محسن نقوی کی پریس کانفرنس گمراہ کن،قوم کو اصل حقائق بتائیں،اپوزیشن اتحاد

تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی حالیہ پریس کانفرنس کو گمراہ کن قرار دیتےہوئےعمران خان سے متعلق اصل حقائق قوم کو بتانےکامطالبہ کردیا۔
تحریک تحفظ آئین کا کہنا ہے کہ حکومت سابق وزیراعظم عمران خان کی بگڑتی ہوئی صحت اور جیل میں ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر پردہ ڈالنے کے لیے من گھڑت بیانیہ تیار کر رہی ہے۔ قوم کو اصل حقائق سے محروم رکھ کر سیاسی تماشہ لگانا ناقابلِ قبول ہے۔
رہنماؤں نے کہا کہ ریاستی منصب پر فائز ہو کر سچ کو مسخ کرنا اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے اور آئینی ذمہ داریوں سے کھلی روگردانی کے مترادف ہے۔
تحریک کا کہنا ہے کہ حکومت سابق وزیراعظم عمران خان کی بگڑتی ہوئی صحت اور جیل میں ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر پردہ ڈالنے کے لیے من گھڑت بیانیہ تیار کر رہی ہے۔ قوم کو اصل حقائق سے محروم رکھ کر سیاسی تماشہ لگانا ناقابلِ قبول ہے۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے واضح کیاکہ طبی معائنے کے دوران سرکاری ڈاکٹروں پر عدم اعتماد اور ذاتی معالج کی موجودگی کی شرط کوئی انفرادی ضد نہیں بلکہ فیملی، پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت اور تحریک کی باہمی مشاورت سے کیا گیا متفقہ فیصلہ ہے۔ عمران خان کی صحت سے متعلق فیصلہ کرنے کا حق صرف ان کی فیملی کو حاصل ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ عمران خان کو طویل اور بدترین قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار کے مطابق تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ اقوام متحدہ کا ورکنگ گروپ پہلے ہی حراست کو غیرقانونی قرار دے چکا ہے۔
عدالتوں کو جیل کے اندر منتقل کر کے عوام، میڈیا، فیملی اور پارٹی رہنماؤں کی رسائی تقریباً ختم کر دینا انصاف کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
