وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی سکیورٹی پر ماہانہ خرچ سوا کروڑ روپے

وزیراعلٰی خیبر پختونخوا محمود خان پاکستان کے واحد وزیراعلی ہیں جن کی سکیورٹی پر ماہانہ سوا کروڑ روپیہ خرچ کیا جا رہا ہے۔ ان کی سکیورٹی کے لیے ہر وقت 352 پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں جن کا ماہانہ خرچ ایک کروڑ 25 لاکھ روپے بنتا ہے۔ اسکے علاوہ گورنر خیبر پختونخوا کی سکیورٹی کے لیے 78 پولیس اہلکار مختص ہیں جبکہ صوبائی وزرا کے لیے 371 اور مشیروں کے لیے 55 پولیس اہلکار فرائض انجام دیتے ہیں۔ صوبے میں تعینات ججز کی سکیورٹی کے لیے 1200 اہلکاروں کی تعیناتی پر 4 کروڑ 18 لاکھ روپے خرچ ہو رہے ہیں۔
اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر صوبہ خیبر پختونخوا میں گورنر، ججز، وزیراعلٰی، وزرا، افسران اور عوامی عہدے رکھنے والوں کی سکیورٹی کے لیے 3200 پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ صوبے میں حاضر سروس افسران کی سکیورٹی کے لیے 541 اور ریٹائرڈ افسران کے لیے 81 اہلکار ڈیوٹی پر مامور کیے گئے ہیں۔خیبر پختونخوا میں اعلٰی شخصیات کی سکیورٹی پر سالانہ 11 کروڑ 17 لاکھ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔
یہ تفصیلات خیبر پختونخوا اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن ریحانہ اسماعیل کے ایک سوال کے جواب میں محکمہ داخلہ کی جانب سے فراہم کی گئیں جس کے بعد اپوزیشن نے وزیراعلٰی محمود خان اور انکی حکومت کو سکیورٹی اور پروٹوکول پر غیر ضروری اخراجات کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ صوبے میں حزب اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ ’پی ٹی آئی والے تو پروٹوکول نہ لینے کے دعوے کرتے تھے لہذا اب وہ خود کیوں اپنے وعدے پورے نہیں کررہے؟
اپوزیشن کی تنقید پر سابق صوبائی وزیر شوکت یوسف زئی نے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ ’ہمیں حکومت ایسی حالت میں ملی تھی جب صوبے کا پورا انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا تھا، دہشت گردی اس وقت بہت زیادہ بڑھ چکی تھی جس کو مدنظر رکھتے ہوئے سکیورٹی لینا ضروری تھا تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’وزیراعلٰی صوبے کا چیف ایگزیکٹیو ہوتا ہے لہذا اس کے لئے فول پروف سکیورٹی فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی محمود خان کی سکیورٹی پر تعینات ساڑھے تین سو سے زائد پولیس اہلکار ہر وقت ان کے ساتھ نہیں ہوتے۔ انکا کہنا ہے کہ ذیادہ تر پولیس سکواڈ سی ایم ہاؤس میں مستقل تعینات ہوتا ہے جو وہاں کی سیکورٹی کا خیال رکھتا ہے، بعض اہلکار ان کے آبائی گھر پر تعینات ہوتے ہیں جبکہ بعض ان کی سیکورٹی کے لیے تعینات ہوتے ہیں جو ہر وقت ان کے ساتھ رہتے ہیں، کل ملا کر ان کی تعداد ساڑھے تین سو سے زائد بنتی ہے۔ لیکن حکومتی ذرائع اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان پولیس اہلکاروں کی تعیناتی پر ماہانہ خرچہ سوا کروڑ روپے ہے۔
خیبرپختونخوا میں اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ جب وزیر اعلی سفر کرتے ہیں تو ان کے ساتھ کم از کم تیس گاڑیوں کا پروٹوکول چلتا ہے جس میں سو سے زائد پولیس اہلکار شامل ہوتے ہیں۔ وزیر اعلی جہاں بھی جاتے ہیں وہاں پہلے سے ہی سکیورٹی انتظامات پورے کیے جاتے ہیں۔ پہلے وہاں کی سکیورٹی کلیئر کی جاتی ہے، یہ ضلعی سطح پر ہوتا ہے جو اس سکواڈ کے علاوہ ہوتا ہے اور ایسا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ان نمائندگان کی حفاظت کرنا لازم ہوتا ہے۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسا تمام صوبوں میں ہوتا ہے حکومت چاہے جہاں کی بھی ہو، اگر کوئی منتخب نمائندہ ہو تو اسے سکیورٹی مسائل درپیش ہوتے ہیں اور اس کی جان کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے۔
فارن فنڈنگ کیس میں حکومت کا اپنے 11 اکائونٹس سے اظہار لاتعلقی
اس معاملے پر اپوزیشن جماعت اے این پی کی رکن اسمبلی شگفتہ ملک کہتی ہیں کہ ’چلیں مان لیتے ہیں کہ وزیراعلٰی کو سکیورٹی دینا لازم ہے لیکن جو ریٹائرڈ افسران ہیں انہیں سکیورٹی دینے کی کیا ضرورت ہے؟‘
’اگر کوئی وزیر سکیورٹی لینے کی درخواست کرتا ہے تو اسے بمشکل ایک سکیورٹی اہلکار دیا جاتا ہے تو پھر ان ریٹائرڈ افسران کو اتنی مراعات دینے کی ضرورت کیا ہے جو حکومتی خزانے پر بوجھ بن رہے ہیں۔ خاتون رکن اسمبلی نے یاد دلایا کہ پی ٹی آئی والے گذشتہ دور حکومت میں پروٹوکول کے حوالے سے دوسری پارٹیوں کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بناتے تھے، وہ ہمیشہ پروٹوکول نہ لینے اور سادگی اختیار کرنے کے وعدے کرتے تھے لیکن اب وہ اپنے تمام وعدے اور دعوے بھول چکے ہیں اور ان کا سارا زور پروٹوکول اور سکیورٹی پر ہے۔
یعنی آج کل پی ٹی آئی والے وہی سب کچھ کر رہے ہیں جس کے خلاف وہ ماضی میں بولا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ’وی آئی پیز کو تو سکیورٹی درکار ہوتی ہے لیکن عام عوام بھی آج کل سکیورٹی لینا سٹیٹس سمبل سمجھتے ہیں، اثرورسوخ رکھنے والے افراد اپنے ساتھ ایک یا دو سکیورٹی اہلکار رکھتے ہیں جس پر وہ فخر محسوس کرتے ہے اور ان پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں و دیگر مراعات بھی حکومت کی طرف سے دی جاتی ہیں۔
monthly expenditure on security of CM Khyber Pakhtunkhwa ] video
