لبنان میں پراسرار دھماکوں سے 135 افراد ہلاک 4000 زخمی

لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگارہ کے علاقے میں پراسرار اور زور دار دھماکوں سے عمارتیں لرز اٹھیں اور سیاہ اور سرمئی رنگ کا دھواں پھیل گیا جبکہ 135 سے زائد افراد ہلاک اور 4000سے زائد زخمی ہوگئے۔ خبر ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق لبنانی حکام کا کہنا تھا کہ دھماکے بندرگاہ کے علاقے میں ہوئے جہاں کئی گوداموں میں دھماکا خیز مواد رکھا جاتا ہے۔ تاہم خیال کیا جارہا ہے کہ دھماکے کی وجہ کچھ اور ہے لیکن لبنانی حکام اسے چھپا رہے ہیں کیونکہ ایسی خوفناک تباہی صرف میزائل حملوں کی صورت میں ہی ممکن ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ دھماکہ شہر میں بندرگاہ والے علاقے میں ہوا تاہم اس دھماکے کی فوری طور پر وجوہات سامنے نہیں آئیں۔لبنانی وزیراعظم نے کہا ہے کہ یہ ناقابل قبول ہے کہ ویئر ہاؤس میں 2750 ٹن امونیم نائٹریٹ موجود تھا۔انھوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پیغام میں لکھا کہ ’میں تب تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک مجھے اس واقعے کے ذمہ دار کا نہ پتہ چل جائے تاکہ اس کا محاسبہ کیا جائے اور بہت سخت سزا دی جائے۔‘

اس سے قبل لبنان کے سکیورٹی چیف کا کہنا تھا کہ یہ دھماکہ اس علاقے میں ہوا ہے جہاں بڑی تعداد میں بارودی مواد موجود تھا۔حکام کا الزام ہے کہ یہ مواد چھ سال سے یہاں پڑا ہوا تھا۔ملک کے صدر نے دفاعی کونسل کے اجلاس میں دو ہفتوں کے لیے دارالحکومت میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز دی ہے جبکہ کابینہ کا اجلاس بدھ کو طلب کر لیا گیا ہے اور آج سےملک میں تین روزہ سوگ منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔صدر نے 66 لاکھ ڈالر کا ایمرجنسی فنڈ بھی قائم کیا ہے۔

جائے وقوعہ سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں دھماکے سے پہلے آگ اور دھویں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ ہسپتالوں میں مریضوں کی ایک بڑی تعداد پہچائی گئی ہے اور بہت سی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ جہاں سے بھی گزر رہے تھے وہاں شیشے اور تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ تھا۔ وہاں لاشیں موجود ہیں اور بہت نقصان ہوا ہے۔صحافی محمد نجیم نے بتایا کہ جب دھماکہ ہوا تو وہ گیارہوں منزل پر موجود تھے۔’شیشے ٹوٹ گئے، میں نے دو بڑے دھماکوں کی آواز سنی میں سمجھا کہ عمارت زمین بوس ہو رہی ہے۔ میں بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں ٹھیک ہوں لیکن میرے پاؤں سے تھوڑا سا خون نکل رہا ہے۔ یہ سب مجھے سنہ 2000 کی یاد دلا رہا ہے جب اسرائیل لبنان پر بمباری کر رہا ہے اور میں وہیں متاثرہ علاقے کے قریب موجود تھا۔ اور میں سمجھا تھا کہ میں مرنے والا ہوں ایسا ہی میں نے آج بھی محسوس کیا۔


ایک عینی شاہد لعیت بلاؤت نے بتایا کہ دھماکے کے بعد ’ہر کوئی زمین پر گر گیا۔ مجھے یاد ہے میں نے جب آنکھیں کھولیں تو زمین پر مجھے دھول اور تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ دکھائی دے رہا تھا۔ یہ سب اس مال میں اڑ رہا تھا جہاں ہم لوگ موجود تھے۔ اور پھر اچانک شیشے ٹوٹ گئے اور ایسے الارم بجنا شروع ہوئے جیسے جنگ کے وقت ہوتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ مال کے مرکزی دروازے پر موجود شیشے بھی ٹوٹ گئے اور فرش پر خون تھا۔ وہاں پارکنگ میں دھماکے کی شدت زیادہ تھی ہم نے دیکھا کہ ایک خاتون اس کی شدت سے کئی میٹر دور جا گری۔
ہادی نصراللہ دھماکے کے وقت ٹیکسی میں سفر کر رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ اچانک کچھ دیر کے لیے مجھے سنائی دینا بند ہو گیا۔ میں شاید دھماکے کے مقام کے بہت قریب تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ کچھ غلط ہوا ہے اور پھر گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے۔

صحافی سونیوا روس کا کہنا ہے کہ لبنان کی گلیوں میں ٹوٹے ہوئے شیشے اور تباہ عمارتوں کا ملبہ بکھرا پڑا ہے۔ اور ایمبولینسز کے لیے اس ملبے سے گزرنا مشکل ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بندرگاہ پہنچنے پر انھیں بتایا گیا کہ فوج کی جانب سے اسے بند کر دیا گیا ہے۔ فوج نے خبردار کیا ہے کہ جائے وقوعہ سے دور رہا جائے تاکہ ممکنہ طور پر مزید دھماکے سے نقصان نہ ہو۔انھوں نے بتایا کہ شام دیر تک آسمان پر سیاہ دھویں کے بادل تھے۔ پورا شہر سیاہی میں ڈوبا ہوا ہے۔ زمین پر چلنا مشکل ہو رہا تھا۔ لوگ زخمی تھے۔ میں نے 86 سالہ خاتون کو دیکھا جنھیں ایک ڈاکٹر طبی امدا دے رہے تھے۔ وہ اپنے گھر سے فرسٹ ایڈ باکس لے کر دوڑتے ہوئے باہر آئے۔ گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ پرانے طرز پر بنے گھروں کا ملبہ گلیوں میں پڑا ہوا ہے۔
بین الاقوامی برادری کی جانب سے لبنان میں ہونے والے دھماکے پر تشویش اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔یہ دھماکہ اس وقت ہوا ہے جب ملک کے سابق صدر رفیق حریری کے قتل کیس کا فیصلہ سنایا جانا ہے۔اقوامِ متحدہ کے ایک خصوصی ٹربیونل کی طرف سے جمعے کو فیصلہ سنایا جائے گا۔ سابق صدر حریری 2005 میں ایک کار بم دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے۔

ابتدائی طور پر سامنے آنے والی رپورٹس میں وزیر داخلہ نے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ دھماکہ بندرگاہ پر موجود دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے ہوا۔واضح رہے کہ ایمونیم نائٹریٹ متعدد مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن زیادہ تر اسے زرعی شعبے میں کھادوں میں استعمال کیا جاتا ہے اور آتشیں مواد کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔جب اسے آگ کے قریب لے جایا جائے تو یہ پھٹ جاتا ہے اور اس مرکب سے زہریلی گیسوں کا اخراج ہوتا ہے جس میں نائٹروجن آکسائیڈز اور ایمونیا گیس شامل ہیں۔چونکہ یہ آگ پکڑتا ہے اس لیے اسے محفوظ رکھنے کے لیے سخت اصول و ضوابط وضح کیے جاتے ہیں۔ اس میں یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ جہاں اسے محفوظ رکھا جائے وہاں آگ لگنے کا خطرہ نہ ہو اس کے علاوہ وہاں کوئی پائپ، اخراج کے لیے راستے نہ ہوں جہاں یہ جمع ہو سکے۔
113811807 846508eb 4b09 4491 9a5c 5a421965dcd2
عالمی برادری کی جانب سے اس واقعے میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان پر لبنانی حکومت اور عوام سے اظہار افسوس کیا گیا ہے۔برطانیہ، امریکہ، جرمنی، اسرائیل اور ایران کے حکام نے اپنے پیغام میں مدد کی پیشکش بھی کی ہے۔جرمن سفارتخانے نے اس واقعے میں اپنے سٹاف کے زخمی ہونے کی تصدیق ٹوئٹر پر کی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے امن مشن کے اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔یہ دھماکہ سائپرس سے 240 کلومیٹر کی دوری پر ہوا ہے۔اس سے قبل شہر میں ہونے والے دوسرے غیر مصدقہ دھماکے کی جگہ سابق صدر کا گھر بتایا گیا تھا۔
113805614 mediaitem113805613
خیال رہے کہ لبنان میں اس وقت سیاسی کشیدگی جاری ہے۔حکومت کے خلاف سڑکوں پر زبردست مظاہرے ہورہے ہیں۔ عوام موجودہ معاشی بحران سے نمٹنے کے حکومتی فیصلوں کے خلاف احتجاج کررہی ہے۔ 1975 سے 1990 تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے بعد لبنان میں آنے والا یہ بدترین معاشی بحران ہے۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت سرحد پر اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی سے بھی نمٹ رہی ہے۔ اسرائیل نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا کہ انھوں نے حزب اللہ کی طرف سے اسرائیلی سرحدوں میں گھسنے کی کوشش ناکام بنا دی۔
113805711 beirut
واضح رہے کہ سابق صدر رفیق حریری قتل کیس کا فیصلہ بھی رواں ہفتے سنایا جا رہا ہے. رفیق حریری سمیت 23 افراد فروری دو ہزار پانچ میں بیروت میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ اپنی گاڑی میں جارہے تھے۔ اس دھماکے میں زبردست مالی اور جانی نقصان ہوا۔ جس وقت یہ دھماکہ ہوا حریری اس وقت وزیر اعظم کے عہدے پر نہیں تھے بلکے ایک رکنِ پارلیمان تھے۔رفیق حریری کا تعلق ملک کے نامور سنّی سیاست دانوں میں سے تھا۔ ان کی موت جس وقت ہوئی اس عرصے میں وہ شام کی طرف سے ملک میں 1976 سے تعینات کیے گئے فوجیوں کے انخلا کا مطالبہ کررہے تھے۔ان دھماکوں کے بعد اس وقت کی شام نواز حکومت کے خلاف زبردست مظاہرے ہوئے اور الزام سرحد پار ہمسایوں پر لگایا گیا۔ دو ہفتے کے اندر اندر حکومت مستعفی ہوگئی اور شام نے اپنی فوج کو واپس بلا لیا۔2007 میں اقوام ِمتحدہ نے ایک خصوصی ٹربیونل تشکیل دیا اور حزب اللہ کے چار اراکین پر قتل، دہشت گردی اور شدت پسندی کی فرد جرم عائد کی گئی۔حزب اللہ نے اس مقدمے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ سیاسی طور پر غیر جانبدار نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button