حکومت سے علیحدگی کی دھمکیاں دینے والی MQM رام کیسے ہوئی؟

گورنر سندھ کی تبدیلی کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی کی موجودگی میں ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ مبصرین کے مطابق اس ملاقات سے نہ صرف طویل عرصے بعد ایم کیو ایم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان رابطے بحال ہو گئے ہیں بلکہ گورنر کامران ٹیسوری کی چھٹی کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی میں بھی کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ تاہم بعض سیاسی ماہرین اس ملاقات کو گورنر سندھ کی تبدیلی کے بعد کراچی میں طاقت کے توازن اور ممکنہ سیاسی صف بندیوں کی نشاندہی کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔ تاہم ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں گورنر سندھ کی تبدیلی پر برہم ایم کیو ایم قیادت کو مقتدر قوتوں کی جانب سے واضح اور دوٹوک پیغام بھی دیا گیا ہے۔ جس کے بعد حکومت سے علیحدگی کی دھمکیاں دینے والی ایم کیو ایم ایک بار پھر پرانی تنخواہ پر کام کرنے پر راضی ہو گئی ہے۔
خیال رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کامران ٹیسوری کی جگہ نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کے اچانک فیصلے کے بعد شہباز شریف کی اتحادی حکومت اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے درمیان تعلقات میں تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔ جس کے بعد جہاں ایم کیو ایم رہنماؤں کی جانب سے حکومت سے علیحدگی کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں وہیں فوری وفاقی وزارتیں چھوڑنے، احتجاجی حکمت عملی اختیار کرنے یا حکومت میں رہتے ہوئے سیاسی دباؤ بڑھانے بارے مختلف آپشنز پر بھی غور کیا جا رہا تھا۔ جس پر جہاں وفاقی حکومت حرکت میں آئی تو کوئی بھی سخت فیصلہ کرنے سے قبل ایم کیو ایم قیادت کو مطمئن کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی کی صدر آصف زرداری اور ایم کیو ایم سربراہ خالد مقبول صدیقی سے کراچی میں ملاقات ہوئی۔ ذرائع کے مطابق بلاول ہاؤس کراچی میں ہونے والی اس غیر رسمی سیاسی بیٹھک میں سیاسی صورتحال، ترقیاتی منصوبے، پی پی پی اور ایم کیو ایم کے درمیان تعلقات، گورنر سندھ کی تبدیلی اور دیگر اہم امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ ذرائع کے مطابق تمام امور پر بات چیت کے بعد ورکنگ ریلشن برقرار رکھنے اور مستقبل میں مزید ملاقاتوں پر اتفاق کیا گیا۔ سیاسی ماہرین کے مطابق اس ملاقات کا ایجنڈا بظاہر داخلی سیکیورٹی، امن و امان اور عوامی مسائل کے حل کے گرد گھوم رہا تھا، تاہم اسے گورنر سندھ کی تبدیلی کے بعد کراچی میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کی ایک بڑی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق گورنر سندھ کی تبدیلی محض انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر سیاسی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ گورنر ہاؤس سندھ میں کامران ٹیسوری کی جگہ نہال ہاشمی کی آمد نے کراچی کی سیاست میں طاقت کا توازن بدل دیا ہے۔ ایم کیو ایم اس فیصلے کو اپنی سیاسی بقاءکیلئے ایک چیلنج سمجھ رہی ہے۔ ایم کیو ایم رہنماؤں کا ماننا ہے کہ نہال ہاشمی کی بطور گورنر تعیناتی کے ذریعے ن لیگ سندھ میں اپنے سیاسی قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے، جو براہِ راست ایم کیو ایم کے روایتی ووٹ بینک اور سیاسی اثر و رسوخ پر اثر ڈال سکتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایم کیو ایم قیادت کے لیے گورنر سندھ کی تبدیلی ایک بڑا دھچکا ہے۔ اسی لئے پارٹی کے سینیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے ابتدا میں جذبات کی رو میں بہتے ہوئے اسے یکطرفہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے علیحدگی تک کی تجویز دے دی تھی۔ تاہم مقتدر قوتوں کے دوٹوک جواب کے بعد ایم کیو ایم نے ایک بار پھر سیاسی عمل میں شامل رہنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
طاقتور فیصلہ ساز گورنر ٹیسوری کو ہٹانے پر کیسے رضامند ہوئے ؟
سیاسی تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ صدر زرداری کی محسن نقوی اور خالد مقبول سے ملاقات کا مقصد ایم کیو ایم کو یہ یقین دہانی کرانا تھا کہ انہیں سیاسی عمل سے باہر نہیں کیا جا رہا۔ تاہم پیپلز پارٹی کا کراچی کے بلدیاتی اور انتظامی امور پر بڑھتا ہوا کنٹرول اور ن لیگ کے نئے گورنر کی موجودگی یہ اشارہ دے رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کراچی کی سیاست میں پی پی پی اور ن لیگ کا گٹھ جوڑ مضبوط ہوگا، جبکہ ایم کیو ایم کو اپنی بقا کے لیے سخت سیاسی جدوجہد کرنی پڑے گی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان اس وقت دباؤ کی سیاست کے ذریعے اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کی خواہاں ہے، تاہم عملی طور پر وہ کبھی بھی وفاقی حکومت سے علیحدہ نہیں ہو گی تاہم آنے والے دنوں میں بھی سخت بیانات اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
