مری کی طوفانی برف باری میں کاروں میں پھنسے 20 افراد ہلاک

مری اور گلیات میں 7 اور 8 جنوری کی رات شدید ترین برفباری سے سینکڑوں گاڑیاں اور ہزاروں افراد سڑکوں پر پھنسے ہوئے ہیں جن میں سے کئی کے مرنے کی اطلاعات ہیں۔ اس بارے کچھ ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جن میں برف میں پھنسے ہوئی کاروں میں لوگوں کی لاشوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔
وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے بتایا ہے کہ پنجاب کے تفریحی مقام مری میں شدید برفباری کے نتیجے میں گاڑیوں میں پھنسے کم از کم 16 سیاح ہلاک ہو گئے ہیں۔ شیخ رشید کے مطابق مری جانے والے راستے پر اس وقت بھی ایک ہزار گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں اور امدادی کارروائیوں کے لیے ایف سی، رینجرز اور فوج کے جوانوں کی مدد حاصل کر لی گئی ہے۔ ایک ویڈیو بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اب تک ایسے 16 سے 19 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جو اپنی گاڑیوں میں پھنسے ہوئے تھے۔
وزیرِ داخلہ نے ہلاک شدگان کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ سڑک پر پھنسے باقی افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے مری میں سنو ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور علاقے کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔ شیخ رشید نے بتایا کہ اسلام آباد اور دیگر علاقہ جات سے مری کی طرف جانے والے راستے بند کر دیے گئے ہیں اور صرف خوراک اور امدادی سامان لے جانے والی گاڑیوں کو ہی داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
وزیرِ داخلہ نے امید ظاہر کی سنیچر کی شام تک مری اور اس کے راستے میں پھنسی گاڑیوں اور افراد کو نکال لیا جائے گا تاہم ان کے مطابق مری جانے والے راستے اتوار کی رات نو بجے تک بند رہیں گے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گلیات اور مری میں موسم کی صورتحال مزید خراب ہونے کا امکان ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ وہاں 50 سے 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے طوفان آنے والا ہے، ان حالات میں مری اور اسکے اردو گرد کے سیاحتی مقامات کے رہائشیوں اور سیاحوں کو ہدایت کی گئی یے کہ وہ کسی بھی صورت گھروں سے بالکل باہر نہ نکلیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو اسلام آباد کی نمبر پلیٹ والی ایک سوزوکی گاڑی میں بچوں سمیت ایک پورے خاندان کے لاشوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ان اموات کی وجہ سخت سردی اور گاڑیوں میں گیس بھرنا بتائی جا رہی ہے۔ جو صورتحال چل رہی ہے اسے مزید ہلاکتوں کا بھی اندیشہ ہے۔ اس وقت مری میں شدید برفباری کے باعث سڑکیں بلاک ہیں اور سینکڑوں گاڑیاں برف تلے دبی ہوئی ہیں۔ لوگوں کو ریسکیو کرنے کے لئے سول آرمی فورسز کو طلب کر لیا گیا یے۔
ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کا کہنا تھا کہ ‘مری میں اس وقت تک ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد گاڑیاں داخل ہوچکی ہیں، مری میں مسلسل برف باری کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے شہر میں بجلی کی سپلائی بھی تعطل کا شکار ہے اور برف میں پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے امدادی کاروائیاں بھی معطل ہیں۔
اس صورتحال کے بعد گلیات اور مری میں سیاحوں کا داخلہ بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ سیاحوں کو مری اور گلیات میں داخلے سے روکنے کے لیے پولیس چیک پوسٹیں بھی قائم کر دی گئی ہیں۔
کرونا کے مزید 1345 کیسز، شرح 2.22 فیصد پر پہنچ گئی
گلیات میں شدید برفباری کی وجہ سے جمعے کو کم از کم دو مقامات پر برفانی تودے گرے ہیں جبکہ بجلی کے تین کھمبے گرنے سے بھی روڈ کی صورتحال انتہائی خطرناک ہو چکی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے مطابق بڑھتے ہوئے رش کی وجہ سے سیاحوں کو مری اور گلیات کی طرف جانے سے عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ مری اور گلیات کی طرف جانے والے سیاحوں کو 17’ میل انٹرچینج‘ سے آگے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ حکام کے مطابق فیصلے کا مقصد مری اور گلیات سے واپس آنے والے سیاحوں کے لیے سہولت فراہم کرنا ہے اور یہ کہ سیاحوں کو مری اور گلیات سے باحفاظت واپس لانا ہے۔
ساتھ ہی ساتھ حکام نے مری میں موجود لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹریفک پولیس اور دیگر حکام کے ساتھ تعاون کریں، غلط پارکنگ نہ کریں، گاڑیاں راستے میں پارک کر کے سیلفیاں نہ لیں اور ڈبل لین بنانے سے اجتناب کریں۔ گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ترجمان نے بتایا تھا کہ ایبٹ آباد، گلیات میں برف باری کے پانچویں سپیل کے دوران 3 انچ تک برف پڑ چکی ہے اور برفباری سے متاثرہ شاہراہوں پر بھاری مشینری سے برف ہٹانے کا کام جاری ہے تاکہ پھنسے ہوئی گاڑیاں نکل سکیں۔ ترجمان نے کہا کہ سیاح برفباری کے دوران گاڑیوں کے پہیوں پر زنجیریں لپیٹے بغیر سفر کرنے سے اجتناب کریں ورنہ گاڑی اس پھسلنے سے حادثے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برفباری رکتے ہی ایبٹ باد مری روڑ کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا جائے گا۔ تاہم محکمہ موسمیات کے مطابق برفباری کا سلسلہ اگے تین دن تک جاری رہے گا۔
