متحدہ کوحکومت سےعلیحدگی کی دھمکی پرتحفظات دورکرنے کی یقین دہانی

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے کراچی میں حلقہ بندیوں کے معاملے پر وفاقی حکومت سےعلیحدگی پر غور شروع کردیا،جس پر وزیر اعظم سمیت پی ڈی ایم کی قیادت نے ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کو تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
باخبر ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت سے علیحدگی کے معاملے پر ایم کیو ایم پاکستان رابطہ کمیٹی نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے جبکہ ایم کیوایم کے وفاقی وزرا نے اپنے استعفے خالد مقبول صدیقی کے پاس جمع کرادیے، اگر حکومت حلقہ بندیوں میں مدد نہیں کرسکتی حکومت میں رہنے کا جواز نہیں ہے جس کے بعد ایم کیوایم کی علیحدگی سے وفاقی حکومت خطرے میں پڑسکتی ہے۔
وزیر اعظم شہبازشریف نے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی سے رابطہ کیاہے ، جس میں انہیں آج رات ہی تحفظات دور کرنےکی یقین دہانی کرائی ہے۔
اس کے علاوہ ایم کیو ایم پاکستان کا وفد کل اسلام آباد میں وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کرے گا، جس میں ایم کیو ایم کی جانب سے خالد مقبول صدیقی ،مصطفیٰ کمال ،فاروق ستار اور وسیم اختر شامل ہونگے۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف زرداری نے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی سےٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔ٹیلی فونک گفتگو میں دونوں رہنمائو میں مختلف معاملات پر گفتگو ہوئی،آصف زرداری نے خالد مقبول صدیقی کو مختلف یقین دہانیاں کراتے ہوئے مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے کی پیشکش کی ہے۔
اس کے علاوہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی خالد مقبول صدیقی سے ٹیلیفونک رابطہ کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات سے متعلق گفتگو کی۔مولانا فضل الرحمان نے خالد مقبول صدیقی کو صبر سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے۔
خیال رہے کہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور ان کے قریبی ساتھیوں کے مابین مشاورت سے متعلق بتایا گیا تھا کہ صدر مملکت وزیراعظم شہباز شریف کو قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں،رونما ہونے والی سیاسی صورتحال کے پیش نظر اگر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان وفاقی حکومت سے علیحدگی اختیار کرتی تو وزیراعظم شہباز شریف کو اعتماد کو ووٹ حاصل کرنے میں ناکامی ہوسکتی ہے۔
