مشرق وسطیٰ کشیدگی: عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے سبب عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
اس کشیدگی کے دوران دنیا کے اہم تیل اور گیس کے راستوں میں سے ایک، آبنائے ہرمز، امریکی اور اسرائیلی جنگ کے اثرات کے باعث بند ہو گیا ہے۔
امریکی خام تیل کی قیمت میں 1988 کے بعد سب سے بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا، اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 30 فیصد اضافے کے ساتھ 118 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ برطانوی خام تیل (برینٹ) کی قیمت بھی 28 فیصد اضافے کے بعد 119 ڈالر فی بیرل تک گئی اور پھر معمولی کمی ہوئی۔ اس وقت خام تیل تقریباً 110 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ ہے : قطری وزیر توانائی
تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات ایشین اسٹاک مارکیٹس پر بھی ظاہر ہوئے۔ جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ چار دن میں دوسری بار کریش کر گئی، اور 8 فیصد کمی کے بعد کاروبار روکنا پڑا۔ جاپان کی اسٹاک مارکیٹ بھی شدید دباؤ میں رہی، جہاں انڈیکس میں 6 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔
