مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی: روسی صدر اور سعودی ولی عہد کا اہم ٹیلیفونک رابطہ

روسی صدر ولادیمر پیوٹن نے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی تازہ کشیدگی، خاص طور پر ایران سے متعلق جاری بحران پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے خطے میں صورتِ حال کے ممکنہ پھیلاؤ اور وسیع تر خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر موجودہ کشیدگی باقاعدہ حل نہ کی گئی تو اس کے سنگین انسانی اور سکیورٹی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
روس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ صدر پیوتن نے سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ موجودہ “انتہائی خطرناک” صورتحال کا رخ تبدیل کیا جا سکے۔
محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ ایسے حساس حالات میں روس ایک مثبت اور مستحکم کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ اس کے تعلقات نہ صرف ایران بلکہ خلیجی ممالک کے ساتھ بھی مضبوط ہیں۔
روسی اور سعودی قیادت نے خطے میں تناؤ کیخلاف سفارتی کوششوں کی اہمیت پر اتفاق کیا اور اس بات پر زور دیا کہ فوری جنگ بندی اور بات چیت ہی بحران کو کم کرنے کا واحد راستہ ہے۔
یہ ٹیلی فونک گفتگو اس وقت سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے اور متعدد ممالک کشیدگی کے بڑھتے خطرات کے بارے میں اظہارِ تشویش کر رہے ہیں۔
