مراکش:حکومت مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے،300 افراد زخمی

مراکش میں حکومت مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے،جھڑپوں کےدوران 300افراد زخمی ہو گئے۔مظاہرین نے حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق مراکش میں 6روز سے جاری احتجاجی لہر کے دوران اب تک 3 افراد ہلاک اور تقریباً 300  زخمی ہوچکے ہیں۔مظاہرین کی قیادت کرنے والے ’جنریشن زی 212‘ نامی گروپ نے تمام گرفتار افراد کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

یہ احتجاجی لہر گزشتہ ماہ اگادیر کے سرکاری ہسپتال میں 8 حاملہ خواتین کی اموات کی خبروں کے بعد شروع ہوئی جس سے عوامی غصے میں اضافہ ہوا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں اور کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کے بجائے صحت اور تعلیم کے شعبوں پر توجہ دینی چاہیے۔

مراکش کے وزیراعظم عزیز اخنوش نے مظاہروں کے آغاز کے بعد سے اپنے پہلے عوامی خطاب میں کہا کہ حکومت احتجاج کرنے والوں کے مطالبات پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے بدھ کی رات کے واقعات کو ’افسوسناک‘  قرار دیا، جن میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مراکش کی وزارت داخلہ نے بتایا کہ یہ افراد ایک مقامی پولیس اسٹیشن پر حملے کی کوشش کے دوران مارے گئے۔

وزارت کے مطابق اب تک 400 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ تقریباً 300 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر سکیورٹی اہلکار شامل ہیں، اسی طرح 80 سے زائد سرکاری و نجی عمارتوں اور سیکڑوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

Back to top button