مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے عالمی توانائی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی توانائی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں 15 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔
یورپ میں گیس کی قیمتیں 30 فیصد سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی جاری رہی تو قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائیاں کیں، جس سے خلیجی خطے میں بے چینی بڑھ گئی۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال نے عالمی منڈیوں کو خوفزدہ کر دیا۔
آبنائے ہرمز دنیا کا ایک اہم بحری راستہ ہے جہاں سے تقریباً 20 فیصد عالمی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ جنگی خطرات کے باعث جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی ہے۔ اس خدشے کی وجہ سے برینٹ خام تیل کی قیمت 84 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی، اور بعض تجزیہ کار 90 سے 100 ڈالر تک جانے کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
یورپ میں صورتحال اور بھی سنگین ہے۔ ایرانی حملوں کے بعد قطر کی ایل این جی تنصیبات متاثر ہوئیں، جس کے بعد یورپی گیس کی قیمتوں میں تیز اضافہ دیکھا گیا۔ یورپ کی بڑی گیس مارکیٹ ٹی ٹی ایف میں قیمتیں 30 فیصد سے زیادہ بڑھ گئیں۔
یورپ پہلے ہی روس سے گیس کی سپلائی کم ہونے کے بعد دباؤ میں ہے، اس لیے نئی رکاوٹ نے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ اگر سپلائی مزید متاثر ہوئی تو یورپ میں بجلی اور گیس کے بل مزید بڑھ سکتے ہیں۔
