مصطفی کمال کی الطاف مخالف پریس کانفرنس پرMQMتقسیم

متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی رہنما مصطفیٰ کمال کی جانب سے الطاف حسین پر عمران فاروق قتل کے سنگین الزامات کے بعد پارٹی میں پہلے سے موجود انتشار میں مزید اضافہ ہوگیا ہے،پارٹی رہنماؤں نے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین پر لگائے جانے والے الزامات سے اظہار لاتعلقی کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ باہمی اختلافات کی خلیج بڑھنے کے بعد ایم کیو ایم واضح طور پر دو گروپس میں تقسیم نظر آرہی ہے۔ حالانکہ پریس کانفرنس میں مصطفیٰ کمال کی جانب سے بانی ایم کیو ایم پر لگائے جانےوالے الزامات کو پارٹی کا موقف قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان نہ کمزور ہے، نہ خاموش اور نہ ہی سچ بولنے سے پیچھے ہٹے گی۔ تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دے رہے ہیں۔ پریس کانفرنس میں پی ایس پی گروپ کی جانب سے تو تابڑ توڑ حملے دیکھنے میں آئے تاہم اس موقع پر دوسرے گروپ کے مرکزی رہنما اور پارٹی کارکنان غائب رہے، پارٹی کے ایک گروپ سے تعلق رکھنے والے کار کنان اس کانفرنس کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں اور اسے کراچی اور مہاجر سیاست کے حوالے سے مثبت تبدیلی بتارہے ہیں تو دوسری جانب کار کنوں کی ایک بڑی تعداد نے اس پریس کانفرنس بارے تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔ ناراض ایم کیو ایم کارکنان کا کہنا ہے کہ سرکاری گاڑیوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ گھومنے والے رہنماؤں نے بانی ایم کیو ایم پر الزامات لگا کر عام کار کنوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں،

مصطفیٰ کمال کی جانب سے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل بارے الطاف حسین پر لگائے گئے سنگین الزامات کو سیاسی حلقوں میں ایم کیو ایم کے اندرونی اختلافات اور ذاتی دشمنی کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق مصطفیٰ کمال کی جانب سے سامنے آنے والے الزامات ایک طویل لفظی جنگ کا تسلسل ہیں، کیونکہ بانی ایم کیو ایم الطاف حسین ماضی میں اپنے متعدد خطابات میں مصطفیٰ کمال کو ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا ذمہ دار قرار دیتے رہے ہیں۔ تاہم اب مصطفیٰ کمال نے الطاف حسین کو قاتل، مفاد پرست اور لاشوں پر سیاست کرنے والا مداری قرار دے کر پرانے الزامات کا بدلہ لینے اور سیاسی سکور سیٹل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے خود الطاف حسین کو قاتل قرار دے دیا ہے اور برسوں بعد ایک بار پھر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا حساس اور متنازع معاملہ کھول دیا ہے، جس سے نہ صرف سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے بلکہ ایم کیو ایم کی اندرونی لڑائی بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔

یاد رہے کہ عمران فاروق متحدہ قومی موومنٹ کے بانی اراکین میں شمار ہوتے تھے اور جماعت کے اندر انہیں فکری اور نظریاتی ستون کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ طویل عرصے تک پارٹی کی تنظیمی اور نظریاتی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے اور پارٹی لٹریچر کا بڑا حصہ انہی کے قلم سے نکلا۔ تاہم 2009 میں الطاف حسین سے اختلاف کے بعد انہیں پارٹی سیکرٹری جنرل اور کنوینر کے عہدوں سے معطل کر دیا گیا۔ اس کے بعد ان کے لندن میں موجود مرکزی قیادت سے اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے۔ عمران فاروق کے قتل کیس کی تفتیش اور عدالتی فیصلے میں یہ بات سامنے آئی کہ الطاف کو خدشہ لاحق ہو گیا تھا کہ عمران فاروق ایک علیحدہ سیاسی جماعت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جسے ایم کیو ایم کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا گیا اور یہی سیاسی اختلاف بالآخر ان کے قتل کی وجہ بنا۔

عمران فاروق کے قتل کے فوراً بعد لندن میٹروپولیٹن پولیس کے انسداد دہشت گردی یونٹ نے تحقیقات کا آغاز کیا اور جائے وقوعہ سے پانچ انچ لمبا خنجر اور ایک اینٹ برآمد کی گئی۔ ابتدائی طور پر شواہد محدود تھے، لیکن قریبی علاقوں میں نصب کیمرے موجود نہیں تھے اور حملہ آوروں کی شناخت کے حوالے سے گواہوں کی تعداد بھی کم تھی، تاہم پولیس نے ہزاروں گھنٹوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا، چار ہزار سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کی اور چار ہزار پانچ سو سے زیادہ شواہد اکٹھے کیے۔ بعد ازاں ایک اے ٹی ایم کیمرے سے حاصل ہونے والی فوٹیج نے تفتیش کا رخ بدل دیا جس کے ذریعے حملہ آوروں کی نقل و حرکت اور باہمی تعلق سامنے آیا۔ برطانوی سراغ رسانوں نے یہ بھی ثابت کیا کہ دونوں ملزمان کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے تھا اور قتل کی وجہ الطاف حسین سے اختلاف کرنا تھا۔ تاہم اب مصطفیٰ کمال نے کھلے الفاظ میں بانی ایم کیو ایم کو ڈاکٹر عمران فاروق کا قاتل قرار دے دیا ہے۔

تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ مصطفیٰ کمال نے اچانک بانی ایم کیو ایم الطاف حسین پر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل جیسے سنگین الزامات کیوں عائد کیے؟ مبصرین کے مطابق یہ اب کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں رہی کہ ایم کیو ایم پاکستان شدید اندرونی اختلافات کا شکار ہے۔ اگرچہ پاک سرزمین پارٹی باضابطہ طور پر ایم کیو ایم میں ضم ہو چکی ہے، مگر عملاً آج بھی وہ اپنی الگ شناخت، گروپ بندی اور اثر و رسوخ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ کمال بانی ایم کیو ایم پر کھلے عام الزامات عائد کر کے پارٹی کے اندر خود کو حاوی کرنے اور فیصلہ کن قوت کے طور پر منوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مبصرین کے بقول مصطفیٰ کمال کے بیانات محض جذباتی ردِعمل نہیں بلکہ کسی مخصوص ایجنڈے کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ مصطفیٰ کمال کو بانی متحدہ کی ممکنہ واپسی یا کم از کم سیاسی بحالی کا کوئی امکان نظر آ رہا ہے۔مصطفیٰ کمال شاید یہ محسوس کر رہے ہیں کہ الطاف حسین کے ساتھ کسی سطح پر بات چیت چل رہی ہے یا ریاستی اور سیاسی حلقوں میں ان کے لیے فضا نرم ہو رہی ہے۔ اسی ممکنہ راستے کو بند کرنے اور بانی ایم کیو ایم کی واپسی کے ہر امکان کو متنازع بنانے کے لیے الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کے اندرونی ذرائع کے مطابق اس تمام تنازع کی بنیاد دراصل ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ کی میت کو ایئرپورٹ پر وصول کرنے کا واقعہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس موقع پر ایم کیو ایم کے سینئر رہنما فاروق ستار تو موجود تھے، تاہم مصطفیٰ کمال کی عدم موجودگی نے انہیں یہ احساس دلایا کہ وہ ایک اہم سیاسی لمحے میں پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق مصطفیٰ کمال کا یہی احساس محرومی ان کی پریس کانفرنس میں حالیہ سخت بیانات کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اس کے ساتھ یہ پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ بانی ایم کیو ایم الطاف حسین ماضی میں متعدد بار ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا ذمہ دار مصطفیٰ کمال کو ٹھہراتے رہے ہیں، اور موجودہ الزامات کو اسی تناظر میں ایک فطری ردِعمل قرار دیا جا رہا ہے۔

فوج کا ڈنڈا عمران کی مقبولیت توڑنے میں ناکام کیوں؟

ذرائع کے مطابق الطاف حسین اور مصطفیٰ کمال کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا یہ سلسلہ کسی ایک واقعے تک محدود نہیں بلکہ ایک طویل سیاسی کشمکش کا تسلسل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم بطور جماعت اس حساس معاملے میں براہِ راست فریق بننے سے گریز کر رہی ہے۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ الطاف حسین سے علیحدگی کے باوجود خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار اور دیگر مرکزی رہنما آج بھی بانی متحدہ کے خلاف سخت یا توہین آمیز زبان استعمال نہیں کرتے، جو پارٹی قیادت کے ایک مختلف اور محتاط طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار، خواجہ اظہار، حیدر عباس رضوی سمیت دیگر رہنما متعدد مواقع پر یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ جب الطاف حسین ماضی کی غلطیوں پر معافی مانگ چکے ہیں تو انہیں معاف کرنے کا راستہ بھی مکمل طور پر بند نہیں ہونا چاہیے۔ اسی نکتہ نظر نے موجودہ تنازع کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے مبصرین کے مطابق مصطفیٰ کمال اور الطاف حسین کے مابین محاذ آرائی اصولی اختلاف سے زیادہ سیاسی برتری، ذاتی انا اور مستقبل کے خدشات کا نتیجہ ہے۔

Back to top button