تیراوادی میں فوجی آپریشن بارے سوشل میڈیا انقلابیوں کاجھوٹابیانیہ

سوشل میڈیا پر خود ساختہ انقلابیوں کی جانب سے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کے حوالے سےجھوٹ اور گمراہ کن معلومات کا بازار گرم ہے۔وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے قبائلی عوام کی حالتِ زار کے نام پر من گھڑت اور مبالغہ آمیز کہانیاں پھیلائی جا رہی ہیں، تاکہ حقائق کو مسخ کر کے ریاستی کارروائی کو متنازع بنایا جا سکے۔ تاہم سیکیورٹی ذرائع نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو فسادی عناصر اور دہشت گردوں کے ہمدردوں کی منظم کارستانی قرار دےدیا ہے۔۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق زمینی حقائق سوشل میڈیا پر وائرل بے بنیاد اور جھوٹے دعوؤں کے بالکل برعکس ہیں۔ وادیٔ تیراہ سے عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے تمام ضروری انتظامات آپریشن سے قبل ہی مکمل کر لیے گئے تھے۔ متاثرہ خاندانوں کو نہ صرف محفوظ، باعزت اور بنیادی سہولیات سے آراستہ عارضی رہائش گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں بلکہ ان کی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر خاندان کو ماہانہ بنیادوں پر مالی امداد بھی دی جا رہی ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حکومت اور سیکیورٹی ادارے متاثرہ قبائلی عوام کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دے رہے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی منفی مہم کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں کو نقصان پہنچانا ہے۔
خیال رہے کہ وادیٔ تیراہ میں مجوزہ فوجی آپریشن کے حوالے سے سوشل میڈیا پر افواہوں کا طوفان برپا ہے، جبکہ اس معاملے کا ایک قابلِ توجہ پہلو یہ ہے کہ ان افواہوں کو پھیلانے والے اکثریتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا تعلق تحریک انصاف سے وابستہ حلقوں سے بتایا جا رہا ہے، جہاں سے بغیر کسی تصدیق کے بے بنیاد اور گمراہ کن خبریں مسلسل شیئر کی جا رہی ہیں۔ ان خبروں میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فوجی آپریشن کے باعث ہزاروں قبائلی خاندان بغیر کسی پیشگی اطلاع کے بے گھر ہو گئے ہیں اور انہیں نہ تو رہائش فراہم کی جا رہی ہے اور نہ ہی انھیں خوراک، علاج یا دیگر بنیادی سہولیات میسر ہیں۔ بعض پوسٹس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ متاثرہ افراد کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں اور ریاستی ادارے ان کی مدد سے مکمل طور پر لاتعلق دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایک اور گمراہ کن مہم کے تحت یہ خبریں بھی پھیلائی جا رہی ہیں کہ وادیٔ تیراہ میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کیا جا چکا ہے، جس میں عام آبادی اور گھروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور جبری نقل مکانی کروائی جا رہی ہے۔ ان خبروں کے ذریعے خوف و ہراس پھیلانے اور مقامی آبادی کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کارروائیاں محدود، انٹیلی جنس بیسڈ ہیں اور نقل مکانی قبائلی عمائدین اور مقامی آبادی کی رضامندی سے عمل میں لائی گئی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق نقل مکانی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے حکومت کی جانب سے 4 ارب پاکستانی روپے مختص کیے جا چکے ہیں، تاکہ متاثرہ خاندانوں کی امداد، بحالی اور بنیادی ضروریات کو بروقت اور منظم انداز میں پورا کیا جا سکے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ وادیٔ تیراہ میں سیکیورٹی آپریشن کے لیے قبائلی عمائدین نے خود فوج سے رابطہ کیا تھا اور اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ معصوم اور بے گناہ آبادی کو کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے وہ رضاکارانہ طور پر عارضی نقل مکانی پر آمادہ ہیں۔ متعلقہ اداروں نے بھی واضح یقین دہانی کرائی ہے کہ نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو مناسب رہائش، روزمرہ اخراجات کے لیے مالی امداد فراہم کی جائے گی، جبکہ آپریشن کے دوران اگر کسی گھر یا عمارت کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کا منصفانہ اور مناسب معاوضہ بھی ادا کیا جائے گا۔
پاکستانی طالبان کو حملوں میں افغان شہری استعمال نہ کرنے کا حکم
سیکیورٹی ذرائع کے بقول علاقے میں جاری کارروائیاں بدستور انٹیلی جنس بیسڈ رہیں گی اور کسی قسم کے بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن پر غور نہیں کیا جا رہا، تاکہ عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کم سے کم متاثر ہو اور کارروائیاں صرف دہشت گرد عناصر تک محدود رہیں۔ وادیٔ تیراہ میں تمام انتظامی اور فلاحی اقدامات کی نگرانی ضلعی انتظامیہ کر رہی ہے، جبکہ مقامی قبائلی عمائدین نے متفقہ طور پر اپنے علاقے سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کیا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ قبائلی عمائدین اور مقامی آبادی کی مکمل رضامندی کے بعد ہی نقل مکانی کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود چند شرپسند عناصر دانستہ طور پر جھوٹی اور گمراہ کن معلومات پھیلا رہے ہیں، جن کا مقصد دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔ عوام کو گمراہ کرنے والوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ جھوٹ اور پروپیگنڈا نہ تو ریاستی عزم کے سامنے ٹھہر سکتا ہے اور نہ ہی قبائلی عوام کے اجتماعی فیصلے کو کمزور کر سکتا ہے۔
