ایم کیو ایم کا کپتان سے پیکا ترامیم واپس لینے کا مطالبہ

شیخ رشید کی جانب سے پیکا قانون میں کی گئیں ڈریکونین ترامیم اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے کھاتے میں ڈالنے کے بعد متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے بغاوت کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے ترمیمی آرڈیننس فوری واپس لینے کا مطالبہ کردیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی سید امین الحق نے متنازع پیکا قانون میں ترمیمی آرڈیننس کو واپس لینے کے لیے وزیراعظم کو خط لکھ دیا ہے۔
ترمیمی آرڈیننس واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے وزیر کا کہنا تھا کہ انکی جماعت متنازع آرڈیننس کے ذریعے پیکا قانون میں ترامیم سے متفق نہیں کیونکہ اس میں متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور اس سے میڈیا کی آزادی سلب ہونے کا خدشہ ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے ایک پریس کانفرنس میں میں کہا تھا کہ پیکا قوانین میں ترامیم وزارت آئی ٹی نے کروائی ہیں اور انکا مسودہ وفاقی وزیر امین الحق نے تیار کیا۔ دوسری جانب ایم کیو ایم نے اس متنازع قانون کا مدعا اپنے سر لینے سے انکار کردیا ہے اور وزیراعظم عمران خان کو خط لکھ مارا ہے۔ وفاقی وزیر امین الحق سے پہلے ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے پیکا قوانین کی مذمت کرتے وہ میڈیا کی آزادی اظہار کے حق میں ایک لمبی چوڑی تقریر کر دی تھی۔
نیشنل کرائم ایجنسی نے شہباز کو ایک اور کیس میں بری کردیا
امین الحق نے شیخ رشید کے اس موقف کی بھی تردید کی ہے کہ پیکا آرڈیننس میں ترمیم ان کے ایما پر ہوئی اور اس کا مسودہ انہوں نے تیار کیا۔ وزیراعظم عمران خان کے نام لکھے گئے خط میں وفاقی وزیر امین الحق نے کہا ہے کہ پیکا آرڈیننس کے خلاف میڈیا اور دیگر سٹییک ہولڈرز کے احتجاج پر غور کریں اور فوری طور پر میڈیا اور دیگر متعلقہ حلقوں سے وسیع البنیاد مشاورت کا آغاز کریں۔ان کا کہنا ہے کہ ترامیم میں بلاضمانت گرفتاری اور فیک نیوز کی تشریح نہ ہونے سے ملک میں بے چینی پھیل رہی ہے۔
اس حوالے سے صحافتی تنظیموں، انسانی حقوق تنظیموں و ماہرین کی رائے لی جاتی تو بہتر ترامیم ہو سکتی تھیں۔ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے، ہر حکومت میڈیا سے اپنے تعلقات بہتر بناتی ہے مگر اس ترمیمی آرڈیننس کی وجہ سے صحافی و صحافتی اور میڈیا تنظیمیں حکومت کے خلاف ہو رہی ہیں۔‘ انہوں نے خط میں وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ بغیر مشاورت کے جاری ہونے والے آرڈیننس کے خلاف صحافتی و میڈیا تنظیموں نے احتجاج کا اعلان کر دیا ہے اور عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹا دیا ہے۔
وفاقی وزیر کے دفتر کی جانب سے خط کی تصدیق کے ساتھ ان سے منسوب ایک بیان بھی میڈیا سے شئیر کیا گیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم حکومت کے اتحادی ہیں لیکن عوام کے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیم سے تعلق اہم ہے۔ ایم کیوایم کی انداز سیاست میں بنیادی حقوق کے خلاف قوانین کی حمایت کسی صورت نہیں کر سکتے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ترمیمی آرڈیننس حکومت کی عوامی حمایت کے لیے خطرہ اور آزادی اظہار رائے کے خلاف ہے۔
وزیراعظم سے امید ہے کہ وہ صحافتی تنظیموں اور سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد نئی ترامیم کریں گے۔‘ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کے بعد متحدہ قومی موومنٹ پاکستان عمران خان سے دوری اختیار کرتی نظر آتی ہے۔
