پاک افغان مذاکرات کی ناکامی کی اصل وجہ ملا ہیبت اللہ نکلا

 

 

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ قطر اور ترکی کی ثالثی کے باوجود پاکستان اور افغانستان کے مذاکرات اس لیے ناکامی کا شکار ہوئے کہ پاکستانی اور افغانی طالبان ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور دونوں کا امیر المومنین بھی ایک ہے جس کا نام ملا ہیبت اللہ اخونزادہ ہے۔ چنانچہ افغان طالبان حکومت سے یہ امید کرنا کہ وہ تحریک طالبان کے خلاف ہو جائیں گے، ایک دیوانے کا خواب تھا جس کی تعبیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی موجودگی میں ناممکن بات تھی۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں، ہمارے ہاں روایت ہے کہ پالیسی ساز کسی کمزوری یا مجبوری کی وجہ سے ایک مفروضہ گھڑ لیتے ہیں  اور پھر اسے قوم کے سامنے ایک حقیقت کے طور پر پیش کرنے لگتے ہیں۔ ایسا ہی ایک مفروضہ ہمارے پالیسی سازوں نے یہ تراشا تھا کہ افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ اس مفروضے کے حق میں صرف ایک دلیل موجود تھی کہ افغان طالبان نے کبھی پاکستان میں کوئی دہشت گردی کی کارروائی نہیں کی۔ میں خود بھی اس حقیقت سے آگاہ ہوں کہ افغان طالبان کیخلاف پاکستان میں کئی کارروائیاں ہوئیں۔ ملا برادر سے لے کر ملا عبیدﷲ اخوند تک ان کے کئی رہنمائوں کو گرفتار کیا گیا۔ لیکن بوجوہ افغان طالبان پاکستان میں کسی کارروائی میں براہ راست ملوث نہیں پائے گئے۔ اس کے باوجود میں 2008 سے کہتا رہا کہ افغانستان اور پاکستان کے طالبان ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

 

اپنے موقف کے حق میں دلائل دیتے ہوئے سلیم صافی کہتے ہیں کہ مولوی نیک محمد، بیت اللہ محسود اور حکیم محسود نے پاکستان کیخلاف جنگ اس بنیاد پر شروع کی کہ انکے بقول پاکستان نے طالبان کی حکومت ختم کرنے کیلئے امریکہ کا ساتھ دیا۔ یہ بھی یاد رہے کہ جب تحریک طالبان پاکستان کے رہنمائوں کی بیعت ہو جاتی تھی تو وہ فوراً افغان طالبان کے امیرالمومنین کی غائبانہ بیعت کیا کرتے تھے۔ جب پاکستانی طالبان کے مختلف دھڑے دو برس پہلے دوبارہ مفتی نور ولی محسود کی قیادت میں اکٹھے ہوئے اور مشترکہ طور پر ان کی بیعت کی تو اسی مجلس میں انہوں نے افغان طالبان کے امیر المومنین ملا ہیبت ﷲ اخونزادہ کو امیرالمومنین تسلیم کرنے کی بیعت بھی کی۔ یعنی افغان اور پاکستانی طالبان دونوں کا امیر المومنین بھی ایک ہے۔

 

سلیم صافی کہتے ہیں کہ افغان طالبان نے پاکستان کے اندر ٹی ٹی پی، القاعدہ یا جماعت الاحرار کی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیا لیکن ٹی ٹی پی کے لوگ کئی محاذوں پر افغان طالبان کے شانہ بشانہ لڑتے رہے۔ وہ کارروائی جس میں صوبہ خوست کے اندر امریکی سی آئی اے کے نصف درجن اہم ترین اہلکار مارے گئے، اسکا منصوبہ سابق ٹی ٹی پی امیر حکیم اللہ محسود نے بنایا تھا۔ سی آئی اے کے خلاف ہونے والے اس خودکش دھماکے میں خود کو اڑانے والے فدائی ابو دجانہ نے مشن پر جانے سے قبل حکیم ﷲ محسود کیساتھ ویڈیو پیغام ریکارڈ کروایا تھا۔ اسی وجہ سے حکیم اللہ محدود کو ایک امریکی ڈرون حملے میں ہی ختم کیا گیا تھا۔ اسکے علاوہ افغان طالبان، تحریک طالبان، جماعت الاحرار اور القاعدہ کا جہادی لٹریچر ایک جیسا ہے۔ ان کے جہاد، قتال، مرتد اور دیگر مذہبی تصورات ایک ہیں۔ یہ سب ایک دوسرے کے آڈیو ویڈیو مواد سے استفادہ کرتے ہیں۔

 

ٹی ٹی پی کے ہر لیٹر پیڈ کے ایک طرف اس کے سابق امیروں یعنی بیت ﷲ محسود، حکیم ﷲ محسود، ملا فضل ﷲ اور موجودہ امیر مفتی نور ولی محسود کا نام لکھا ہوتا ہے اور دوسری طرف افغان طالبان کے سابق امیرالمومنین ملا محمد عمر اور موجودہ امیر ملا ہیبت ﷲ اخونزادہ کا نام لکھا ہوتا ہے۔ افغانستان میں دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد سے کسی ایک بھی بیان میں کابل کے حکمران افغان طالبان نے تحریک طالبان کو منع نہیں کیا کہ وہ ان کیلئے امیرالمومنین کا نام استعمال نہ کریں۔

 

سلیم صافی کہتے ہیں کہ افغان طالبان اور پاکستانی طالبان اٹوٹ انگ ہیں جس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ جب حکیم ﷲ محسود ڈرون حملے میں مارا گیا تو افغان طالبان نے اپنی آفیشل ویب سائٹ پر ایک بیان میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے شہید قرار دیا ۔

 

صافی کہتے ہیں کہ تحریک طالبان کے کئی رہنما افغانستان کے ایسے علاقوں میں مقیم رہے جو افغان طالبان کے زیر کنٹرول تھے لیکن ٹی ٹی پی کی تشکیل سے لے کر آج تک کسی ایک جگہ سے بھی ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے کسی جھگڑے کی خبر نہیں آئی، جبکہ دوسری طرف داعش کے خلاف افغان طالبان نے بھرپور جنگ لڑی۔

پاکستانی ریاست کے خلاف مزاحمت کا آغاز کرنے والے مولانا نیک محمد افغان طالبان کے سابق دور میں کابل کے مغرب میں کارغہ کیمپ کے انچارج تھے جبکہ بیت ﷲ محسود، ملا داد ﷲ کے ساتھی کے طور پر برسوں افغانستان میں جنگ لڑ چکے تھے۔ یہ تو چند حقائق ہیں لیکن اگر کسی نے افغانی اور پاکستانی طالبان کے آپسی تعلق کی اصل نوعیت جاننی ہو تو وہ تحریک طالبان کے موجودہ امیر مفتی نورولی محسود کی کتاب ”انقلاب محسود‘‘ کا مطالعہ کر لے۔

 

سلیم صافی کہتے ہیں کہ افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد سے پاکستان کے قبائلی اضلاع میں ٹی ٹی پی کی دہشتگردی بڑھتی چلی جا رہی ہے، یہی وہ مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے دوحہ اور استنبول میں حال ہی میں پاک افغان مذاکرات ہوئے جو ناکامی کا شکار ہو گئے۔ افغان طالبان نے پاکستان سمیت تمام پڑوسی ممالک کو یقین دلایا کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے لیکن وہ تحریری طور پر یہ ضمانت دینے کو تیار نہیں تھے جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ تحریک طالبان کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے۔ پاکستانی حکام یہ امید بھی لگائے بیٹھے تھے کہ افغان طالبان، پاکستانی طالبان رہنماؤں کو پکڑ پکڑ کر پاکستان کے حوالے کردیں گے حالانکہ ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ قطر اور ترکی کی تمام تر کوششوں کے باوجود پاک افغان مذاکرات ناکامی کا شکار ہو گئے ہیں۔

 

 

Back to top button