متحدہ قومی موومنٹ کا بھی اپوزیشن سے ہاتھ ملانے کا فیصلہ

https://youtu.be/9ryiihDbx3s
باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ قومی اسمبلی میں سات سیٹیں رکھنے والی وزیراعظم عمران خان کی اہم ترین اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے بھی حزب اختلاف کی قیادت سے مذاکرات کے بعد وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں ساتھ دینے کی یقین دہانی کروا دی ہے جس کا اعلان اگلے چند روز میں کر دیا جائے گا۔
بتایا گیا ہے کہ مرکز میں عمران خان کے خلاف ووٹ دینے کے عوض متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت نے پیپلز پارٹی کی قیادت سے چند انتہائی اہم یقین دہانیاں حاصل کی ہیں جن پر عمل درآمد کی ضمانت نواز لیگ، قاف لیگ اور اور جے یو آئی کی قیادت نے دی ہے۔ اپوزیشن اتحاد سے ہاتھ ملانے کے عوض ایم کیو ایم کو سندھ کی گورنر شپ کے علاوہ مرکز اور سندھ کابینہ میں وزارتیں بھی دی جائیں گی۔ اس کے علاوہ کراچی میں برس ہا برس سے بند پڑے ایم کیو ایم کے مرکزی عزیز آباد ہیڈکوارٹر سمیت کئی دیگر دفاتر بھی کھولنے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔
باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو کے ساتھ اسلام آباد میں ایک حالیہ ملاقات کے دوران ایم کیو ایم کے وفد کی جانب سے پیش کیے گے تمام تر مطالبات کو تسلیم کر لیا گیا تھا جن پر عمل درآمد کی ضمانت نواز لیگ، قاف لیگ اور جے یو آئی کی قیادت سے حاصل کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم بھی اسی روز حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہو کر اپوزیشن کے ساتھ جانے کا اعلان کر دے گی جس روز قاف لیگ اور بلوچستان عوامی پارٹی اعلان کریں گی۔
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عمران کی تینوں بڑی اتحادی جماعتیں اکٹھے پریس کانفرنس میں حکومتی اتحاد چھوڑنے کا اعلان کریں گی۔ یاد رہے کہ ایم کیو ایم، قاف لیگ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے قومی اسمبلی میں 17 ووٹ ہیں۔ ایسی صورت میں جیسے ہی یہ تین اتحادی حکومت کا ساتھ چھوڑیں گے مرکز میں اپوزیشن اتحاد کے ووٹوں کی تعداد 162 کر بڑھ کر 179 ہو جائے گی جبکہ حکومتی اتحاد کی اکثریت 179 سے کم ہوکر 162 پر آجائے گی اور عمران خان فارغ ہو جائیں گے۔
یاد رہے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان اتحاد کی تاریخ 1988 سے شروع ہوتی ہے جب بے نظیر بھٹو وزیرِ اعظم منتخب ہوئی تھیں۔ تاہم یہ اتحاد زیادہ دیر نہ چلا اور اکتوبر 1989 ہی میں دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات کے باعث اتحاد ختم ہو گیا تھا جس کے بعد ایم کیو ایم کے خلاف پیپلز پارٹی کے اگلے دور میں کراچی آپریشن تیز ہوا۔
پیپلز پارٹی دور میں کراچی میں ہونے والے آپریشن کے بارے میں ایم کیو ایم کا دعویٰ ہے کہ اس کے ہزاروں کارکنوں کو قتل یا پھر غائب کیا گیا۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ آپریشن فوج نے کیا تھا، پولیس نے نہیں اور اس کا بنیادی مقصد کراچی سے دہشت گردوں کا خاتمہ کرنا تھا۔ تاہم 2007 میں بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جب 2008 کا الیکشن جیت کر پیپلزپارٹی نے مرکز اور سندھ میں حکومت بنائی تو ایک بار پھر پی پی پی اور ایم کیو ایم متحد نظر آئیں اور قومی اسمبلی کے ساتھ سندھ میں بھی ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعت بنی رہی۔
اوآئی سی اجلاس، پاکستان پریڈ کیلئے سیکیورٹی بڑھانے کا حکم
تاہم دسمبر 2010 میں ایم کیو ایم نے وفاق میں اتحادی حکومت سے علیحدگی اور وزارتیں چھوڑنے کا اعلان کیا تھا البتہ سندھ میں ایم کیو ایم بدستور پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومتی بینچز پر ہی براجمان رہی۔ اس دوران دونوں جماعتوں کے درمیان کراچی میں لسانی بنیادوں پر اموات اور دہشت گردی، کراچی میں قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی حد بندی اور مقامی حکومتوں کے بارے میں اختلافات میں مزید شدت آتی گئی اور فروری 2012 میں ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت سے بھی اپنی راہیں جدا کر لی تھیں۔یوں دونوں جماعتوں کے درمیان دو بار اتحاد تو ہوا البتہ یہ کچھ عرصہ چلنے کے بعد ختم ہوگیا۔
اس بار بھی اطلاعات کے مطابق ایم کیو ایم کو پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی جانب سے گورنر شپ کے علاوہ سندھ اور مرکزی حکومت میں وزارتیں دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اسکے علاوہ مقامی حکومتوں کے نظام کے حوالے سے ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی گی ہے۔ بدلے میں پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کی مدد سے تحریکِ عدم اعتماد کو کامیاب بنائیں جائے گی۔
