سانحہ مری کی ذمہ داری بھائی لوگوں پر بھی آتی ہے

مری میں برف میں پھنسے 24 افراد کی ہلاکتوں کے بعد جہاں ایک طرف حکومتی نا اہلی کو ان اموات کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے وہیں بھائی لوگ بھی سخت تنقید کی زد میں ہیں اور انہیں بھی اس المناک سانحے کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد بھائی لوگوں پر تنقید کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کر رہی ہے کہ مری ایک کنٹونمنٹ ایریا ہے جہاں موجود ملٹری فارمیشنز میں ہزاروں کی تعداد میں فوجی جوان موجود تھے لیکن انہیں لوگوں کی مدد کے لئے تب نکالا گیا جب 24 افراد کی جانیں چلی گئیں۔ لہذا مری سانحے کی ذمہ دار نہ صرف کپتان کی نا اہل حکومت ہے بلکہ اس کی ذمہ داری بھائی لوگوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔

سینئر صحافی احمد نورانی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی فوج کے ایک سابق لیفٹننٹ جنرل کی سربراہی میں کام کر رہا ہے۔ جس علاقے میں اموات ہوئیں وہ فوج کے کنٹرول میں ہے لیکن فوجی جوان لوگوں کی مدد کے لیے تب باہر نکلے جب وہ سردی میں ٹھٹھر کر مر چکے تھے۔ کیا کوئی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سے پوچھے گا کہ وہ اس سانحے کے وقت کیا کر رہا تھا۔ سوشل میڈیا پر ایسی درجنوں تصاویر وائرل ہیں جن میں مری اور گلیات کے علاقوں میں قائم مختلف ملٹری فارمیشنز کے باہر لگی خاردار باڑیں نظر آ رہی ہیں جو برف سے ڈھکے ہوئی ہیں۔ ان تصاویر میں لوگوں کی گاڑیاں باڑ والی دیواروں کے باہر برف میں پھنسی صاف دکھائی دیتی ہیں۔ ایسی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے ایک سوشل میڈیا صارف علی اظہر نے ٹوئٹر پر لکھا کے آپ نے ان خاردار باڑوں کے پیچھے موجود دیواروں سے باہر آتے ہوئے 82 گھنٹے لگادئیے۔ اس دوران مائنس 12 ڈگری ٹمپریچر میں سردی سے ٹھٹھر کر درجنوں پاکستانیوں نے اپنی جانیں گنوا دیں، بہت دیر کی مہرباں آتے آتے۔

ایک اور ٹوئٹر صارف رویل سرمد نے مری کے طوفان میں پھنس کر 24 گھنٹے گزارنے کا تجربہ بیان کیا اور بتایا کہ جب یہ سانحہ رونما ہو رہا تھا تو نہ تو وہاں انتظامیہ نظر آ رہی تھی اور نہ ہی فوجی جوان۔ انھوں نے لکھا کہ اب جبکہ ایک عظیم انسانی سانحہ رونما ہو چکا ہے تو سول اور عسکری حکام کارروائی ڈالنے اور نمبر ٹانگنے کے لیے تصویریں بنوا رہے ہیں۔ رویل نے اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ لوئر ٹوپا میں ایئر فورس کی اکیڈمی کے باہر کئی گاڑیاں برف میں پھنسی ہوئی تھی لیکن کوشش کے باوجود ان کی کوئی مدد نہ کی گئی۔ ہاں اتنا ضرور ہوا کہ رات گئے تین فوجی جوان وہاں سے نکل کر بسکٹ کے کچھ پیکٹس بانٹنے تین گاڑیوں تک پہنچے اور پھر ان کے ساتھ سیلفیاں بنوا کر غائب ہو گے۔

مری کے سانحے پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی عمران شفقت نے کہا کہ سوشل میڈیا پر فوجی جوانوں کی جانب سے برف میں پھنسے لوگوں کی مدد کیے جانے کی تصاویر وائرل ہیں اور انہیں خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خلائی مخلوق نہیں بلکہ ہماری فوج کے جوان ہیں اور فوجیں اسی لئے بنائی جاتی ہیں کہ وہ مشکل وقت میں قوم کی مدد کریں، لہذا یہ لوگ کسی پر کوئی احسان نہیں کر رہے بلکہ اپنی ڈیوٹی کر رہے ہیں۔ البتہ خلائی مخلوق وہ ہوتی ہے جو کسی سانحے کے وقت بھی اپنا واج وجانے میں مصروف رہتی ہے۔

پاکستان ہمسایہ ملک آرمینیا کو تسلیم کرنے پر کیوں تیار نہیں؟

ایک اور ٹویٹر صارف عالیہ زہرا نے ایک ملٹری بیس کے باہر لگی ہوئی تختی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ مری میں فوج کی ڈھیروں تنصیبات موجود ہیں، پھر سیاحوں کی جانیں بچانے کے لئے بروقت کاروائی کیوں شروع نہیں کی گئی، کیا لوگوں کے مرنے کا انتظار کیا جارہا تھا تا کہ بعد میں تصاویر بنوائی جا سکیں؟

ایک اور ٹوئٹر صارف یاسمین کریمی نے لکھا کے مری کے چپے چپے پر فوج کا قبضہ ہے۔ کہیں پر کوئی گیریثن ہے، کہیں پر فوجی میس اور کہیں پر آفیسرز کلب، حتی کہ یہاں کئی ایکڑوں پر پھیلا ہوا ایک ڈاگ سینٹر بھی موجود ہے، اگر یہ رات کو سوہلینز کی مدد کرنے کے لئے نکل پڑتے تو کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں، مگر جب قوم برف کے طوفان میں جاگ رہی تھی تو ہمارے مجاہد ہیٹر لگا کر سوئے ہوئے تھے۔ ایک اور ٹویٹر صارف عابد جمال قاضی نے لکھا کہ اب فوٹو سیشنز شروع ہیں کہ فوجی جوان عوام کی مدد کو پہنچ گئے، میرا سوال یہ ہے کہ کیا مری اور گلیات میں فوجی جوان اور فوج کے دفاتر پہلے سے موجود نہیں تھے؟ کیا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یہ لوگ تب باہر نکل کر عوام کی مدد نہیں کر سکتے تھے جب انہیں ان کی ضرورت تھی؟

Back to top button