میرا کا خود کو کنوارا ثابت کرنے کیلئے عدالت جانے کا فیصلہ

اپنی متنازعہ حرکتوں اور گلابی انگلش کی وجہ سے اکثر خبروں کی زینت بننے والی اداکارہ میرا نے خود کو کنوارا ثابت کرنے کے لیے اب لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔ لاہور کی سیشن کورٹ کی جانب سے عتیق الرحمان نامی شخص کی اہلیہ قرار دیے جانے کے باوجود میرا کا اصرار ہے کہ وہ غیر شادی شدہ ہیں اور کنواری ہیں۔ لہذا انہوں نے سیشن کورٹ کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ اس سے پہلے میرا کی والدہ شفقت بیگم نے عدالت کا فیصلہ تسلیم کرتے ہوئے ایک ویڈیو بیان جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ عتیق الرحمان آئے اور اپنی دلہن میرا کو گھر لے جائے۔ شفقت بیگم کے مطابق عدالت اور شریعت کا بھی یہی ماننا ہے کہ ان کی بیٹی عتیق الرحمٰن کی ہی بیوی ہے۔ تاہم اب میرا نے سیشن کورٹ کا فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا یے۔

یاد رہے کہ لاہور کی سیشن کورٹ نے 31 جنوری 2022 کو میرا کی اپنی دائر کردہ درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ وہ عتیق الرحمٰن نامی شخص کی بیوی ہیں۔ سیشن کورٹ سے قبل فیملی کورٹ نے بھی 2018 میں اداکارہ میرا کو عتیق الرحمٰن کی بیوی قرار دیا تھا، اس فیصلے کے خلاف اداکارہ نے اپیل دائر کی تھی مگر عدالت نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عتیق الرحمٰن کے حق میں فیصلہ دیا تھا.

جنہوں نے میرا سے اپنی شادی کا نکاح نامہ اور شادی کی تصاویر بھی عدالت میں پیش کی تھیں۔ اب میرا نے سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے عدالت سے مقامی عدالت کا فیصلہ کاالعدم قرار دینے اور عتیق الرحمٰں کی جانب سے پیش کیے گئے نکاح نامے کو جعلی قرار دینے کی اپیل کی ہے۔

میرا کی جانب سے رانا اسد منیر ایڈووکیٹ 24 فروری کو عدالت میں پش ہوئے اور ان کی درخواست دائر کی۔ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ اداکارہ میرا کو ٹرائل کعرٹ میں اپنے گواہ پیش کرنے کا مناسب موقع فراہم نہیں کیا گیا جب کہ وہ اہنے والدین کو جان کے خطرے کے پیش نظر بطور گواہ عدالت میں پیش نہیں کر سکیں۔

درخواست مں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ دبئی میں فلم کی عکسبندی کے دوران عتیق الرحمٰن نے جھوٹا نکاح نامہ اور تصاویر تیار کیں، جن کی بنیاد پر لاہور کی سیشن عدالت نے انہیں عتیق کی اہلیہ قرار دیا ہے۔ اداکارہ میرا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے عتیق الرحمٰن کے پیش کردہ نکاح نامے کی مروجہ قانون کے مطابق تصدیق نہیں کی اور نہ ہی عدالت میں اصل نکاح نامہ پیش کیا گیا تھا۔

’’کاشی سیلون‘‘ میں ماڈل سحر حیات کے ساتھ کیا ہوا؟

درخواست کے مطابق عتیق الرحمٰن نے ٹرائل کورٹ میں نکاح نامے سے متعلق کوئی مصدقہ دستاویزات پیش نہیں کیں جب کہ نکاح خواں نے بھی عتیق الرحمٰن کے نکاح نامے کو ثابت کرنے کے دستاویزات موجود نہ ہونے کا بیان دیا۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فیملی کورٹ نے نکاح نامے کی سچائی کے لیے نکاح کی تصاویر پر بھروسہ کیا گیا حالانکہ وہ جعلی تھیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس سے پہلے سیشن کورٹ میں اپنے موقف کا دفاع کرتے ہوئے میرا نے کہا تھا کہ عدالت میں عتیق کی جانب سے پیش کردہ تصاویر ایک فلم کی شوٹنگ کے موقع پر لی گئی تھیں۔

اب لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ میرا کی لاتعداد تصاویر آن لائن موجود ہیں جن کا غلط استعمال کیا جانا ممکن ہے جب کہ تکذیب نکاح کیس میں عدالت میں پیش کی گئی تصاویر کے کوئی نیگیٹوز یا اوریجنل ڈیجیٹل کاپیز پیش نہیں کی گئیں۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیس ہے کہ عتیق الرحمٰن نے بلیک میل کرنے کے لیے ایڈیٹ کی گئی تصاویر عدالت میں پیش کیں اور جعلی تصاویر کی بنیاد پر فیملی کورٹ نے مبینہ نکاح کے موقع کی تصاویر قرار دے کر ان کی درخواست خارج کی۔

اداکارہ نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی کہ تکذیب نکاح سے متعلق فیملی کورٹ کی ڈگری اور سیشن کورٹ کا حکم کاالعدم قرار دے کر عتیق الرحمٰن کا نکاح نامہ بھی جھوٹا قرار دیا جائے۔لاہور ہائی کورٹ نے اداکارہ کی درخواست پر عتیق الرحمٰن سمیت تمام فریقین کو 13 اپریل کو جواب طلب کر لیا ہے۔

یاد رہے کہ عتیق الرحمٰن نامی شخص نے پہلی بار 2009 سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ میرا نے ان سے شادی کر رکھی ہے اور ان کی اہلیہ ہونے کے باوجود انہوں نے نکاح کے اوپر نکاح کر کے امریکہ میں مقیم کیپٹن نوید نامی ایک شخص سے شادی کر لی۔ عتیق الرحمٰن کی جانب سے نکاح کے اوپر نکاح کا دعویٰ کرنے کے بعد میرا نے جولائی 2009 میں تکذیب نکاح کی درخواست دائر کی تھی۔ اس کیس کی درجنوں سماعتیں ہوئیں، یہاں تک کہ عدالت نے عدم پیشی پر میرا کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے تھے۔

لاہور کی فیملی کورٹ نے تقریبا ایک دہائی بعد جون 2018 میں فیصلہ دیا تھا کہ اداکارہ عتیق الرحمٰن کی ہی بیوی ہیں۔ فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اداکارہ نے سیشن کورٹ میں درخواست دائر کی تھی اور وہاں بھی تقریبا تین سال تک سماعتیں ہوئیں اور عدالت نے 31 جنوری 2022 کو فیصلہ دیا کہ اداکارہ عتیق الرحمٰن کی ہی بیوی ہیں۔

اداکارہ میرا دعویٰ کرتی رہی ہیں کہ انہوں نے عتیق الرحمٰن سے شادی نہیں کی اور مذکورہ شخص کے ساتھ ان کی کھچوائی گئی تصاویر دراصل ایک فلم کی شوٹنگ کا حصہ ہیں۔ تاہم عتیق الرحمٰن کے مطابق اداکارہ جن تصاویر کو ڈرامے کا حصہ قرار دیتی ہیں، دراصل وہ ان کی شادی کی تصاویر ہیں اور وہ عدالت میں انہیں اوریجنل تصاویر کے طور پر ثابت کر چکا ہے۔

Back to top button