عمران خان کے طبی معائنے میں محسن نقوی نے اہم کردار ادا کیا

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی خاموش کاوشوں کے نتیجے میں حکومت اور  تحریکِ انصاف کے درمیان سابق وزیرِاعظم عمران خان کی آنکھوں کے طبی معائنے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کے لیے رابطوں کی بحالی ممکن ہوئی۔ تاہم علیمہ خان کے مؤقف میں بار بار تبدیلی کے باعث یہ عمل کئی مرتبہ تعطل کا شکار رہا۔

ذرائع کے مطابق محسن نقوی، جو اعلیٰ عسکری قیادت سے قربت کے حوالے سے جانے جاتے ہیں، نے ایسے وقت میں دونوں فریقین کے درمیان رابطے کا خلا پُر کیا جب کوئی باضابطہ چینل موجود نہیں تھا۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں اڈیالہ جیل میں قید پی ٹی آئی کے بانی کا باہمی رضامندی سے طبی معائنہ کرانے کی راہ ہموار ہوئی۔

 محسن نقوی نے عمران خان کی رہائی  کیلئےبہت کوشش کی،علی امین گنڈاپور کادعویٰ

طے شدہ طریقہ کار کے مطابق حکومت نے متعدد ڈاکٹروں پر مشتمل ایک خودمختار میڈیکل بورڈ تشکیل دینے پر رضامندی ظاہر کی، جبکہ پی ٹی آئی کو ایک آزاد ڈاکٹر نامزد کرنے کی اجازت دی گئی۔ پی ٹی آئی نے ڈاکٹر ندیم قریشی کا نام پیش کیا جسے حکام نے منظور کر لیا۔ مزید برآں، حکومت نے پارٹی کو یہ اختیار بھی دیا کہ وہ عمل کی نگرانی کے لیے خاندان کے ایک نمائندے کا تقرر کرے۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر علیمہ خان سے مشاورت کے بعد عمران خان کے بھانجے قاسم زمان کو خاندانی نمائندے کے طور پر نامزد کیا گیا اور حکومت نے اس پر اتفاق بھی کر لیا۔ تاہم بعد میں علیمہ خان نے یہ نام واپس لے کر ڈاکٹر نوشیروان برکی کو بطور نمائندہ شامل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پسِ پردہ مشاورت کے دوران علیمہ خان سوشل میڈیا پر مختلف بیانات بھی جاری کرتی رہیں۔

عمران خان کو ڈیل دی جا رہی ہے نہ ڈھیل : عطا تارڑ

حکام نے واضح کیا کہ اگرچہ پی ٹی آئی کے نامزد کردہ آزاد ڈاکٹر کو بورڈ میں شامل کیا جا سکتا ہے، لیکن کسی خاندانی معالج کو بطور نمائندہ شامل کرنا ممکن نہیں، لہٰذا خاندان کے کسی غیر ڈاکٹر فرد کو نامزد کرنے کی تجویز دی گئی۔ بارہا تبدیلیوں کے باعث عمل میں تاخیر اور غیر یقینی کیفیت پیدا ہوئی، جس پر پی ٹی آئی کے بعض رہنما اور اپوزیشن اتحاد کے دیگر افراد بھی حیران دکھائی دیے۔

عمران خان کو ذاتی ڈاکٹر سے ملنے دیا جائے : سہیل آفریدی

پی ٹی آئی نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ عمران خان کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، تاہم حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ اسپتال میں داخلہ صرف میڈیکل بورڈ کی سفارش پر منحصر ہوگا، کیونکہ سپریم کورٹ کے حکم میں پیشگی داخلے کی کوئی ہدایت شامل نہیں۔ یہ موقف پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا تک پہنچایا گیا، اور مستقل و متوازن حکمت عملی اپنانے پر زور دیا گیا۔

Back to top button