کیا سہیل آفریدی دباؤ لے کر اسلام آباد پر چڑھائی کرنے والے ہیں؟

بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے مستند زیورات چور ثابت ہونے کے بعد شرپسند یوتھیوں نے سہیل آفریدی سرکار کو وفاقی حکومت کے ساتھ لڑانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ملک سے باہر بیٹھے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے سہیل آفریدی کو اسلام آباد پر چڑھائی کے لیے اکساتے ہوئے طعنے دینے شروع کر دئیے ہیں، عمرانڈوز کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ عمران خان نے وزیراعلیٰ کو دھرنا دینے اور ملک گیر احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں جبکہ سہیل آفریدی، علی امین گنڈاپور کی طرح اپنی کرسی داؤ پر لگانے کو تیار نظر نہیں آ رہے۔ اقتدار بچانے کی فکر نے انہیں احتجاجی کال سے نظریں چرانے پر مجبور کر دیا ہے، عمرانڈوز کے الزامات اور سہیل آفریدی کی احتجاجی تحریک بارے بے اعتنائی سے واضح ہو گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی اندرونی صفوں میں بھی اب احتجاجی سیاست کے لیے یکسوئی باقی نہیں رہی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان نے اسلام آباد پر چڑھائی کرنے یا دھرنا دینے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا لیکن پی ٹی آئی میں عمران خان کے نام پر کمائی کرنے والوں نے خود ہی ملک گیر احتجاج کی ہدایات جاری کر دی ہیں کیونکہ پی ٹی آئی کو فنڈز کی انتہائی کمی کا سامنا ہے جبکہ اوور سیز ارکان نے فنڈ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ان ارکان کا موقف ہے کہ عمران خان کے وکلا میڈیا میں مفت کیس لڑنے کے جھوٹے دعوے کر رہے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ وکلا پارٹی سے کیس لڑنے کیلئے کروڑوں روپے فیس لے رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پارٹی فنڈ پر پارٹی قیادت تو عیاشیاں کر رہی ہے جبکہ کارکنان اپنی جیب سے اخراجات کر کے پارٹی امور چلانے پر مجبور ہیں۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق عمران خان کی رہائی کیلئے احتجاج کا مقصد صرف بیرون ملک بیٹھے پی ٹی آئی کارکنوں سے ڈالرز جمع کرنا ہے۔ کیونکہ گزشتہ دو ماہ سے بیرون ممالک میں موجود پی ٹی آئی کارکنوں نے پارٹی فنڈز میں مزید رقوم دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کے بقول یہ فنڈز ان سے عمران خان کی رہائی کیلئے ان کے کیسوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے لیے جا رہے تھے۔ لیکن وکلا عمران خان کو کسی قسم کا ریلیف دلانے میں یکسر ناکام رہے جبکہ کیسز کیلئے باہر سے بھجوایا جانے والا فنڈپارٹی قیادت ذاتی فائدے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔
ناقدین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کبھی ملک کی سب سے منظم اور مالی طور پر خودمختار جماعت سمجھی جاتی تھی، آج شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ عمران خان کی گرفتاری اور پارٹی کی سیاسی ناکامیوں کے بعد اب حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ پارٹی کیلئے اپنے مرکزی سیکریٹریٹ کو بچانا بھی ناممکن ہو چکا ہے۔ فنڈنگ میں کمی کی وجہ سے پارٹی سیکریٹریٹ کے عملے کو دی جانے والی ماہانہ مراعات اور تنخواہوں میں 60 سے 70 فیصد تک کمی کر دی گئی ہے۔ پارٹی نے شدید مالی دباؤ کے باعث مرکزی سیکریٹریٹ میں عملے کی تعداد میں بھی نمایاں کمی کی ہے۔ مختلف ڈیپارٹمنٹس میں اب صرف محدود افراد کام کر رہے ہیں، جب کہ کئی دفاتر بند کیے جا چکے ہیں۔
مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کی معاشی صورتحال پارٹی کو بند گلی میں دھکیلتی دکھائی دیتی ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ "جب ایک سیاسی جماعت قانونی محاذ پر پوری طرح جکڑی ہو اور پارٹی سربراہ قید میں ہو تو فنڈنگ رکنا فطری ہے۔ مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے مالی ماڈل میں تمام انحصار صرف عمران خان کی شخصیت پر رہا۔ یہ ایک سنگین ادارہ جاتی کمزوری ہے۔” تاہم پی ٹی آئی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ موجودہ ریاستی ماحول میں نہ صرف عوام فنڈ دینے سے خوفزدہ ہیں بلکہ پارٹی سے وابستہ کاروباری افراد بھی کھل کر مدد نہیں کر پا رہے۔ اس دباؤ کے نتیجے میں پارٹی کی تنظیمی سرگرمیاں عملاً مفلوج ہو چکی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق "سیاسی جماعتوں کا انحصار عوامی حمایت اور رقوم پر ہوتا ہے، مگر جب کسی جماعت کے ساتھ جڑنا خود خطرہ بن جائے، تو مالی بحران ناگزیر ہو جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کو اب اپنے مالی ماڈل کو ازسرِ نو تشکیل دینا ہو گا، اور شفافیت کو اولین ترجیح بنانا ہو گا۔”
عمران خان نے اپوزیشن اتحاد کی پیٹھ میں چھرا کیسے گھونپا؟
تاہم موجودہ حالات میں سوال پیدا ہوتا ہے کی محدود وسائل میں کیا پی ٹی آئی دوبارہ اٹھ پائے گی؟ مبصرین کے مطابق معاشی حالت کی وجہ سے اب پارٹی کے اندر سے بھی تسلیم کیا جا رہا ہے کہ موجودہ حالات میں مالی طور پر پارٹی کا چلنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ بعض کارکنان اپنی مرضی سے کام چھوڑ کر جا چکے ہیں جبکہ جو باقی رہ گئے ہیں، وہ بھی صرف سیاسی نظریاتی وابستگی پر کام کر رہے ہیں۔اگر حالات یہی رہے، تو پارٹی نہ صرف تنظیمی طور پر سکڑتی چلی جائے گی بلکہ مستقبل میں پارٹی کیلئے کوئی بھی مہم چلانا ممکن نہ ہوگا۔
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق جہاں ایک طرف پارٹی مالی بحران کا شکار ہے وہیں دوسری جانب پی ٹی آئی میں تنظیمی بحران نے ایک بار پھر سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ علی امین گنڈاپور کے بعد اب سہیل آفریدی بھی یوتھیوں کے نشانے پر آ گئے ہیں۔ پارٹی کے اندر بعض سخت گیر رہنما وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے ضلع خیبر میں آپریشن کی اجازت دینے پر بھی سخت ناراض ہیں جبکہ علی امین گنڈا پور گروپ بھی اس حوالے سے سرگرم ہوگیا ہے، گنڈاپور گروپ کا کہنا ہے کہ جن امور پر علی گنڈا پور کے خلاف مہم چلاکر انہیں عہدے سے ہٹایا گیا، وہی امور موجودہ وزیر اعلیٰ خود سے انجام دے رہے ہیں۔ لیکن ان کے خلاف کوئی مہم نہیں چلائی جارہی ہے۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی اگر آئندہ دو ماہ میں عمران خان کی رہائی کیلئے مضبوط احتجاجی تحریک چلانے میں ناکام رہے تو ان کی بھی چھٹی کروا دی جائے گی۔
