افغانستان میں چھوڑے گئے جدید امریکی ہتھیار سکیورٹی فورسز پر حملوں میں استعمال ہو رہے ہیں،دفتر خارجہ

افغانستان سےدہشت گرد حملوں سے متعلق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں چھوڑے گئے جدیدامریکی ہتھیار ہماری سکیورٹی فورسز پر حملوں میں استعمال ہو رہےہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہےامریکا کی جانب سےتیز رفتار ٹیرف تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں۔

ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئےترجمان دفترخارجہ شفقت علی خان کاکہنا تھا امریکی ٹیرف کےحوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نےبھی ایک اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کی ہے، اسٹیئرنگ کمیٹی امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات کرے گی۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا بھارت میں وقف قوانین وہاں مسلمانوں کا بنیادی حق ہے،بھارت میں وقف املاک قوانین میں تبدیلی مسلمانوں کو دیوار کےساتھ لگانےکی کوشش ہے، بھارتی اقدامات امتیازی سلوک اوراقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔

یہ معاملہ بارہا امریکا کےساتھ اٹھایا ہے، نائب وزیراعظم کے امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ حالیہ ٹیلیفونک گفتگو میں بھی یہ بات زیر بحث آئی۔

پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے 3 سال مکمل : پارٹی کا احتجاج کا اعلان

 

ان کا کہنا تھا غیرقانونی طورپر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی پر عملدرآمد کررہے ہیں، خارجہ پالیسی وفاق کا معاملہ ہے،صوبائی حکومت کےافغانستان سےمذاکرات کے ٹی او آرز کا معاملہ افغان ڈیسک سے چیک کریں گے۔

ایک سوال کےجواب میں شفقت علی خان کاکہنا تھا امریکا کی جانب سے بگرام میں ایئربیس قائم کرنےکامعاملہ سوشل میڈیا افواہیں ہیں، یہ افغانستان اورامریکا کی حکومتوں کا آپس کامعاملہ ہے،ہم تمام مسائل کے بات چیت کے ذریعہ حل کے خواہشمند ہیں۔

 

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھاامریکا میں تعلیمی ویزوں کی معطلی کی اطلاعات دیکھی ہیں، ہم اس پرامریکا سےرابطےمیں ہیں۔

Back to top button