جامعہ بنوریہ کے مفتی نعیم 5 ارب روپے کے مالک نکلے

پچھلے برس کرونا وائرس کے ہاتھوں انتقال کر جانے والے جامعہ بنوریہ کراچی کے مہتمم اور معروف عالم دین مفتی محمد نعیم کے بینک اکاؤنٹس میں پانچ ارب روپے سے زائد رقم موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ انکشاف تب ہوا جب مفتی نعیم کے ایک بیٹے نے وراثت کے انتقال اور جائیداد کی تقسیم کے لئے عدالت سے رجوع کیا۔
مفتی محمد نعیم کی موت کے بعد ان کی اولاد کے درمیان والد کے اثاثوں کی تقسیم کا جھگڑا کھڑا ہو گیا تھا جس کے بعد ایک بیٹے نے عدالت سے رجوع کرلیا۔ جب عدالت نے مفتی محمد نعیم کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیل مانگی گئی تو پتہ چلا کہ انکے مختلف بینکوں میں 5 ارب 34 کروڑ 14 لاکھ 27 ہزار 147 روپےکی نقد رقوم میں موجود ہیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ مفتی نعیم نےجامعہ بنوریہ کےنام پر الائیڈ بینک میں ایک اور فیصل بینک میں تخن علیحدہ علیحدہ اکاؤنٹس کھلوا رکھے تھے جن میں 5 ارب روپے سے زائد کی رقوم موجود ہیں۔ اس لیے اثاثوں کے بٹوارے کو لیکر ان کی اولاد کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے اور جائیداد میں حصےکے حصول کی خاطر معاملہ عدالت تک پہنچ گیا۔
واضح رہے کہ مفتی نعیم 29 جون 2020 کو کرونا وائرس سے متاثر ہو کر انتقال کرگئے تھے، ان کے تعلقات ہر حکومت اور جماعت کے ساتھ مضبوط سیاسی مراسم برقرار رہے۔ تاہم اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آخر مفتی محمد نعیم کے پاس اتنی بڑی رقم کہاں سے آئی؟
نورمقدم قتل کیس کا فیصلہ محفوظ، 24 فروری کو سنایا جائیگا
مفتی نعیم 1958 میں کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن گئے جہاں سے وہ 1979 میں فارغ التحصیل ہوئے۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد 16 سال تک انھوں نے جامعہ بنوریہ میں بطور استاد خدمات انجام دیں۔ بعد میں ان کے والد قاری عبدالحلیم جامعہ بنوریہ عالمیہ کا قیام عمل میں لائے جس کے وہ آخری وقت تک مہتمم تھے۔
کراچی سائٹ ایریا میں 12 ایکڑ اراضی پر قائم انکے جامعہ بنوریہ نامی مدرسے کا شمار پاکستان کے بڑے دینی مدارس میں ہوتا ہے۔ اس مدرسے کے وجود میں آنے کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔ آج کل جہاں جامعہ بنوریہ قائم ہے یہ درحقیقت نشاط ملز کی لیبر کالونی تھی۔
ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے اپنے دور میں ہر ایک بڑی فیکٹری اور مل کے لیے لازمی قانون بنایا تھا کہ وہ اپنے مزدوروں کی رہائش کے لیے کالونیاں بنائے۔ اس کے لیے حکومت نے انہیں جگہیں مہیا کی تھیں لیکن اس شرط پر کہ مل مالکان یہ جگہیں فروخت نہیں کریں گے۔ یہ ایک اچھی بڑی کالونی تھی جہاں رہائش پذیر مزدوروں نے نماز کے لیے ایک چھوٹی سے مسجد خود ہی بنا لی تھی۔
اس دوران نشاط مل بند ہوچکی تھی۔ مفتی نعیم نے جب اس مسجد کی خستہ حالی اور ویرانی دیکھی تو ان کے مالکان سے بات کرکے یہ جگہ حاصل کرلی۔ مسجد کی چار دیواری نہیں تھی۔ مسجد بھی خستہ حال تھی۔ انیوں نے اسے نماز کے قابل بنایا۔ مسجد کے سامنے تھوڑی خالی جگہ تھی جہاں آج کل دفاتر ہیں، وہاں دو کمروں کی بنیاد ڈالی اور اس طرح یہاں جامعہ بنوریہ کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ 1980 کا زمانہ تھا۔ اسطرح اسٹار کالونی کا مدرسہ یہاں منتقل کردیا گیا۔
اس مدرسے میں تعلیم کے حصول کے لیے آنے والے طلبہ کا تعلق امریکہ، برطانیہ، چین سمیت افریقی ممالک سے ہے۔ یہاں طلبہ اور طالبات کی رہائش کا بھی بندوست ہے۔مفتی نعیم سات جلدوں پر مشتمل تفسیر روح القرآن، شرح مقامات، نماز مدلل اور دیگر کتب کے مصنف تھے اور وہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس شوریٰ کے متحرک رکن تھے۔ مدارس کی نصاب سازی کا معاملہ ہو یا رجسٹریشن کاوہ ہر ایسی تحریک میں پیش پیش رہے۔ تاہم جس سوال کا جواب نہیں ملتا رہا وہ یہ ہے کہ مفتی نعیم کے بینک اکاؤنٹس میں 5 ارب روپے سے زائد کی رقم کہاں سے آئی؟’
