ایم کیوایم لندن پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث نکلی

امریکی عدالت نے کراچی میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کا جرم ثابت ہونے پر ایم کیو ایم لندن کی خاتون رہنما کہکشاں حیدر خان کو آٹھ سال قید کی سزا سنادی ہے۔ اس فیصلے نے ایک بار پھر اس حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے کہ ایم کیو ایم لندن پاکستان میں دہشت گردی، تخریب کاری اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں براہِ راست ملوث رہی ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق کہکشاں حیدر خان نے نہ صرف امریکہ میں بیٹھ کر تخریب کاری کرانے کی منصوبہ بندی کی تھی بلکہ اس نے کراچی میں 2 پٹرول پمپس پر بم حملے کرانے کے لیے پیسے بھی بھجوائے تھے۔بعدازاں تفتیش ہونے پر اس نے جھوٹے بیانات دیئے حالانکہ کہکشاں نے نہ صرف کراچی میں شرپسندانہ کارروائی کیلئے فنڈز اکٹھا کیا بلکہ تخریب کاری کی مکمل پلاننگ بھی کی۔ اس حوالے سے جاری بیان کے مطابق کہکشاں پاکستان میں مبینہ دہشتگردانہ کارروائیوں کے لیے فنڈز جمع کرتی تھیں انہیں پاکستان بھیجتی تھیں اور حملوں کے انتظامات میں کردار ادا کرتی تھیں۔
سی ٹی ڈی کے مطابق 2021 میں جب کہکشاں حیدر کے خلاف پاکستان میں ٹیرر فنانسنگ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا تواس وقت ایم کیو ایم لندن کا کہنا تھا کہ کہکشاں حیدر پارٹی کا حصہ نہیں ہیں۔ تاہم حالیہ امریکی دستاویزات میں انھیں ایم کیو ایم کا حصہ بتایا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق کہکشاں حیدر ایک پاکستانی تارک وطن اور متحدہ قومی موومنٹ کی کارکن ہے۔وہ امریکی ریاست ٹیکساس کے مشرقی ضلع میں رہائش پذیرہے۔عدالت میں پیش کی گئی معلومات کے مطابق، 23فروری 2023کو کہکشاں سے ایف بی آئی کے خصوصی ایجنٹوں نے کراچی کے دو گیس سٹیشنوں پر حملوں میں ملوث ہونے کے حوالے سے پوچھ گچھ کی تھی۔ تفتیش میں کہکشاں حیدر نے کسی بھی تخریب کاری میں ملوث ہونے سے صاف انکار کیا تھا حالانکہ جنوری 2023 میں کہکشاں حیدر نے پاکستان میں ایک شخص کو کراچی میں 2 پنجابی مالکان کے پیٹرول پمپس پر فائر بم حملے کروانے کے لیے بھرتی کیا تھا۔ وہ متعلقہ افراد سے اس منصوبے کے متعدد اہم پہلوؤں پر بات کرتی رہیں جن میں ٹارگٹ کی جگہوں کا انتخاب، استعمال کیے جانے والے آتش گیر مادے، حملے سے پہلے کے انتظامات، حملے کے بعد کے فرار کے طریقے اور حملہ آوروں کے لیے اسلحہ خریدنے کے انتظامات کرنا شامل تھے۔
محکمہ انصاف کے مطابق کہکشاں حیدر نے امریکا میں ایم کیو ایم کے ہمدردوں سے پیسے جمع کیے اور یہ رقم پاکستان منتقل کی۔ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ 20 فروری 2023 کو ’پاکستان میں موجود کہکشاں حیدر کے ساتھی نے انھیں کچھ خبروں کی تصاویر بھیجیں جن میں کراچی کے ایک پیٹرول پمپ پر آتش گیر حملے کے نتیجے میں چھ افراد کے جھلس جانے کی ذکر تھا۔ کہکشاں نے اس خبر کا جشن منایا اور اپنے ساتھی سے کہا کہ انھیں اس کام کے لیے بڑا انعام ملے گا۔‘کراچی سے تخریب کاری کی کامیاب کارروائی کی اطلاع ملنے کے بعد کہکشاں حیدر نے باقی دن انٹرنیٹ پر اس حملے سے متعلق مزید خبریں تلاش کرتے گزارا تاہم انھیں اس سے متعلق کچھ نہ ملا۔‘’تقریباً ایک دن تلاش کے بعد انھیں پتہ چلا کہ جو تصاویر انھیں بھیجی گئی تھیں وہ دراصل اکتوبر 2022 کے ایک واقعے کی تھیں۔ کہکشاں حیدر نے اس دھوکے پر اپنے ساتھی پر شدید غصے کا اظہار کیااور اپنے ساتھی پر دھوکہ دہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ ایم کیو ایم کے نام پر دھبہ ہیں۔‘
23 فروری 2024 کو ایف بی آئی کے سپیشل ایجنٹس نے کہکشاں سے ان واقعات سے متعلق دوبارہ پوچھ گچھ کی لیکن اس دوران کہکشاں نے کئی جھوٹے بیانات دیے اور حملوں میں اپنی شمولیت اور کردار سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی ایسے عمل میں شریک نہیں جو پاکستان میں کسی بھی فرد کی ہلاکت یا نقصان کا سبب بنے۔ تاہم، فروری 2025 میں مقدمے کی سماعت دوران انھوں نے تسلیم کیا کہ ان کے پہلے دئیے جانے والے سب بیانات جھوٹ تھے اور انھیں معلوم تھا کہ یہ بیانات دہشت گردی کی تحقیقات میں اہمیت رکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ چند سال قبل کراچی میں کہکشاں حیدر پر دہشتگردی کی مالی معاونت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ 2021 میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس وقت کے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عمر شاہد حامد نے دعویٰ کیا تھا 2017 میں تین ٹارگٹ کلرز کو گرفتار ہوئے تھے جنھوں نے اعتراف کیا تھا کہ انھیں مبینہ طور پر کہکشاں حیدر نے واٹس ایپ پر وارداتوں کا حکم دیا تھا جس کے بعد کہکشاں حیدر پر ٹیرر فنانسنگ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس وقت سی ٹی ڈی پولیس کی جانب سے دعوی کیا گیا تھا کہ کہکشاں حیدر ایم کیو ایم لندن کی رابطہ کمیٹی کی رکن رہی ہیں اور وہ امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں مقیم ہیں۔ پاکستان میں کہکشاں کے بھائی کامران حیدر ایم کیو ایم کے سیکٹر ممبر تھے جبکہ امریکہ منتقلی کے بعد ان کے بھائی کوایم کیو ایم امریکہ کا جوائنٹ آرگنائزر بنا دیا گیا تھا۔ سی ٹی ڈی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ’کراچی میں جو ٹارگٹ کلرز کی ٹیمیں کام کر رہی تھیں، یہ خاتون ان کی سربراہی کر رہی تھیں۔‘دوسری جانب ایم کیو ایم لندن کا کہنا تھا کہ کہکشاں حیدر پارٹی کا حصہ نہیں ہیں۔
