مسلم لیگ ن کا انتخابی منشور کتنا قابل عمل ہے؟

پاکستان مسلم لیگ ن نے الیکشن سے قبل اپنے انتخابی منشور کا اعلان کر دیا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلم لیگ ن حکومت میں آنے پر منشور پر کیسے عملدرآمد کر سکے گی اور کیا ایسا کرنا ممکن ہے۔پاکستان مسلم لیگ نواز نے آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات کے لیے اپنے منشور کا اعلان کر دیا ہے جس میں مہنگائی میں کمی، نیب کے خاتمے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔منشور کے چیدہ چیدہ نکات میں زراعت کی جدت کے ذریعے کسان کی خوشحالی شامل ہے ’موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے ملک کو محفوظ بنایا جائے گا اور تمام سرکاری دفاتر کو ماحول دوست بنایا جائے گا۔آئینی، قانونی، عدالتی و انتظامی اصلاحات کی منصوبہ بندی کی جائے گی، آئینی اصلاحات کے ضمن میں یہ بھی شامل ہے کہ آرٹیکل 62/63 کو اپنی اصل حالت میں بحال کیا جائے گا۔ اور پارلیمنٹ کی بالادستی کویقینی بنایا جائے گا۔بروقت اور مؤثر عدالتی نظام کا نفاذ کیا جائے گا، مؤثر، منصفانہ اور بروقت پراسیکیوشن ہوگی، یقینی بنایا جائے گا کہ بڑے اور مشکل مقدمات کا فیصلہ ایک سال کے اندر جبکہ چھوٹے مقدمات کا فیصلہ دو ماہ میں سنایا جائے، بجلی کے بلز میں 20 سے 30 فیصد کمی لانے جبکہ ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ بھی کیا، ن لیگ نے سرحدوں کے پار امن کا پیغام دینے کا عزم کیا۔منشور پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے خصوصی عملدر آمد کونسل کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا جو حکومتی کارکردگی کی سہ ماہی رپورٹ مرتب کرے گی، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کو اپنے منشور پر عمل درآمد بالخصوص مہنگائی میں کمی لانے کے لیے وسیع تر اقدامات کرنا ہوں گے۔معاشی ماہر ڈاکٹر ساجد رانا نے کہا کہ مہنگائی مقامی مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعلق عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر چیزوں سے ہوتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب آئی ایم ایف کے ساتھ آپ کے معاملات جاری ہوں تو بجلی کے بلوں میں کمی جیسے اعلانات پر عمل درامد مشکل دکھائی دیتا ہے۔نیب کے خاتمے اور عدالتی اصلاحات کے حوالے سے ماہر قانون عارف چوہدری نے اردو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ نیب جس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا اس حوالے سے تو پی ڈی ایم کی حکومت نے اسے پہلے ہی بے ضرر ادارہ بنا دیا ہے، عدالتوں سے ن لیگ کو ہمیشہ ریلیف ملا ہے اور وہ ایسی عدالتیں چاہتے ہیں کہ جن کو موم کی ناک کی طرح موڑا جا سکے۔خارجہ محاذ بالخصوص انڈیا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو برابری کی سطح پر اور باہمی احترام کے اصول کے مطابق رکھنے کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے منشور پر بات کرتے ہوئے انڈیا میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے منشور میں خارجہ امور کے حوالے سے زیادہ فوکسڈ پالیسی دکھائی دی ہے۔ چین کو سب سے اوپر رکھنا اور اس کے بعد مسلم دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانا ایک بہترین حکمت عملی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی آنے والی حکومت کی ترجیح علاقائی ممالک اور اُمت مسلمہ ہے، سب سے اچھی بات یہ ہے کہ منشور میں روس اور امریکہ کا ذکر موجود نہیں جس سے یہ اچھا تاثر ملتا ہے کہ ہم کسی مسئلے میں الجھنا نہیں چاہتے۔
