بات کی اس لئے میرے پیچھے پڑگئے ہیں، عمران خان نے ان سے ملاقات میں نیب کیسز سے متعلق گائیڈ لائن مانگی تھی جس پر انہیں انکار کردیا تھا۔

 سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے مریم نواز کے عدلیہ مخالف بیان پر کہا کہ مریم نوازسیاسی فساداورمخصوص مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے، ن لیگ کے پاس سیاست چمکانے کے لیے کچھ اورنہیں اس لئےعدلیہ کوہدف بنایا۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ کو امید تھی میں بطورچیف جسٹس ان سےپرانےتعلقات کا خیال رکھوں گا لیکن میں نے انصاف کی بات کی اس لئے جب ریٹائرہوا تو میرے پیچھے پڑگئے۔

مریم نواز کی جانب سے ڈیم والے بابا پکارنے پر سابق چیف جسٹس نے کہا مریم نواز اب مجھے باباڈیم پکارکرتضحیک کررہی ہیں، کسی کی اولاد جب بدتمیز ہوجائے تویہ اس کے لیے سانحہ ہے،بے ادب، بدتمیز اولاد جس کو کسی بڑے سے متعلق بات کرنے کی تمیز ہی نہیں۔انھوں نے بتایا کہ میرے بچے ہنستے ہیں اورکہتے ہیں کہ ن لیگ نے آپ کو پھرزندہ کردیا، مریم نوازاورن لیگ کےسیاسی جھوٹ کا کیا جواب دوں۔انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ن لیگ کی مجھے بدنام کرنے کی 2 کوششیں ناکام ہوچکی ہیں، پہلی کوشش جعلی آڈیو سے ہوئی اوردوسری جج شمیم کے ذریعے کی گئی۔انہوں نے کہا ہےکہ عمران خان نے ان سے ملاقات میں نیب کیسز سے متعلق گائیڈ لائن مانگی تھی جس پر انہیں انکار کردیا تھا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا موجودہ ججزسے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں

دوسری طرف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے بدتمیز قرار دینے پر چیف آرگنائزر مسلم لیگ ن مریم نواز کا سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں بدتمیز نہیں ہوں ، صرف تمھیں چہرہ دیکھا رہی ہوں۔ مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ ثاقب نثار کہتا ہے مریم نواز بد تمیز ہے، میری تربیت نواز شریف اور کلثوم نواز نے کی ہے، مریم نواز بدتمیزی نہیں کر رہی آئینے میں تمہارا چہرہ دکھا رہی ہوں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جسٹس ثاقب نثار کو آج کل اپنی آڈیوز کے لیک ہونے کا خطرہ ہے اور ان کو اس بات کا یقین ہے کہ ان کی آڈیوز لیک کرنے کے پیچھے مریم نواز ہیں۔ اسی اندیشے کی وجہ سے سے بابا رحمتے مریم نواز کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ چندروز قبل میرا وٹس ایپ ہیک ہو گیا تاحال ریکور نہیں کیا جا سکا۔ خدشہ ہے کہ میرے موبائل ڈیٹا کو کسی خاص مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے تاہم اپنی خفت کو مٹاتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ میرا وٹس اپ ہیک کرنے والوں کو شرمندگی ہی ہوگی۔ اس سے قبل بھی میری مختلف ویڈیوز کو جوڑ کر ایک آڈیو بنائی گئی تھی۔ کسی کی نجی زندگی میں مداخلت چوری کے زمرے میں آتا ہے۔ ان کی ایسی بے ربط باتوں سے لگتا ہے کہ ان کے واٹس ایپ میں موجود اچھا خاصہ مواد متعلقہ لوگوں کے ہاتھ لگ چکا ہے جس میں ان کے متنازع فیصلوں اور ہینڈلرز بارے تمام معلومات موجود ہے اور اپنی چوری سامنے آ جانے کے خوف سے ہی میاں ثاقب نثار نے وضاحتوں کا سلسلہ جاری کر رکھا ہے۔

دوسری طرف متوقع آڈیولیک کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صحافی عادل شاہ زیب کا کہنا تھا کہ انہیں مکمل یقین ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار  کا واٹس ایپ ہیک ہونے والا بیان اس بات کی پیشگی اطلاع ہے کہ ان کے واٹس ایپ کے ڈیٹا کو جوڑ کر ان کی جعلی آڈیو بنائی جائے گی۔ صحافی نے مزید کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ سابق چیف جسٹس کی آڈیو ریلیز ہونے والی ہے جس سے بہت سے لوگ چونک جائیں گے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل صحافی عمر چیمہ نے بھی اپنےوہ-لاگ میں کہا تھا کہ آڈیو لیکس کا طوفان ابھی تھمتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ کچھ آڈیو لیکس آچکی ہیں اور آئندہ کچھ دنوں میں مزید  آنے  کا خطرہ ہے۔ یہ وہ آڈیو ٹیپس ہیں جس میں ماضی اور حال دونوں کی ریکارڈنگز ہیں۔ ان میں حاضر سروس اور سابق دونوں طرح کے جج صاحبان کی مختلف کیسز کے حوالے سے غیر متعلقہ افراد سے گفتگو ریکارڈ ہے

کشیدہ سیاسی صورتحال، IMF معاہدے میں تاخیر کی وجہ قرار

Back to top button