سولرصارفین کے غائب کئےگئے کروڑوں یونٹس واپس ملنے کاامکان

سولر لگایا، بجلی بنائی اور گرڈ کو دی مگر بدلے میں ڈسکوز نے فراہم کردہ بجلی کے یونٹس بلوں میں شامل نہ کرتے ہوئے صارفین کو لاکھوں روپے کے بل تھما دئیے۔ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی مبینہ نااہلی، دانستہ بے ضابطگی اور بدعنوانی پر صدائے احتجاج بلند ہوئی تو حکام کو بھی ہوش آ گیا جس کے بعد اب لیسکو اور میپکو سمیت بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ہیرپھیر کر کے غائب کئے گئے سولر صارفین کے کروڑوں یونٹس بحال ہو گئے ہیں۔ وفاقی حکومت نے جنوری میں لاکھوں صارفین کو کروڑوں روپے کا چونا لگانے کی غلطی تسلیم کرتے ہوئے فروری کے بلوں میں مکمل کریڈٹ ایڈجسٹمنٹ دینے کا اعلان کر دیاہے۔

واضح رہے کہ گزشہ کئی دنوں سے ملک بھر میں نیٹ میٹرنگ صارفین کی جانب سے یہ شکایات سامنے آ رہی تھیں کہ سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کی بڑی تعداد نے جو یونٹس پیدا کر کے نیشنل گرڈ کو فراہم کیے انہیں بلوں میں کریڈٹ نہیں کیا گیا جس کے باعث سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کو لاکھوں روپے کے بجلی بل موصول ہوئےیعنی نیٹ میٹرنگ صارفین نے جو اضافی بجلی اپنے سولر سسٹمز سے نیشنل گرڈ کو دی اس کے بدلے وہ یونٹس ان کے بجلی کے بلوں میں ایڈجسٹ نہیں ہوئے۔جس کی وجہ سے ان کے بل غیر معمولی حد تک بڑھ گئے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی صارف نے 100 یونٹس بجلی پیدا کی اور خود 70 یونٹس استعمال کیے جبکہ 30 یونٹس گرڈ کو دیے تو وہ 30 یونٹس اس کے اکاؤنٹ میں کریڈٹ ہو کر اگلے بل میں ایڈجسٹ ہو جانے چاہییں۔تاہم بجلی کی مختلف تقسیم کار کمپنیوں کے نیٹ میٹرنگ صارفین نے یہ شکایات کی تھیں کہ کمپنیوں کی جانب سے طے شدہ معاہدے پر عمل نہیں کیا جا رہا۔ جس کی وجہ سے انھیں لاکھوں روپے کے بل موصول ہو رہے ہیں۔

 

تاہم تازہ پیشرفت کے مطابق سوشل میڈیا پر دھلائی کے بعد وزیر پانی و بجلی کے چودہ طبق روشن ہو گئے ہیں اور پاور ڈویژن نے سولر صارفین کے یونٹس کریڈٹ نہ ہونے کا مسئلہ حل ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے۔ ترجمان پاور ڈویژن کے بقول وزیر توانائی نے تمام ڈسکوز کو ہدایت کی ہے کہ جن صارفین کے بلوں میں یونٹس کا کریڈٹ شامل نہیں ہو سکا، ان کے لیے متعلقہ ایڈجسٹمنٹ اگلے بلنگ سائیکل میں کی جائے۔حکام نے واضح کیا کہ ’بعض نیٹ میٹرنگ صارفین نے اپنے منظور شدہ لائسنس سے زائد صلاحیت کے سولر سسٹم نصب کر رکھے ہیں ایسے صارفین کو نیشنل گرڈ کو فروخت کی گئی بجلی کے مکمل یونٹس کا کریڈٹ نہیں ملے گا۔ تاہم باقی جائز یونٹس کا کریڈٹ فروری کے بل میں شامل کر دیاجائے گا۔‘

فوجی آپریشن یا سردی، تیراہ سے نقل مکانی کی اصل وجہ کیا؟

خیال رہے کہ نیٹ میٹرنگ کے تحت سولر صارف دن کے وقت اپنی اضافی پیدا ہونے والی بجلی قومی گرڈ کو فراہم کرتا ہے اور رات یا ضرورت کے وقت گرڈ سے بجلی استعمال کرتا ہے۔ مہینے کے اختتام پر صارف کے برآمد شدہ یونٹس اور امپورٹ شدہ یونٹس کو آپس میں منہا کیا جاتا ہے۔ اگر صارف نے زیادہ بجلی گرڈ کو دی ہو تو اس کا بل کم ہو جاتا ہے یا بعض صورتوں میں صفر بھی آ جاتا ہے۔موجودہ نظام میں سولر صارفین کو برآمد شدہ بجلی پر وہی ریٹ ملتا ہے جو انہیں بجلی خریدنے پر ادا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم حکومت نے نئی سولر پالیسی کے تحت نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ کا نظام متعارف کروا رکھا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت سولر صارف کی درآمد شدہ بجلی پر قومی ٹیرف لاگو کیا جاتا ہے جبکہ برآمد شدہ بجلی کے یونٹس کو ایک علیحدہ مقررہ ریٹ یعنی 27 روپے فی یونٹ پر خریدا جاتا ہے۔نئے بلنگ فارمولے کے مطابق سب سے پہلے صارف کے استعمال شدہ یونٹس پر قومی ٹیرف کے مطابق بل بنایا جاتا ہے۔ اس کے بعد سولر صارف کی جانب سے گرڈ کو دی گئی بجلی کے یونٹس کا بل 27 روپے فی یونٹ کے حساب سے منہا کئے جاتے ہیں۔ اگر منفی کرنے کے بعد بل باقی رہتا ہے تو صارف کیلئے اس کی ادائیگی لازمی ہوتی ہے۔ تاہم رواں ماہ آنے والے بجلی کے بلوں میں سولر صارفین کے پیداکردہ بجلی کے یونٹس بلز سے بالکل ہی غائب کر رئیے گئے تھے جس کی وجہ سے جنوری میں سولر صارفین کو بھی لاکھوں کے بجلی کے بل موصول ہوئے تھے۔ تاہم اب صارفین کو فروری کے بلوں میں اپنے پیدا کردہ یونٹس کا مکمل کریڈٹ ملنے جا رہا ہے، جس سے نہ صرف انھیں لاکھوں روپے کی بچت ممکن ہوگی بلکہ عوام کا نیٹ میٹرنگ کے نظام پر اعتماد بھی بحال ہوگا۔

Back to top button