بلوچستان سے اغوا ہونے والے افراد کی تعداد میں تیزی آ گئی

تمام تر حکومتی دعوؤں کے باوجود بلوچستان میں خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے افراد کی تعداد میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ صوبہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف کام کرنے والی تنظیم ‘وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز’ نے دعوی کیا ہے کہ سال 2021 میں مزید 400 بلوچوں کو لاپتا ہر دیا گیا۔ تنظیم نے ان 400 لاپتہ افراد کی لسٹ صوبائی مشیر داخلہ بلوچستان ضیا اللہ لانگو کو فراہم کرتے ہوئ مطالبہ کیا ہے کہ جبری گمشدگیوں کا یہ لامتناہی سلسلہ اب ختم کیا جائے۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کے مطابق 2020 میں بہت سے جبری گمشدہ بلوچ نوجوان واپس اپنے گھروں کو لوٹے مگر 2021 میں نہ صرف لاپتہ افراد کی واپسی کا عمل بند ہو گیا بلکہ مزید لوگ بھی لاپتا ہونا شروع ہو گے جن کی تعداد پچھلے برس 400 کے قریب رہی۔ نصراللہ بلوچ کے بقول اُنہوں نے مشیر داخلہ بلوچستان ضیا اللہ لانگو سے حالیہ ملاقات میں انہیں لاپتا افراد کی بازیابی میں کمی اور مزید لوگوں کی گمشدگی کے واقعات میں اضافے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ مشیرِ داخلہ نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ وہ لاپتا افراد کی بازبابی کے لیے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان اور دیگر ریاستی اداروں سے بات کریں گے۔
واضح رہے کہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے صوبے میں جبری طور پر لاپتا ہونے والے افراد کی بازیابی کے سلسلے میں ان کے اہل خانہ کی جانب سے شکایات پر ایک تصدیق شدہ فہرست مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ نصر اللہ بلوچ کے بقول 2019 سے اب تک تنظیم 875 لاپتا افراد کی ایک فہرست حکومتِ بلوچستان کو فراہم کر چکی ہے جن میں سے 470 افراد بازیاب ہو کر واپس اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔ وائس فار بلوچ کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق 2014 سے دسمبر 2019 تک 194 لاپتا افراد بازیاب ہو کر واپس اپنے گھروں کو لوٹے تھے۔ ان پانچ برسوں کے دوران بازیاب ہونے والے زیادہ تر افراد کا تعلق مکران ڈویژن سے تھا جب کہ کوئٹہ، مستونگ، قلات، خضدار، حب چوکی اور دیگر علاقوں کے لاپتا افراد بھی شامل تھے۔
رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں 2020 میں 114 لاپتا افراد بازیاب ہو کر گھروں کو لوٹے جن میں سے اکثریت مکران ڈویژن کے رہائشی ہیں جب کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں کے لوگ بھی شامل تھے۔ 2021 میں 102 لاپتا لوگ بازیاب ہوئے۔ 2013 سے 2019 کے درمیان 401 افراد لاپتا ہوئے۔ سال 2019 میں بلوچستان کے علاقوں گوادر، تربت، خاران، پنجگور، نوشکی، آواران اور کوئٹہ سے 60 افراد لاپتا ہوئے جب کہ 2020 میں 207 افراد
الیکشن کمیشن تحریک انصاف پر پابندی کیوں نہیں لگا سکتا؟
لاپتا ہوئے۔ لیکن سال 2021ء میں بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد 400 سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آج دن تک بلوچوں کو لاپتہ کرنے کے لئے کسی کو بھی جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا۔ پولیس لاپتہ افراد کے ایسے واقعات کی تحقیقات کرنے کی اہل نہیں ہے جن میں فوج اور انٹیلی جنس ایجنیسیوں کے اہلکار ملوث ہوں۔ چاہے اسکی وجہ اختیارات کی کمی ہے کیونکہ ان طاقتور اداروں کے سامنے کوئی اور ادارہ نہیں ٹھہر سکتا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متاثرین جب بازیاب ہو جاتے ہیں تو ان کے بیانات نہیں لیے جاتے۔ جب معلوم ہوتا ہے کہ لاپتہ افراد جیلوں اورحراستی مراکز میں ہیں تو ان کی حراست کی وجوہات معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی نا عدالت عظمیٰ نے کئی مواقعوں پر ایسا کرنے کی ہدایت کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاست اس سنگین مسئلے کے حل کا سیاسی عزم نہیں رکھتی ہے۔ اسی لیے کچھ گمشدہ لوگ بازیاب ہوتے ہیں تو ان سے کہیں زیادہ لاپتہ ہو جاتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا یے کہ اگر ریاست سمجھتی ہے کہ بعض لوگ جرائم میں ملوث ہیں تو ان کو عدالتوں میں پیش کرکے ان کو فیئر ٹرائیل کا موقع فراہم کیا جائے۔ رپورٹ کا اختتام کرتے ہوئے بلوچ وائس فار مسنگ پرسنز کا کہنا ہے کہ لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنا ان کے خاندانوں اور سماج کے لیے ایک غیر انسانی عمل ہے جس سے متشدد، منقسم ،غیر صحت مند اور عدم رواداری پر مبنی سماج تشکیل پارہا ہے۔
