9 مئی کی سزاؤں کے بعد تحریک : PTI کا دھڑن تختہ ہونے کا امکان

سانحہ 9 مئی کے ملزمان کو سزائیں سنائے جانے کے بعد پی ٹی آئی کے پاس احتجاج کے علاوہ کوئی آپشن باقی نہیں بچا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی سٹریٹ پاور بالکل ختم ہو چکی ہے اگر اس بار بھی پی ٹی آئی احتجاجی تحریک میں ناکامی کا شکار ہوئی توتحریک انصاف بطور سیاسی قوت تاریخ کا حصہ بن جائے گی۔
داخلی اختلافات اور انتشار کے باوجود تحریک انصاف نے 5 اگست کو مینارِ پاکستان پر جلسے کا اعلان کر کے اجازت کیلئے باقاعدہ درخواست بھی جمع کروا دی ہے۔ تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پی ٹی آئی کا یہ جلسہ واقعی کامیاب ہو پائے گا؟ مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کے لاہور جلسے کی کامیابی کے امکانات معدوم ہیں کیونکہ موجودہ حالات میں نہ صرف کارکنوں کی گرفتاریوں کا خطرہ ہے بلکہ عوامی جوش و خروش میں بھی واضح کمی دکھائی دیتی ہے۔ خیبر پختونخوا، جو کبھی پی ٹی آئی کا قلعہ سمجھا جاتا تھا، اب بدلی ہوئی زمینی حقیقتوں کا سامنا کر رہا ہے۔ یہاں تنظیمی ڈھانچہ غیر فعال اور کارکنان مایوس نظر آ رہے ہیں جبکہ ملک کے دیگر شہروں کے حالات بھی اس سے مختلف دکھائی نہیں دیتے۔ پارٹی قیادت کی وعدہ خلافیوں اور یوٹرنز سے پی ٹی آئی کارکنان بددل ہو چکے ہیں اس لئے کسی بھی احتجاج کیلئے عوام کا سڑکوں پر آنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ دوسری جانب انسداد دہشت گردی کی عدالتوں سے مسلسل سزاؤں نے پارٹی کی قیادت اور صفِ اول کے رہنماؤں کو مزید دفاعی پوزیشن میں دھکیل دیا ہے۔ مراد سعید، علی محمد خان، اور دیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمات نہ صرف پارٹی کا مورال متاثر کر رہے ہیں بلکہ احتجاجی صلاحیت پر بھی براہِ راست اثر ڈال رہے ہیں۔
بعض مبصرین کے بقول وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی حالیہ لاہور آمد، اور زرعی فارم پر سیاسی سرگرمیوں میں کسی مداخلت کا نہ ہونا اس امر کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ فی الوقت ریاست کا رویہ نسبتاً نرم ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لاہور مینار پاکستان پر 5 اگست کے جلسے کی مشروط اجازت دے دی جائے گی، تاکہ پی ٹی آئی کو احتجاج کا آئینی حق دیا جا سکے ۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ریاست پی ٹی آئی کو ایک "سیاسی نرمی” کا موقع دے رہی ہے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا تعین خود کرے کہ وہ آنے والے دنوں میں مزاحمتی سیاست کرنا چاہتی ہے یا مفاہمتی حکمت عملی سے آگے بڑھنے کی خواہاں ہے۔ مبصرین کے بقول "ریاست نے اس وقت احتجاج کو مکمل طور پر روکنے کے بجائے محدود اور کنٹرولڈ رکھنے کی حکمتِ عملی اپنارکھی ہےتاکہ پی ٹی آئی کو خود اپنے وزن سے گرایا جا سکے۔”
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی کی موجودہ احتجاجی تحریک کا مقصد حکومت کو گرانا نہیں بلکہ پارٹی کی سیاسی حیثیت کو منوانا ہے۔ پی ٹی آئی کے بیانیے کا محور اب "قائدین کی رہائی” اور "سیاسی بحالی” بن چکا ہے جبکہ حکومتی نااہلی، مینڈیٹ پر ڈاکہ، عوامی مسائل یا معیشت سے متعلق نعرے اب ثانوی ہو چکے ہیں۔موجودہ احتجاج عوامی مسائل کی ترجمانی سے زیادہ لیڈرشپ کی رہائی سے مشروط نظر آ رہا ہے۔ مبصرین کے بقول "پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ اس بات کا بھی امتحان ہے کہ کیا پارٹی اب بھی ‘تنہا’ کھڑی ہو سکتی ہے، یا اسے زندہ رکھنے کے لیے کسی اشارے یا پسِ پردہ حمایت کی ضرورت ہے؟” تاہم تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو ہر مؤثر تحریک کے پیچھے کوئی "تھپکی” یا "اشارہ” ضرور ہوتا ہے ، لیکن موجودہ حالات میں پی ٹی آئی کی ایسی کوئی بھی پشت پناہی نظر نہیں آتی۔
مبصرین کے بقول "تحریک انصاف کی اصل طاقت ہمیشہ اس کی سٹریٹ پاور رہی ہے۔ لیکن جب لیڈر شپ قید ہو، کارکنان خوفزدہ ہوں اور تنظیمی ڈھانچہ مفلوج ہو چکا ہو تو ایسی جماعت کا احتجاج محض علامتی رہ جاتا ہے۔” ان کا مزید کہنا ہے کہ "پی ٹی آئی کے پاس اگر کوئی کارڈ بچا ہے تو وہ احتجاجی سیاست ہے، لیکن سڑک پر نکلنے کے لیے صرف کال دینا کافی نہیں ہوتا، اس کے لیے کارکنان کا جذبہ، تنظیمی نظم اور عوامی مقبولیت لازم ہوتا ہے، جو اس وقت بالکل نظر نہیں آتے۔” تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ پی ٹی آئی ایک جانب احتجاجی تحریک کا اعلان کر رہی ہت جبکہ دوسری جانب پارٹی کے اندر دھڑے بندیوں کی خبریں عام ہیں، یہاں تک کہ بعض رہنما قیادت کی غیرموجودگی میں خود کو متبادل قیادت کے طور پر پیش کرنے لگے ہیں۔”پی ٹی آئی کے بیانیے میں واضح تضاد ہے۔ ایک طرف قیادت کی رہائی کی بات ہو رہی ہے، دوسری طرف کارکنوں کو احتجاج کے لیے سڑکوں پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس صورتحال نے پارٹی کارکنان کو مزید کنفیوژ کر دیا ہے۔
مراد اور فیصل حلف لیکر گرفتار ہوں گے یا نا اہلی کا انتظار کریں گے؟
تاہم مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر پی ٹی آئی مجوزہ احتجاجی تحریک میں عوامی شرکت اور تنظیمی ڈسپلن کو بحال کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو یہ اس کے لیے نئی سیاسی زندگی کا آغاز ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کے امکانات معدوم ہیں بصورتِ دیگر، یہ احتجاجی کارڈ بھی پی ٹی آئی کے ہاتھ سے نکل سکتا ہے اور یہ احتجاجی تحریک پی ٹی آئی کے سیاسی سفر کا آخری باب ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کے بقول حالیہ احتجاجی تحریک پی ٹی آئی کے لیے محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ بقا یا زوال کی جنگ بن چکی ہے۔ اگر یہ تحریک بھی عوامی پذیرائی حاصل نہ کر سکی تو یہ پارٹی کے لیے سیاسی تنہائی کا آغاز ہو گا۔”اس بار بھی اگر تحریک ناکام ہوئی تو پی ٹی آئی کی عوامی سیاست میں واپسی ناممکن ہو جائے گی۔”
