معاہدہ نہیں ہوا،سپریم کورٹ کی ہدایت پر کمیٹی تشکیل دی

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نےتحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ کوئی مذاکرات ہو رہے ہیں نہ کوئی معاہدہ ہے، اس حوالے سے بے بنیاد خبریں چلائی جا رہی ہے، سپریم کورٹ کی ہدایت پر 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ راوی پل پر 200 سے 250 لوگ واپس چلے گئے تھے، انہوں نے خود ہی گرفتاری کی خبریں چلوا دیں تھی، پنجاب کے باقی اضلاع میں کسی جگہ 40 کے قریب لوگ نظر آئے اور واپس چلے گئے، پنجاب کے لوگوں کا فتنہ، فساد کا حصہ نہ بننے پر شکر گزار ہوں۔
انکا کہناتھایہ شخص نوجوان نسل کو گمراہ اور تقسیم کرنا چاہتا ہے، نوجوان اس کے ایجنڈے کا ہرگز حصہ نہ بنیں، بلوچستان کے عوام کو فتنہ، فساد مارچ بارے معلوم ہی نہیں، سندھ کی صورتحال پرامن ہے، سندھ کے لوگوں نے بھی فتنہ، فساد مارچ کا حصہ بننے سے انکار کیا،اس وقت خیبر پختونخوا میں ایکٹویٹی ہے، خیبرپختونخوا سےعلی امین گنڈا پور، امجد نیازی کے پاس پوری مشینری اور اسلحہ بھی ہے، سرکاری پروٹوکول کے ساتھ وفاق پر چڑھائی کے لیے رواں دواں ہے۔
وزیر داخلہ نے کہاانقلابی لیڈر خود ہیلی کاپٹر کے ذریعے صوابی پہنچا، جب عمران خان نے خطاب کیا اس وقت 10 سے 11 ہزار لوگ تھے، یہ ہے عوامی سیلاب جس کو لیکر اسلام آباد کی طرف بڑھ رہے ہیں، اگر ان میں کوئی احساس شرمندگی ہے تو وہی پر دھرنے کو کال آف کر دینا چاہیے تھا، اپنے ٹارگٹ کا 20 فیصد ہی پورا کر لیتے، پانچ سے 7 ہزار آدمی لیکر اسلام آباد چلے ہو، اگر تمہارے پلے یہی کچھ تھا تو اتنا فراڈ، جھوٹ بولا، اگر یہی کچھ ہونا تھا تو ہمیں بھی اپنے انتظامات پر شرمندگی ہوئی۔
رانا ثنا نے کہالاہور سے 250 سے زائد افراد مارچ کے لیے نکلے، صورتحال بتائی جارہی تھی کہ عوامی سیلاب ہوگا، یہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کا جتھہ ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا جتھے میں شریک ہونا افسوس ناک بات ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا شرکت کرنا غیر آئینی عمل ہے، یہ تو کہتے تھے خونی مارچ ہوگا آج وہ لوگ نظر نہیں آرہے، عمران خان نے تین بجے سرینگر روڈ کا وقت دیا تھا، بیس لاکھ تو کیا بیس کارکن بھی نہیں پہنچ سکے، فواد چودھری دو ڈھائی سو بندوں کے سیلاب کو لیکر رواں دواں ہے، تین مارچ سے انہوں نے پوری قوم کو یرغمال بنایا ہوا تھا۔
اجتماعی استعفوں کی تجویز پر پی ٹی آئی میں اختلافات
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھاعوام کو تکالیف کا سامنا کرنے پر معذرت خواہ ہوں، آج آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ہونے تھے آج ہی انہوں نے یہ دن رکھا، پاکستان کے عوام کو فتنہ، فساد مارچ میں شرکت نہ کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، عوام نے شر انگیزی، فتنے کو مسترد کیا، اس کا بیانیا صرف سوشل میڈیا پر ہی تھا، سوشل میڈیا پر ہی انہوں نے طوفان برپا کیا ہوا تھا، محب وطن قوم ملک کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتی ہے، میڈیا نے بہت ہی مثبت رول ادا کیا، خیبرپختونخوا کی طرف سے جو لوگ آرہے ہیں ان کی مکمل خاطر، مدارت، استقبال کا بندوبست کیا ہوا ہے۔
