مائنس ون فارمولہ PTI حکومت بچانے کی ناکام کوشش

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد سیاسی منظر نامے میں ایک بار پھر مائنس وَن کا شور بپا ہو چکا ہے
اور یہ تجویز دی جا رہی ہے کہ پارٹی کے اندر ہی سے کپتان کی جگہ ٹیم کی قیادت کسی اور کو سونپ کر اسے وزیر اعظم بنا دیا جائے اور ملک کو مسائل سے نکالنے کے لیے تمام جماعتوں پر مبنی ایک قومی حکومت تشکیل دی جائے۔ دراصل اس فارمولے کا بنیادی مقصد پی ٹی آئی حکومت کو برقرار رکھنا اور چہرہ بدل دینا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مائنس ون کی تجویز اب حکومتی اراکین قومی اسمبلی کھل کر آگے بڑھا رہے ہیں۔ تازہ مطالبہ کراچی سے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی نجیب ہارون کی جانب سے آیا ہے جنہوں نے کہا ہے کہ عمران وزارت عظمی چھوڑ کر شاہ محمود قریشی یا اسد عمر کو حکومت سونپ دیں تا کہ ملک کو سیاسی بحران سے نکالا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اب صرف پارٹی کی حد تک معاملات دیکھنے چاہیے۔ نجیب ہارون کا کہنا تھا کہ وہ اختلاف کے باوجود عدم اعتماد میں عمران خان کا ساتھ دیں گے لیکن پارٹی کو بچانے اور دھڑوں میں تقسیم کرنے سے بہتر ہے کہ وزیر اعظم اپنی ذات کو مائنس کر کے سب کے اجتماعی مفاد بارے سوچیں اور کسی اور پارٹی لیڈر کو وزیراعظم بنوا دیں۔
دوسری طرف کپتان کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے کنونیئر خالد مقبول صدیقی اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے بھی کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت بچ سکتی ہے لیکن عمران خان کا وزیراعظم رہنا مشکل ہے۔
تاہم مائنس ون فارمولے سے پی ٹی آئی حکومت برقرار رکھنے کی تجویز اس لئے قابل عمل نہیں کہ اب تو حکومت کا جانا ٹھہر چکا ہے اور یہ فیصلہ پی ٹی آئی نے نہیں بلکہ اپوزیشن نے کرنا ہے کہ اگلا وزیر اعظم کون ہو گا؟
جہاں تک قومی حکومت کی تجویز کا تعلق ہے تو آئین میں اس کی گنجائش ہی موجود نہیں، ہاں یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ عمران خان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے بعد اپوزیشن جماعتیں مل کر ایک مشترکہ حکومت تشکیل دیں تاکہ ملک کو مسائل کے گرداب سے نکالا جاسکے۔ لیکن اس حکومت میں بھی پی ٹی آئی مائنس رہے گی اور اس کو حصہ اسلئے نہیں مل سکتا کہ ملک کی موجودہ تباہی کی ذمہ دار یہی جماعت ہے جس نے ساڑھے تین برس میں معیشت کا جنازہ نکال دیا اور عوام کی چیخیں نکال دیں۔
اپوزیشن لیڈر شہباز شریف پہلے ہی واضح الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ عمران حکومت کے خاتمے کے بعد تحریک انصاف کے بغیر اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل حکومت بنائے جانے کا امکان موجود ہے۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے امکانات روشن ہو جانے کے بعد اب عمران خان کے پاس باعزت طریقے سے گھر جانے کا راستہ یہی ہے کہ وہ ووٹنگ سے پہلے ہی خود کو مائنس کرتے ہوئے استعفی دے دیں اور سب سے بہتر مائنس ون فارمولا یہی ہے۔ کچھ حلقوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر عمران نے تحریک عدم اعتماد سے پہلے استعفیٰ نہ دیا اور معاملات مزید بگاڑنے کی کوشش کی تو پھر پی ٹی آئی کی اندر سے ایک اور باغی دھڑا وزیر دفاع پرویز خٹک کی قیادت میں بھی سامنے آ سکتا ہے۔ اگر ایسی نوبت آئی تو عمران خان نہ صرف وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے بلکہ تحریک انصاف کی چیئرمین شپ سے بھی فارغ ہو سکتے ہیں۔
وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انکی حکومتی ٹیم میں ہارڈ اور سافٹ لائن لینے والے دو گروپ بن رہے ہیں، بعض وزراء سخت زبان میں پی ٹی آئی کے باغیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ کچھ وزرا باغیوں کو واپس گھر لوٹ آنے کا مشورہ دیتے نظر آتے ہیں۔ اس دوران اس امکان کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ شاید تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ والے دن تک باغیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو جائے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بطور حکومتی جماعت کے وائس چیئرمین ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنے مخصوص لہجے میں حکومتی جماعت کے منحرف اراکین سے التجا کی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں اور واپس لوٹ آئیں۔ انہوں نے خود کو ان کا خیر خواہ اور دوست قرار دیتے ہوئے اپیل کی کہ وہ ٹھنڈے دل سے غور کریں اور بہتر فیصلہ لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نوٹوں کی بوریوں اور ہارس ٹریڈنگ کی بحث میں نہیں پڑنا چاتا۔ تاہم یاد رہے کہ یہ وہی شاہ محمود قریشی ہیں جو پی ٹی آئی کے جلسوں میں بار عمران خان کو یہ مشورہ دیتے رہے ہیں کہ اگر کوئی شخص پارٹی چھوڑ کر جانا چاہتا ہے تو اسے جانے دیں، ایسے لوگوں کو منانے کی کوئی ضرورت نہیں، ان کے جانے سے ہماری حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
وزیر اعظم کے پاس گورنر راج نافذ کرنے کا اختیارنہیں رہا
بار بار اپنی سیاسی وفاداریاں بدلنے والے شاہ محمود نے اس پریس کانفرنس میں اپنے دیگر ساتھیوں کے اشتعال انگیز بیانات پر معذرت خواہانہ انداز اختیار کرتے ہوئے صلح کا پرچم لہرایا۔ یہ الگ بات کہ ان کے ساتھ بیٹھے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے چہرے کے تاثرات شاہ محمود قریشی کے لب و لہجے اور گفتگو سے قطعی مماثلت نہیں رکھتے تھے۔ دوسری طرف پس دیوار دیکھ لینے کے دعویدار وفاقی وزیر داخلہ بعض اندیشوں کے پیش نظر سندھ میں گورنر راج لگانے کے زبردست حامی ہیں۔ انہوں نے نہ صرف وزیر اعظم کو سندھ میں گورنر راج نافذ کرنے کی تجویز دی ہے بلکہ بلکہ اس تجویز پر فوری عملی پیشرفت کیلئے ایک سمری بھی پیش کر دی۔
شیخ رشید کی تجویز کے مطابق سندھ میں گورنر راج تو نہیں لگایا گیا لیکن اسلام آباد میں واقع سندھ ہاؤس پر حملہ ضرور کر دیا گیا۔ زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہائی سکیورٹی زون میں واقع سندھ ہاؤس پر حملہ کرنے والوں کی قیادت تحریک انصاف کے دو منتخب اراکین اسمبلی نے کی جنہیں گرفتار ہونے کے فوری بعد وزیراعظم کے بدزبان معاون خصوصی شہباز گل نے تھانے جا کر چھڑوا لیا۔ سندھ ہاؤس پر ہونے والے حملے میں وفاق کا ہاتھ ہونے کا واضح ثبوت تب سامنے آیا جب کسی قانونی کارروائی کے بغیر ہی تمام حملہ آوروں کو شخصی ضمانت پر رہائی مل گئی۔
