KPحکومت نےتیراہ نقل مکانی پروفاق کوکیسے گنداکیا؟

گذشتہ کئی ہفتوں سے ضلع خیبر کے علاقے وادی تیراہ میں مبینہ فوجی آپریشن اور لوگوں کی نقل مکانی کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ وادیٔ تیراہ سے ہزاروں افراد کی اچانک نقل مکانی نے ایک بار پھر ریاستی بیانیے اور زمینی حقائق کے درمیان گہری خلیج کو بے نقاب کر دیا ہے۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ وادی میں کسی فوجی آپریشن کی نہ تو منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور نہ ہی عوام کو علاقہ چھوڑنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ سرد موسم کی شدت کی وجہ سے عوام اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ تاہم وادی تیراہ کے مکین اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر کوئی آپریشن نہیں ہو رہا تو پھر لوگوں کو علاقہ خالی کرنے کی ڈیڈ لائنز کیوں دی گئیں، گولہ باری کیوں ہوئی اور ہزاروں افراد کو ٹرکوں میں اپنا سامان لاد کر کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر کیوں مجبور ہونا پڑا؟ بی بی سی اردو نے تیراہ سے بے گھر ہونے والے افراد سے بات کی توسامنے آنے والے حقائق سرکاری بیانات سے متصادم نظر آئے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق وفاقی حکومت کے دعوے اور زمینی حقائق ایک دوسرے کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وادی تیراہ سے متعلق یہ متضاد بیانات پہلے سے گمبھیر صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں، جہاں یہ سمجھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ وادی تیراہ میں اصل میں ہو کیا رہا ہے۔ اس غیر یقینی فضا میں اپنے گھروں کو چھوڑنے والے تیراہ کے لوگ مزید اضطراب اور پریشانی کا شکار نظر آتے ہیں۔

بی بی سی اردوکے مطابق وادی کے مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر حالات معمول کے مطابق ہوتے تو وہ شدید سردی کے باوجود اپنا گھر بار چھوڑنے پر کبھی آمادہ نہ ہوتے۔ تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے فضل رحیم کے مطابق ان کے گھر اور دکان کا تمام سامان کھلے آسمان تلے پڑا ہے، جبکہ ان کے پاس خود رہائش کا کوئی بندوبست نہیں۔ ان کے مطابق اگر نقل مکانی کی وجہ صرف سردی ہوتی تو وہ اپنے گھر میں موجود سہولیات کے ساتھ موسم گزار سکتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے وادی تیراہ کے عوام کی نقل مکانی کو سرد موسم کا نتیجہ قرار دینا ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

مقامی افراد کے مطابق انہیں مختلف اوقات میں علاقہ خالی کرنے کے لیے ڈیڈ لائنز دی گئیں۔ کبھی تین دن میں نقل مکانی کا کہا گیا اور کبھی 10 سے 25 جنوری کے درمیان علاقہ چھوڑنے کی ہدایت دی گئی۔ ان کے بقول پہلے آپریشن کی بازگشت سنائی دیتی رہی اور اس کے بعد فائرنگ اور گولہ باری شروع ہو گئی، جس کے باعث وہاں رہنا ممکن نہ رہا۔اسی تناظر میں کاشف آفریدی کہتے ہیں کہ انہوں نے کچھ عرصہ قبل ہی نیا مکان تعمیر کیا تھا، جس میں سردی سے بچاؤ کے لیے مناسب انتظامات موجود تھے۔ ان کے مطابق اگر حالات معمول کے مطابق ہوتے تو وہ خود اپنی مرضی سےصرف سرد موسم کی وجہ سے سب کچھ چھوڑ کر کبھی نہ آتے۔

بی بی سی اردو کے مطابق نقل مکانی کے ساتھ ساتھ علاقے میں خوراک کی قلت کی اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں۔ تیراہ سے تعلق رکھنے والے مقامی تاجر شیر افگن کے مطابق جیسے ہی علاقے میں ممکنہ آپریشن کی باتیں شروع ہوئیں، تیراہ کی جانب راشن لے جانے پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ ان کے مطابق آٹے سے لدا ایک ٹرک بڑی مشکل سے روانہ کیا گیا، مگر برفباری اور سکیورٹی صورتحال کے باعث وہ منزل تک نہیں پہنچ سکا۔ شیر افگن سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ لوگوں کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور نہیں کیا گیا تو پھر متاثرین کی رجسٹریشن اور امداد کا عمل کس بنیاد پر شروع کیا گیا۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق صرف 7 سے 15 جنوری کے درمیان 6,775 افراد وادی تیراہ سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ اگرچہ اس سے پہلے اور بعد کی نقل مکانی کے مکمل اعداد و شمار دستیاب نہیں، تاہم مقامی ذرائع کے مطابق متاثرین کی مجموعی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، جس سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔نقل مکانی کے اس عمل میں مقامی قبائل پر مشتمل 24 رکنی جرگے کا کردار بھی سامنے آیا ہے۔ جرگے کے ایک رکن کے مطابق یہ نقل مکانی کسی اچانک فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک معاہدے کے تحت عمل میں لائی گئی۔ ان کے بقول علاقے میں گزشتہ تین برسوں سے بدامنی، کرفیو اور مسلح جھڑپوں کے باعث معمولاتِ زندگی مفلوج ہو چکے تھے، جس کے بعد لوگوں نے ریاست کے سامنے اپنے مطالبات رکھے۔تاہم جب جرگے کے رکن سے یہ پوچھا گیا کہ کیا نقل مکانی کے بعد کسی بڑے فوجی آپریشن کا امکان ہے تو انہوں نے اس حوالے سے واضح جواب دینے سے گریز کیا، جس سے وادی تیراہ میں بڑے فوجی آپریشن کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں پہلے ہی روزانہ کی بنیاد پر مختلف نوعیت کی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔

تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق وادی تیراہ سے سردیوں کے موسم میں محدود پیمانے پر نقل مکانی کوئی نیا عمل نہیں، ماضی میں بھی کچھ خاندان، خاص طور پر وہ جن کے میدانی علاقوں میں بھی رہائشی انتظامات موجود ہوتے تھے، شدید سردی کے دوران عارضی طور پر وہاں منتقل ہوتے رہے ہیں۔ لیکن ان کے مطابق موجودہ نقل مکانی اس روایت سے یکسر مختلف دکھائی دیتی ہے۔ اس مرتبہ نہ صرف نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد غیر معمولی حد تک زیادہ ہے بلکہ لوگ عارضی قیام کے بجائے اپنا پورا گھر بار سمیٹ کر وادی تیراہ سے نکل رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بار خاندان چھوٹے سامان کے بجائے ٹرکوں میں فرنیچر، گھریلو اشیاء اور کاروباری اثاثے لاد کر منتقل ہو رہے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ لوگ چند ہفتوں کے لیے نہیں بلکہ غیر معینہ مدت کے لیے اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اس نوعیت کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی عام موسمی تبدیلی کا نتیجہ نہیں ہو سکتی بلکہ یہ کسی غیر معمولی سکیورٹی یا انتظامی صورتحال کی طرف اشارہ کرتی ہے، جسے محض سرد موسم سے جوڑ کر دیکھنا زمینی حقائق سے صرفِ نظر کے مترادف ہے۔

تیراہ وادی سے 70 ہزار افراد کی ہجرت کا ذمہ دار وفاق یا PTI

حقیقت یہ ہے کہ وادی تیراہ سے متعلق متضاد بیانات نے پہلے سے ہی گمبھیر صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایک طرف حکومت کسی بڑے آپریشن کی تردید کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب زمینی حقائق، مقامی افراد کے بیانات اور نقل مکانی کا حجم ایک مختلف کہانی بیان کر رہے ہیں۔ اس غیر یقینی ماحول میں سب سے زیادہ متاثر وہ عام شہری ہیں جو نہ سردی سے لڑ پا رہے ہیں اور نہ ہی اس سوال کا جواب ان کے پاس ہے کہ آخر انہیں اپنے گھروں سے کیوں نکلنا پڑا۔

Back to top button