مودی کا پاڈا پن : ٹرمپ انڈیا سے دور اور پاکستان کے قریب ہو گیا

ٹرمپ انتظامیہ کی پاکستان سے بڑھتی ہوئی دوستی اور مودی سرکار پر عائد پابندیوں نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا رکھی ہے تاہم مبصرین کا ماننا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات کی بہتری کی بنیادی وجہ پاکستان کا ٹرمپ کے ساتھ مفاہمانہ اور مودی کا جارحانہ رویہ ہے۔ خطے میں کشیدگی کے بعد جہاں پاکستان نے ڈپلومیٹک اور ذمہ دارانہ طرزِعمل اپنایا اور قیام امن کی کوششوں پر سر عام امریکی صدر کی ستائش کی جبکہ اس کے برعکس مودی سرکار نے اپوزیشن کو کاونٹر کرنے اور اپنے عوام کو خوش کرنے کیلئے نہ صرف جذباتی حکمت عملی اپنائی بلکہ بھارت امریکی کردار کو نظر انداز کرتے ہوئے جنگ بندی میں امریکی کاوشوں سے بھی مسلسل انکاری رہا جس کا لامحالہ نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ نے اپنے ماضی کے اتحادی کو سرخ جھنڈی دکھاتے ہوئے پاکستان سے تعلقات مزید مستحکم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔صدر ٹرمپ، جو پہلے بھارت کو اسٹریٹجک پارٹنر مانتے تھے، بالآخر بھارتی رویے سے نالاں ہو کر پاکستان کی طرف متوجہ ہوگئے۔
سرد مہری کے خاتمے کے بعد ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہوتے ہوئے پاک امریکہ تعلقات کے تناظر میں سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں کوئی بھی فیصلہ جذبات یا نظریاتی قربت کی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات بنتے اور بگڑتے ہیں۔ یہی کچھ حالیہ پاک-امریکہ تعلقات میں دیکھنے کو ملا ہے۔ امریکہ جو کبھی پاکستان کو "جھوٹا اتحادی” کہہ کر 33 ارب ڈالر ضائع ہونے کا شکوہ کرتا تھا، آج وہی واشنگٹن پاکستان کے فوجی سربراہ کو وائٹ ہاؤس میں ضیافت دے رہا ہے، تیل و گیس کے معاہدے کر رہا ہے اور بھارت پر تجارتی ٹیرف لگا کر اس سے ناراضی کا اظہار کر رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ٹرمپ جیسے کاروباری صدر کے لیے پاکستان کا سفارتی طرز عمل اور سیکورٹی تعاون کشش رکھتا ہے جبکہ مودی کی ضدی خارجہ پالیسی اور امریکی ثالثی سے انکار نے نئی دہلی کو واشنگٹن کے لیے ناپسندیدہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف افغانستان سے متعلق امریکی مفادات کا تحفظ کیا بلکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔ جس نے اسلام آباد کو دوبارہ واشنگٹن کی آنکھ کا تارا بنا دیا ہے۔
مبصرین کے بقول پاک امریکہ تعلقات میں حالیہ پیشرفت کا آغاز اس وقت ہوا جب رواں سال فروری کے آخر میں پاکستان نے داعش سے منسلک دہشتگرد شریف اللہ کو گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیا،—یہ قدم نہ صرف انسدادِ دہشتگردی میں دوطرفہ تعاون کا مظہر تھا بلکہ اعتماد کی بحالی کا پہلا قدم بھی ثابت ہوا۔جسے امریکی اسٹیبلشمنٹ میں پاکستان کے رویے میں "نئی سنجیدگی” کے طور پر دیکھا گیا۔ سابق سفارتکار ملیحہ لودھی کے مطابق یہ اقدام انسداد دہشتگردی میں پاکستان-امریکہ مشترکہ مفادات کا اظہار تھا، جبکہ جنرل کُوریلا کی پاکستان آمد اور امریکی سینیٹ میں پاکستان کی تعریف بھی اسی رخ کا تسلسل ہے۔
مبصرین کے مطابق اسکے بعد جب پاکستان نے بھارتی رافیل طیارے گرا کر آپریشن "بنیان المرصوص” کا آغاز کیا، تو بھارت کی دعویداری اور علاقائی بالا دستی کو کاری ضرب لگی۔ جس کے بعد جب بھارت نے جنگ بندی کی اپیل کی تو امریکی رویہ بھی یکسر بدل گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب امریکہ کو احساس ہوا کہ پاکستان خطے میں محض ایک "ری ایکٹر” نہیں بلکہ ایک "ڈیٹرنٹ پاور” بھی ہے۔ پاکستان کے بھارت مخالف ماسٹر سٹروک کے بعد امریکی رویے میں بھی واضح تبدیلی نظر آئی۔ پاک بھارت جنگ کے بعد جہاں پہلے صدر ٹرمپ کا ردعمل غیرسنجیدہ تھا، تاہم ماسٹر سٹروک کے بعد صدر ٹرمپ پاکستان کی عسکری صلاحیت اور عالمی اہمیت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے۔
تجزیہ کاروں کے بقول صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ تیل، گیس اور معدنیات میں سرمایہ کاری کے اعلان کے ساتھ ہی بھارت پر 25 فیصد ٹیرف کا نفاذ، اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن نے اپنے پالیسی رجحانات میں واضح تبدیلی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بھارت کے لیے "مردہ معیشت” جیسے الفاظ اور پاکستان کے لیے پُر امید بیانات خود بولتے ہیں۔ کہ امریکہ مودی سرکار کو طلاق دے چکا ہے جبکہ پاکستان امریکہ کی نئی معشوقہ بن چکا ہے۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کیلئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایک متحدہ اور فعال سفارتی حکمت عملی اپنائی جس نے عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف مضبوط کیا۔ پہلگام حملے کے بعد امریکہ کا پاکستان کو مورد الزام نہ ٹھہرانا اور کوآڈ جیسے فورمز پر غیرجانبدار مؤقف بھی اسی سفارتی کامیابی کا نتیجہ تھا۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کو اس کامیابی پر خود فریبی میں نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ امریکہ کا مفاد پر مبنی طرزِ عمل کسی بھی وقت بدل سکتا ہے۔ مبصرین کے بقول پاکستان نے پہلی بار عسکری، سفارتی اور انٹیلی جنس سطح پر ایک جامع اور موثر پالیسی کے ذریعے اپنے عالمی تاثر کو بہتر بنایا ہے۔ بھارتی ضد اور امریکی ثالثی کو رد کرنے کی روش نے دہلی کے ہاتھ سے واشنگٹن کا ہمدردانہ ہاتھ چھین لیا، اور اسلام آباد نے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات میں بہتری سے جو نئی راہیں کھلی ہیں، وہ نہ صرف پاکستان کی اقتصادی ترقی بلکہ علاقائی استحکام کی کنجی بھی ثابت ہو سکتی ہیں
صدر ٹرمپ پاکستان کی محبت میں مودی کو انگلی کیوں کروانے لگے ؟
مبصرین کے مطابق پاکستان کی تزویراتی اہمیت کو امریکہ نے دوبارہ تسلیم کر لیا ہے۔ خاص طور پر شریف اللہ کی حوالگی اور فوجی آپریشنز نے پاک امریکہ تعلقات کو ایک نئی سمت دی ہے پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی ٹھکائی کے بعد ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے صدر ٹرمپ کے بیانات میں پاکستان کے حق میں حیران کن گرمجوشی آئی ہے۔2018 میں صدر ٹرمپ پاکستان پر دھوکہ دہی کے الزامات لگا رہے تھے۔ مگر اب، 2025 میں، وہ نہ صرف پاکستانی قیادت کی تعریف کرتے ہیں بلکہ فوجی قیادت کو وائٹ ہاؤس مدعو کر چکے ہیں۔ اس بدلاؤ کی سب سے بڑی وجہ بھارت کی ہٹ دھرمی، پاکستان کی عسکری کامیابیاں، اور مفاہمانہ رویہ ہے۔
