پاکستان سمیت 13 مسلم ممالک نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کا بیان مسترد کر دیا

پاکستان، سعودی عرب، ترکیے، متحدہ عرب امارات اور اردن سمیت متعدد مسلم ممالک نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے حالیہ بیان کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ اور بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے پر اسلامی تعاون تنظیم، عرب لیگ اور خلیج تعاون تنظیم کے نمائندوں سمیت مختلف مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کے دستخط ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکی سفیر کے ریمارکس خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور یہ عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ یہ بیان سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے وژن اور غزہ تنازع کے حل سے متعلق مجوزہ منصوبوں سے بھی متصادم ہے۔ مسلم ممالک نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی اور دیگر عرب علاقوں پر کسی قسم کا قانونی یا اخلاقی اختیار حاصل نہیں۔
یاد رہے کہ اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل کو پورے مشرقِ وسطیٰ پر کنٹرول کا حق حاصل ہے، اور اگر وہ دریائے نیل سے دریائے فرات تک کے علاقوں پر اختیار قائم کرے تو یہ قابلِ قبول ہوگا۔
ماہرین کے مطابق “نیل سے فرات تک” کا تصور ایک جغرافیائی اصطلاح کے طور پر جانا جاتا ہے، جسے بعض حلقے “گریٹر اسرائیل” کے نظریے سے جوڑتے ہیں۔ اس تصوراتی نقشے میں لبنان سے سعودی عرب کے بعض حصے، بحیرہ روم سے لے کر عراق میں دریائے فرات تک کا خطہ شامل بتایا جاتا ہے، تاہم بین الاقوامی سطح پر اس کی کوئی قانونی حیثیت تسلیم شدہ نہیں۔
