کیا 9 مئی والوں کو فوجی عدالتوں سے ہی سزا دلوائی جائے گی؟

سینئر صحافی اور کالم نگار مزمل سہروردی نے کہا ہے کہ سویلنز کے ملٹری کورٹس میں ٹرائل کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف اگر سپریم کورٹ نے اپیل مسترد بھی کر دی، تب بھی اگلے انتخابات کے بعد جو پارلیمان وجود میں آئے گی ، وہ اپنے پہلے اجلاس میں آئین میں ایسی ترمیم کرے گی جس میں نو مئی کے ملزمان کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل کا راستہ نکالا جائے گا۔اس سے پہلے بھی دہشت گردوں کے ملٹری کورٹ سے ٹرائل کی آئینی ترمیم ہو چکی ہے۔ اسی طرح اب نو مئی کے ملزمان کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل کے لیے آئینی ترمیم ہوگی۔ اپنے ایک کالم میں مزمل سہروردی کہتےہیں کہ سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دینے کے سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے حالیہ فیصلے کے بعد کچھ لوگوںکی رائے تھی کہ اب سویلینز کا ملٹری کو رٹ میں ٹرائل کا راستہ بند ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی سانحہ نو مئی کے ملزمان کی بھی ملٹری کورٹس سے جان چوٹ چکی ہے۔ لیکن ایسا ہو گا نہیں. سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی بہت سے قانونی راستے موجود ہیں۔ پہلے قدم پر حکومت سمیت کئی فریقین نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کر دی ہیں۔ کچھ ماہرین اور تجزیہ کروں کی رائے ہے کہ شاید یہ اپیلیں بھی کامیاب نہیں ہوں گی، یوں سویلینز کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل کے تمام راستے بند ہوجائیں گے۔ جس کے بعد نو مئی کے ملزمان کا بھی ملٹری کورٹ میں ٹرائل کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ملٹری ٹرائیلز کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف سینیٹ کی منظور کردہ قرارداد مستقبل کے راستے کا بتا رہی ہے۔ مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ اگر سپریم کورٹ نے اپیلیں بھی مسترد کر دیں ، تب بھی اگلے انتخابات کے بعد جو پارلیمان وجود میں آئے گی ، وہ اپنے پہلے اجلاس میں آئین میں ایسی ترمیم کرے گی جس میں نو مئی کے ملزمان کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل کا راستہ نکالا جائے گا۔ کسی بھی صورت یہ کام نہیں رک سکے گا کیونکہ 9مئی کے واقعات کی سنگینی وقت گزرنے کے ساتھ بھی کم نہیں ہو گی۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں اس کے لیے تیار نظر آتی ہیں۔اس کو روکنے کا واحد راستہ یہی نظر آتا ہے کہ اگلے عام انتخابات میں تحریک انصاف پارلیمان میں ایک بڑی قوت بن کر آجائے لیکن پھر بھی راستہ بن جائے گا‘ یہی حقیقت ہے۔ سینیٹ میں جو قرارداد منظور ہوئی ہے اس میں سپریم کورٹ کے ایک بنچ کی جانب سے سویلینز کے ملٹری کورٹس میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کے فیصلے پر تنقید کی گئی ہے اور اس فیصلے کو آئین سے تجاوز قرار دیا گیا ہے۔ اس قسم کی قرارداد پہلے بھی سینیٹ سے منظور ہو چکی ہے تاہم اس وقت قومی اسمبلی بھی قائم تھی، جب قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں نے نو مئی کے ملزمان کے ملٹری کورٹس کے ٹرائل کے حق میں قراردادیں منظور کی تھیں۔ اس لیے یہ سینیٹ میں دوسری ایسی قرارداد ہے۔
جس دن قرار داد پاس ہوئی، اس دن صرف دو سنیٹرز نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔ ۔ بعدازاں بھی اختلاف میں ایک دو آوازیں ہی آئی ہیں اس قرارداد کی منظوری کے وقت بھی کوئی بڑا احتجاج نہیں ، سینیٹ کی دو بڑی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نو مئی کے ملزمان کے ملٹری کورٹس کے ٹرائل کے حق میں ہیں۔ اس لیے قراردادا کے حق میں ووٹ کوئی حیرانی کی بات نہیں۔ باپ پارٹی بھی نو مئی کے ملزمان کے ملٹری کورٹس کے ٹرائل کے حق میں ہے۔ سوال صرف تحریک انصاف کا ہے۔ مزمل سہروردی کے مطابق پہلے تو سینیٹ میں قرارداد کی منظور ی کے وقت تحریک انصاف کے جو سنیٹرز موجود تھے، انھوں نے بھی اس قراداد کے خلاف ووٹ نہیں ڈالا بلکہ وہ خاموش رہے۔ یوں اس قرارداد کے خلاف صرف دو ووٹ آئے جو پیپلز پارٹی کے سنیٹر رضا ربانی اور جماعت اسلامی کے سنیٹر مشتاق کے تھے۔ تحریک انصاف کے ایک بھی سنیٹر نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ نہیں ڈالا۔ تحریک انصاف کے سنیٹرز سینیٹ میں بہت فعال ہیں۔ لیکن اس قرادداد پر وہ خاموش ہیں۔ ان کی خاموشی معنی خیز ہے۔ کیا ہم خاموشی کو نیم رضامندی سمجھیں؟ ان کی خاموشی نے قرارداد کے حق میں راہ ہموار کی ہے۔ کیا وہ ملٹری کورٹس سے ٹرائل کے حق میں سہولت کاری کر رہے ہیں؟ کیا وہ دبائو میں ہونے کی وجہ سے خاموش ہیں؟ اگر دبائو میں ہیں تو سینیٹ چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟ کیا اس خاموشی کو چیئرمین پی ٹی آئی کی حمایت حاصل ہے؟ کیا تحریک انصاف دہری حکمت عملی پر چل رہی ہے۔ مفاہمت بھی کی جا رہی ہے ، مزاحمت بھی کی جا رہی ہے۔ کیا چیئرمین پی ٹی آئی سینیٹ میں اپنے ارکان پر کنٹرول کھو بیٹھے ہیں؟ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر سینیٹ کے ارکان نے ووٹ نہیں دیا، وہ خاموش رہے لیکن تحریک انصاف بطور سیاسی جماعت خود خاموش کیوں ہے؟ مزمل سہروردی پوچھتے ہیں کہ کیا چیئرمین تحریک انصاف کو اپنے سینٹرز کی خاموشی پر پریس ریلیز جاری نہیں کر دینا چاہیے تھا کہ یہ سب غدار ہیں، یہ لوٹے ہو گئے ہیں۔ ان کے بچوں سے کوئی شادی نہ کرے۔ حال ہی میں چیئرمین تحریک انصاف نے اپنی بہن علیمہ خان کے ذریعے صدر مملکت کے خلاف بیان جاری کرایا تھا۔اس طرح وہ چاہتے تو سنیٹرز کے خلاف بیان بھی جاری کرا سکتے تھے۔ پارٹی ترجمان بھی ناراضی کا اظہار کر سکتے تھے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا، اس لیے تحریک انصاف کی خاموشی معنی خیز ہے،جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے
پاکستانی عوام کا فوج پر مشروط اعتماد اور عدلیہ پر عدم اعتماد
پس پردہ یقیناً کچھ نہ کچھ اسرار ہوں گے۔
