مشرق وسطیٰ تنازع عالمی معیشت کےلیے بڑا سپلائی شاک ہے: وفاقی وزیر خزانہ

 

 

 

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مشرقی وسطیٰ تنازع عالمی معیشت کے لیے بڑا سپلائی شاک ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی میں اعلیٰ سطح کی پینل ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان نے توانائی کی فراہمی میں تسلسل برقرار رکھا، سبسڈی کے بعد پیٹرولیم قیمتوں میں کمی کی، ٹارگٹڈ سبسڈی جاری ہے، بحران کے باوجود صورتحال بہتر انداز میں سنبھالی۔

دوسری جانب انہوں نے کہا کہ اصل چیلنج اصلاحات پر عملدرآمد ہے، ٹیکس نظام میں اصلاحات، ٹیکس ٹو جی ڈی پی بڑھانے کی کاوش ہے، ایف بی آر میں ڈیجیٹائزیشن اور آٹومیشن کا عمل جاری ہے، صنعت کے لیے مستقل سبسڈی کا خاتمہ، مسابقتی ماڈل اپنانے کی ضرورت ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مزید کہا ہے کہ چاروں صوبوں میں زرعی آمدن ٹیکس قانون سازی مکمل کی گئی، 28 سرکاری ادارے نجکاری کیلئے پرائیویٹائزیشن کمیشن کو بھیجے گئے،کاروباری ماحول کو بہتر بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

مذاکرات ناکام ہونے کے باوجود بریک تھرو کی امید کیوں باقی ہے؟

انہوں نے  کہا کہ یورو بانڈ ادائیگی ’’نان ایونٹ‘‘ رہی، بیرونی ادائیگیوں پر اعتماد کا اظہار ہے، کراچی پورٹ پر ٹرانزٹ ٹریفک میں ریکارڈ اضافہ ہوا، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں مارچ میں ریکارڈ ترسیلات آئیں، ترسیلات زر پائیدار حل نہیں، برآمدات پر توجہ ضروری ہے۔

 

Back to top button