پاکستان سے جنگ کا پنگا لینے والا مودی اپنی شکست کیوں نہیں مان رہا ؟

پاکستان سے بلاوجہ کا پنگا لینے والے بھارت کو جوابی حملے میں بدترین شکست ہوئی ہے لیکن وزیر اعظم مودی یہ حقیقت تسلیم کرنے کو تیار نہیں، بنیادی وجہ یہ ہے کہ جس دن وہ یہ تسلیم کر لیں گے کہ حالیہ چار روزہ جنگ میں پاکستان کے ہاتھوں انڈیا کو شکست ہوئی تھی، وہ ان کی حکومت کا آخری دن ہو گا۔ یہ بات مودی جی بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ اسی وجہ سے مسلسل اپنے عوام کو جھانسہ دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان نے ایک فقید المثال عسکری فتح حاصل کی جس کا بھارت کو گمان بھی نہیں تھا۔ مودی جی نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک ایسی پاک بھارت جنگ ہو گی جس میں پاکستان فتح حاصل کرے گا اور پھر کانگریس ان سے لوک سبھا میں سوال کرے گی کہ مودی جی بتائیں، ہمارے کتنے طیارے مارے گئے؟ کتنے رافیل زمیں بوس ہوئے؟ پاکستان نے کتنی بار فرانسیسی ٹیکنالوجی کا تمسخر اڑایا، جواب میں مودی جی کے پاس ہاتھ ملنے کے سوا کوئی جواب نہیں ہو گا۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ خجالت بھارتی حکومت کا طرہ امتیاز بن چکی ہے۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ سیز فائر ٹرمپ نے نہیں کروایا تو دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا صدر بیچ میں کود پڑتا ہے اور نعرہ لگاتا ہے کہ جنگ بندی تو میں نے کروائی تھی۔ وہ صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ وقت اور دن سمیت سب کچھ یاد کروا دیتا ہے کہ کب انڈیا ٹرمپ سے ملتمس ہوا کہ خدارا جنگ بندی کراؤ ورنہ ہم تو ڈوب چلے۔

عمار مسعود کے بقول اگر جھوٹ کے بل بوتے پر بھارتی وزیر اعظم اور انکی ٹیم اپنی عبرتناک شکست کو فتح میں بدلنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کے اپنے تجزیہ کار اور بین الاقوامی مبصرین اس جانب توجہ دلاتے ہیں کہ نقصان بھی بھارت کا زیادہ ہوا، طیارے بھی اس کے زیادہ گرائے گئے، اور شکست بھی انڈیا کے ماتھے پر لکھی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ پاکستان کے ساتھ پنگا لینے کے بعد جنگ بندی کی درخواست بھی مودی جی نے کی لہٰذا انکا جھوٹا پروپیگنڈا زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔ مودی کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ جس روز وہ یہ حقیقت تسلیم کر لیں گے ان کی حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ اب ذرا پاکستان کی طرف بھی توجہ کیجیے۔ ہم نے فتح کا جشن منالیا۔ قوم کو متحد کر لیا، آرمی چیف کو فیلڈ مارشل کے اعزاز سے نواز دیا۔ وزیر اعظم اور صدر نے بارہا افواج پاکستان کی دلیری اور شجاعت کا اعتراف کر لیا۔ ترانے بج گئے اور اعلانات ہو گئے تو سوال یہ ہے کہ اب ہمیں کیا کرنا ہے؟ ہمیشہ سے پاکستان کے پاس بہترین فوج اور بدترین معیشت رہی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں معیشت میں بہتری کی کچھ صورت نظر آئی ہے مگر یہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ اب بھی ہم آئی ایم ایف سے ایک بلین ڈالر کے لیے ملتمس دکھائی دیتے ہیں۔ اب بھی آئی ایم ایف کی قسط ہمارے لیے سب سے بڑی معاشی کامیابی رہی ہے۔ دنیا کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں ہماری معیشت کا سائز بہت سکڑ گیا ہے۔ ہم مائیکرو اکنامکس کی سطح پر تبدیلیاں تو کر سکے ہیں مگر غریب کے چولھے کو ابھی بھی اس مبہم  معاشی ترقی کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔

عمار مسعود کے بقول ہمارے ہاں غربت آج بھی غریب کے سر پر ناچ رہی ہے۔ افلاس سے تنگ آئی ایک مخلوق اس ملک میں وجود رکھتی ہے۔ خط ناداری آئے روز اوپر جارہا ہے اور کروڑوں  لوگ اس کی زد میں آر ہے ہیں۔ بجلی کے بل، آٹے کی قیمت، پٹرول کے نرخ ہمارے پاؤں کی بیڑیاں بن چکے ہیں۔ اس بات کو تسلیم کرنا چاہیے کہ شہباز شریف اس معاملے میں اسحاق ڈار کی معاونت سے بہتر کام کر رہے ہیں مگر اب اس ملک کے عوام میں مزید انتظار کا یارا نہیں ہے۔ انکے مطابق ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ دنیا میں عسکری اور حربی جنگ اب خال خال ہی ہو گی اور اگر ہو گی تو پاکستان اس کے لیے اتنا تیار ہے کہ اسے فتح مبین حاصل ہو گی۔ اب میدان معیشت کا ہے۔ ساری دنیا میں مقابلہ اس کا ہو رہا ہے۔ اصل دوڑ معاشی ترقی کی ہے۔ دنیا ایک دوسرے سے معاشی میدان میں سبقت لے جانے کی تگ و دو کر رہی ہے۔ درآمدات اور برآمدات کی ایک علیحدہ جنگ چل رہی ہے۔ ٹیرف نام کا ایک اور حربی طریقہ ٹرمپ وضع کر چکا ہے۔

ٹرمپ نے ساری دنیا کی توجہ اس طرف دلائی ہے کہ جنگ کرنا کوئی مناسب بات نہیں۔ ہاں البتہ معاشی میدان میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانا بہت کام کی بات ہے۔ یہی ایک میدان ہے جس میں ملکوں کی قسمتوں کے فیصلے ہوں گے۔ اب معاشی پالیسیوں کی طرف دھیان دینے کی ضروت ہے۔ اب معاشی طور پر خود کو مضبوط اور طاقتور بنانے کی ضرورت ہے۔ اب معیشت کے میدان میں خود کو ناقابل شکست بنانے کی ضرورت ہے۔

انڈین وزیراعظم مودی کو ہندوئوں کا اسامہ بن لادن  کس نے قرار دے دیا؟

عمار مسعود کہتے ہیں کہ یہ بات درست ہے کہ ہم عسکری میدان میں بھارت کو شکست دے چکے ہیں لیکن کیا یہ موقع نہیں ہے کہ اب ہم اپنی توجہ معاشی میدان کی طرف دیں اور بھارت سے سبقت لے جائیں ۔ بھارت رقبے کے حوالے سے ہم سے بہت بڑا ملک ہے۔ اس کی معیشت کا سائز بھی بڑا ہے لیکن کیا معیشت کا سائز رقبے کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ سنگاپور کی مثال لیں۔ چھوٹا سا زمین کا ٹکڑا  ہے لیکن دنیا بھر میں بینکنگ کی دنیا کا آنکھ کا تارہ بنا ہوا ہے۔ خوش قسمتی سے ہمارے پاس سنگا پور سے زیادہ بہتر انسانی اور قدرتی ذرائع موجود ہیں۔ لیکن ہم ان سے فائدہ نہیں اٹھا رہے۔ ایسے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ اپنی ترقی میں ہم خود ہی مانع ہیں۔

Back to top button